Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 03 July 2006 10:44 (PST)اشاعت

کیا القائدہ ہی اسلام ہے؟ بش مخالف خبروں پر خوشی

ودود ساجد

اردو سروس ڈاٹ نیٹ نیہ دہلی

ایک جانب زرقاوی کی دہشتگردی کی مذمت ، دوسری جانب اسے شہید قرار دینا ہندوستانی  اردو میڈیا کی خیانت ہے

بلاشبہ اسلامی تعلیمات اور پوری اسلامی تاریخ خاص طور پر تاجدار مدینہ کی حیات مبارکہ کی روشنی میں اسامہ یا زرقاوی اصل اسلام نہیں ہوسکتے

ایسی صورت میں تاجدار مدینہ کی تعلیمات

کیا القائدہ ہی اسلام ہے ؟ کا پہلا حصہ پڑھنے کےلیئے کلک کریں

 کو چھوڑ کر اگر ہم زرقاوی کی ہلاکت پر بے بنیاد تبصرے پڑھ پڑھ کر اپنے ایمان کو حرارت بخشتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان دہشت گردی کی تائید کرتے ہیں؟ یہ تسلیم ہے کہ عالمی دہشت گردی فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہے لیکن اسلام میں جب دہشت گردی کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں تو اس کی تائید کے کیا معنی ہیں

 زرقاوی کی ہلاکت پر شائع ہونے والے مضامین اور ان کی یہ سرخیاں (1)زرقاوی مر گیا مگر جہاد زندہ ہے، ایک قائد کی موت عراق میں جہاد کو سرد نہیں کرسکے گی (2شہزادے کا جانشین کون؟(3) کیا زرقاوی واقعی مرگیا (4) زرقاوی حقیقت یا ہوّا؟ (5)شہادت، جہادی کی شادی (6)زرقاوی کی موت القاعدہ کے لئے جھٹکا؟ (7)صحافی سے جہادی تک کا سفر زرقاوی کی زندگی کی بندگی آخر مسلمانوںکو کیا سمجھانے کی کوشش ہے

ان تمام مضامین میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر کچھ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جیسے ہندوستان کے مسلمان، جہاد کے نام پر جاری قتل و غارت گری کے حامی ہیں اور جیسے زرقاوی یا اس کی قبیل کے کچھ لوگ اسلام کے لئے جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کو ان کی شہادت پر فخر ہے اور جیسے وہ قتل و غارت گری اور خود کش دھماکوں پر خوش ہوتے ہیں

مسلمان غور کریں کہ آخر اس طرح کے مضامین کو دلچسپی کےساتھپڑھ کر وہ کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ ایسے اخبارات اور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرکے اسلام کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں؟ مسلمان سوچیں کہ وہ خود اپنی کیسی تصویر پیش کر رہے ہیں؟ یہ کون سا اسلام ہے کہ ایک طرف تو دہشت گردانہ واقعات کی مذمت میں بیانات کے انبار اور دوسری طرف زرقاوی، اسامہ اور دوسرے دہشت گردوں کو ہیرو بنانے کی شعوری اور لاشعوری کوشش؟

نئی دہلی کے اسی زیربحث ہفت روزہ نے ایک مضمون مزید تحریر کیا ہے کہ ”مسلمان امریکہ جائیں تو بے عزت ہونے کو تیار رہیں“ ہندوستان کے معروف روزنامہ اور ہفت روزہ  اور اردو میڈیا کس طرح خبریں اور تبصرے گڑھ کر شائع کرتا ہے، کس طرح ہندوستانی مسلمانوں کو بے وقوف بنایا جا رہاہے۔مسلمانوں کو اس طرح کی صحافت سے ایک عظیم خسارہ ہوچکا ہے لیکن مسلمان خوش ہیں کہ ان کے اور اسلام کے بدترین دشمن امریکہ اور اس کے صدر کو لعن و طعن کی جارہی ہے

