|
کسی میں بھیڑ ِ،بکری کی طرح پالی
گئی ۔لیکن حضور کا مہربان وجود اس دربدر ٹھوکریں کھاتی اور زندہ
درگور ہوتی عورت کے لئے محسن اعظم بن کر اسکی زندگی لئے خوشیوں
کی نوید لے کر آیا
حضور کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں عورت
اپنے ہر روپ میں انکی زندگی میں بھر پور کردار ادا کرتی نظر آتی
ہے ۔انکے والد ان کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل ہی دنیا سے رخصت
ہو گئے اور ان کی والدہ محترمہ بی بی آ منہ کا تذکرہ ملتا ہے اور
حضور نبی کریم انھیں یاد فرمایا کرتے تھے
ان کی رضاعی والدہ بی بی حلیمہ سعدیہ کا
ذکر خیر ہمیں سیرت کی کتابوں میں تفصیلاََملتا ہے جبکہ رضاعی
والد کا سرسری تذکر ہ ہوا ہے ۔ان کی رضاعی بہن حضرت شیما کے
واقعات بھی بیان ہوئے ہیں ۔پھر حضرت خدیجہ ان کی زندگی میں آئیں
جنہو ں اپنی وفا اور محبت کی ایسی لازوال داستان رقم کی ہے کہ
حضور آخر وقت تک انکی یاد میں غمزدہ ہو جایا کرتے تھے
پہلی مسلمان ہونے کا شرف حضرت خدیجہ کی
وجہ سے ہر مسلمان عورت کا افتخار ہے حضور کو ایسی ڈھارس اور تسلی
دی کہ نبوت کی پہلی گواہ بن کر فخر اور وقار کا مقام حاصل کیا ۔
اپنے تن ، من اور دھن تینوں کو کار نبوت میں کھپا دیا
حضور کو اولاد کی نعمت سے سر فراز کیا
۔حضور کے ساتھ پہلی نماز خانہ کعبہ میں جا کر پڑھی۔ان کی وفات کے
بعد حضو ر کی زندگی میں حضرت عائشہ تشریف لائیں جنکی ہمہ پہلو
تربیت میں خود حضور نے ذاتی دلچسپی لی اور امُت کے لئے ایک عظیم
قانون ساز اُم المومنین کی صورت گری کی
ایک تہائی دین اسی عظیم عالمہ با عمل
خاتون کی وجہ سے اُمت کے علم میں آیا ۔بڑے مشکل ادوار میں حضر ت
عائشہ نے اُمت کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا ۔حضور نبی کریم
کو اولاد نرینہ نہیں عطا کی گئی مگر ا نکی بیٹی حضر ت فا طمہ کے
توسط سے انکی صلبی نسل بھی پروان چڑھی
حضو ر نے ایک ایسی ٰبیٹی کی تربیت کی کہ
وہ آج خاندان کے ادارے اور امومت کی شان کے حوالے سے دنیائے عالم
کی خواتین کی صف میں امام بن کرکھڑی ہیں ۔انھوں نے اپنے معاشرے
کی دیگر خواتین کی بھی ایسی پذیرائی کی کہ ایک راہ چلتی لونڈی
بھی حضور سے سوال جواب کرتی ، بڑی بوڑھیاں بحث و تمحیص کرتیں
حضرت اسماءبنت ابی بکرحضو ر کے ہجرت کے
سفر میں کھانا پہنچاتی اور دیگر احوال کی بھی راز داری سے زمہ
داری ادا کر تیں ۔سب سے پہلے جان کی گواہی دینے کا اعزاز بھی ایک
عورت حضرت سمیہ کو ملا جنکو اسلام کی راہ میں سب سے پہلے شہید
کیا گیا
حضرت خدیجہ ،عائشہ اور فاطمہ کی بیٹیاں آج
بھی حضو ر کی سنت کی پیروی میں اپنا کردار ایسے ہی ادا کر رہی
ہیں کہ جیسے یہ روایت ان عظیم خواتین نے آج تک کی عورت کو ا پنے
کر دار و عمل سے پہنچائی ۔موجودہ حالات میں حضور نبی کریم کی
ناموس حفاظت کے لئے ویسا ہی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ
جنگ اُحد میں حضرت اُم عمارہ نے ادا کیا کہ حضور فرما اٹھے کہ
اُحد کے دن میں جس طرف دیکھتا تھا اُم عمارہ میری حفاظت میں ڈھال
کی طرح کھڑی نظر آتیں
حضور نبی کریم سے صرف محبت نہیں بلکہ ٹوٹ
کر عشق کرنا مطلوب ہے کہ فرمایا گیا لَا یُومِنُ اَحَدُکُم
حَتَّی اَکُونَ اََحَبَّ اِلَیہِ مِن وَالِدِہ وَ وَلِدِہِ
وَالنَّاسِ اَجمَعِِین ترجمہ: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن
نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اُسکے باپ ، بیٹے اور سب انسانوں سے
زیادہ محبوب نہ ہو جاوں ۔ اور جس سے محبت اور عشق ہوتا ہے اُسے
یاد کیا جاتا ہے اور جسے یاد کیا جاتا ہے اس سے محبت ہو ہی جاتی
ہے
ہمیں بھی حضور نبی کریم کی کھوئی ہوئی اور
گم کردہ سنتوں کو بازیاب کرکے اپنی زندگیوں کو طوقوں اور بوجھوں
سے نجات دلا کر زنجیروں سے آزاد کرانا ہے کہ وہ ہمارے پاس بھیجے
ہی اسی لئے گئے تھے کہ معاشرے میں سکون اور خوشیاں بکھیر دیں ،
حلال اور پاکیزہ چیزوں کو رواج دے کر حرام اور خبیث اشیاءکو
ہماری زندگیوں سے نکال باہر کریں آسانیاں پیدا کریں اور مشکلات
اور تنگی سے نجات دلا دیں اور خوشخبریاں بانٹیں اور نفرتوں کو
ختم کر دیں قرآن کریم اللہ اور اسکے رسول سے محبت کا سب سے
خوبصورت ذریعہ ہے اور اسی لئے یہ نعرہ آج کل بڑا مقبول ہے
کہ:آزادی کے تین نشان اللہ ،محمد اور قرآن ۔یہی محبت اُمت کی
شیرازہ بندی کا ذریعہ ہے ۔نفسا نفسی ،مادہ پرستی ،وطن پرستی اور
عصبیت کے اس پرفتن دور میں اُمت کے متحد ہونے کی صورت یہی محبت
ہے
ایک صوفی کا قول ہے کہ حضو ر سے ایسی محبت
کر و کہ محبت عشق میں اور عشق دیوانگی میں بدل جائے اور جب انسان
اس مقام پر پہنچ جائے تو وہ دنیا میں بڑے سے بڑا کام سر انجام دے
سکتا ہے ۔ سلام اس پر کہ جسکے پریشاں حال دیوانے سنا سکتے ہیں اب
بھی خالدو حیدر کے افسانے
ا گرچہ آج مسلمان عورت کو چاروں طرف
تاریکی ہی تاریکی نظر آرہی ہے ۔ہم اُمت کے زوال کے بد نصیب دور
میں رہ رہے ہیں مگر اللہ نے قرآن میں وعدہ کیا ہے اور اس سے سچی
بات کس کی ہو سکتی ہے کہ یُرِیِدُونَ اَن یُطفِئُوا نُورَ اللّہِ
بِاَفوَاھِھِم وَاللّہُ مُتِمُّ نُورَہُ وَ لَو کَرِہَ الکَا
فِرون ترجمہ: یہ کافر لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو
بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو
پورا پھیلا کر رہے گا ۔ اگرچہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی نا گوار
کیوں نہ ہو ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا اتمام کرنا ہی کرنا ہے۔
ہم ایمان با لغیب پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں ہمیں یقین ہے کہ جب
اسکی ”کُن “کا حکم آجاتاہے۔ تو سب زمینی حقائق زمین بوس ہو جاتے
ہیں ۔اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ اسکے نو ر کی دو مثالیں
سورج اور چاند کائنات میں روزانہ یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہماری ایک
کرن کو پھیلنے سے تو روک نہیں سکتے کجا کہ اللہ کے نور کو بجھا
دو ؟
اس لئے حضور نبی کریم سے عشق اور
محبت اور عقیدت کا تقا ضا ہے کہ ہم انکی سب سے بڑی سنت کو زندہ
کریں اور وہ ہے کہ انکے لائے ہوئے دین ، انکے کلمے کا جھنڈا اور
عَلم سر بلند کرنا
دین اور دنیا کے اس فرق کو اُسی طرح مٹا
دیں جسطرح سے حضور نے مٹایا تھا انھوں نے دین کو دنیا میں زندگی
بسر کرنے کا سلیقہ کہا تھا ۔ انھوں نے حرا کی خلوت سے اپنی فکر
کی آبیاری کی اور اتر کر قوم ،حکومت اور آئین بنایا یہی ہماری
سیاست ہے یہی ہمارا دین ہے کیونکہ یہ سنت نبوی ہے ۔ اسلام کی
دشمن قوتوں نے دین اور دنیا کو الگ الگ کرنے اور مسلمانوں کو
تقسیم در تقسیم کرکے انکی قوت کو خاک میں ملانے کی گھناونی سازش
تیار کی اور امت کے بالادست طبقے کی اکثریت کو اس منصوبے کو نافذ
کرنے کا فریضہ سونپا مگر الحمدللّہ شرق وغرب سے ایک ایسی امت
نمودار ہو رہی ہے جس نے حضور نبی کریم کی سنت کو اپنا حرزجاں بنا
لیا ہے انھیں علم ہے کہ اسلام دشمن قوتوںکو اصل خطرہ اب سیاسی
اور ریڈیکل اسلام سے ہے ۔اس بات کا اشارہ علامہ اقبال اپنی مشہور
نظم ابلیس کی مجلس شورٰی میں بھی کرتے ہیں
آپ بھی اردو سروس
کےلیئے اپنی تحریریں ارسال کر سکتے ہیں |