آخر کب اس رجحان کو بدلا جائے گا؟ ایک عرصہ سے یہ شور مچایا جارہا ہے کہ ہندوستانی مسلمان ناخواندہ اور جاہل ہیں، تجزیہ کیجئے کہ کیا ان شور مچانے والوں نے مسلمانوں کی ناخواندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھایا؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو مختلف تنظیموں سے وابستہ ہیں اور جو تعلیم گاہوں پر بھی قابض ہیں، لاکھوں کروڑوں کے چندے وصول کرتے ہیں مگر مسلمانوں سے دور بھاگتے ہیں، دہلی میں مسلمانوں کےایک عظیم ہمدرد انسان کی قائم کی ہوئی ایک یونیورسٹی پر سی آئی اے، موساد اور برطانیہ کے ایجنٹوں کا قبضہ ہے،انکی اولادیں ہی تمام تر مراعات حاصل کرتی ہیں، وہی پڑھتی لکھتی ہیں اور وہی آگے بڑھتی ہیں

ایک عظیم ہمدرد مسلمان کے ذریعہ قائم کردہ ایک پبلک اسکول کو ایک عدد مسلمان پرنسپل نہیں ملتا، اسے بھی امپورٹ کرکے جنوبی ہند سے لایا جاتا ہے

غریب مسلمانوں کے ساتھ ان اداروں میں جو سلوک ہوتا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ایسے میں جب عام مسلمانوں پر تعلیم کے آسان دروازے بند کر دئے جائیں گے اور ان کو اسامہ اور زرقاوی کے جذبہ شہادت کی داستانیں پیش کی جائیں گی تو بھلا وہ کیسے ان داستانوں کی صداقت کو پرکھنے کی جرات کریں گے؟

صداقت کو پرکھنا تو دور انہیں صداقت پر شبہ ہی نہیں ہوتا، وہ نعوذ باللہ ان داستانوں کو لاشعوری طور پر وحی الٰہی کا درجہ دے دیتے ہیں۔آخری سطور میں تیسری خبر کا ہلکا سا ذکر مقصود ہے

گستاخ رسول کوئی بھی ہو، مسلمان اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتے، کرنا بھی نہیں چاہیے اس لئے کہ یہی تو ہمارے ایمان کی دولت ہے۔ یہ اگر ختم ہوگئی تو ان میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا گستاخ رسول کی صرف اتنی سی ہی سزاہونی چاہیے کہ وہ اپنی خواب گاہ میں خاموشی کے ساتھ جل مرے؟ کیا مسلمان خدا کے نظام عذاب پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا مسلمان نہیں سمجھتے کہ اب قوم لوط کی طرح عذاب نہیں آئے گا بلکہ سزا و جزا کا فیصلہ اب قیامت برپا ہونے کے بعد ہی ہوگا؟ کیا مسلمانوں کو محض اس پر اطمینان حاصل ہوگیا کہ گستاخ رسول جل مرا؟ کیا مسلمان اس کو ابدی عذاب میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہیں گے؟ پھر کیوں وہ اس خبر پر اتنے پرجوش ہیں؟ حالانکہ ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے

ڈنمارک کے اس مردود و لعین اخبار کی انتظامیہ نے بھی وضاحت کی ہے کہ جس نام کے فرد کی جل کر مر جانے کی خبر عام ہوئی ہے اس نام کا کوئی ایڈیٹر اس اخبار میں کام ہی نہیں کرتا

ممکن ہے کہ مسلمانوں کی سب سے بلند آواز ہونے کا دعویٰ کرنے والا کوئی ہفت روزہ اس خبر پر بھی خصوصی مضامین شائع کرے لیکن مسلمان خود اپنا بھی احتساب کریں

 کیا واقعی وہ تاجدار مدینہ سے محبت کے تمام تقاضے پورے کرتے ہیں؟ کیا واقعی وہ فرائض و سنن پر مکمل عمل کرتے ہیں؟ کیا وہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کا خیال رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر انہیں تاجدار مدینہ سے محبت کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، انہیں گستاخ رسول کی مبینہ عبرتناک موت پر بھی خوش ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں

اس لئے کہ اصل اسلام یہ نہیں ہے، اصل اسلام وہ ہے جو تاجدار مدینہ نے اپنے قول و فعل سے ظاہر کیا

اسلام القاعدہ اور اسامہ نہیں ہے، اسلام وہ الامین اور الصادق ہیں جن کے لئے کون و مکان کی تخلیق ہوئی ، کیا مسلمان اب بھی اپنی روش پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں؟

( کیا القائدہ ہی اسلام ہے ۔ دوسرا آخری حصہ ختم ہوا)

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات