Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 21 May 2006 15:48 (PST)اشاعت

پاکستانی عوام اب سیانی ہوگئی ہے

عمران الحق

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

بے نظیر اور نواز شریف کے درمیان سمجھوتے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا

سیاسی کھیل انتہائی دلچسپ ہو چکا ہے۔اپوزیشن آخر کار حرکت میں آتی دکھائی دے رہی ہے۔اگرچہ”دیر آئے درست آئے“۔اپوزیشن اپنی کوتاہیوں اور خامیوں پر قابو پا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔14مئی کو نواز شریف اور

 بے نظیر نے میثاق جمہوریت پر دستخط کردئیے ہیں اور اس معاہدے کو پاکستان کی تمام بڑی جماعتوں(چاہے اپوزیشن کی ہوں یا حکومت کی) کوبھی بھیجنے کا عندیہ دیاہے

دونوں سابق وزرائے اعظم اس بات پر متفق تھے کہ الیکشن سے پہلے وہ پاکستان ضرور جائیں گے اور الیکشن میں حصہ لیں گے۔اسکے لئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنرل صاحب الیکشن سے پہلے عبوری حکومت کے قےام کو یقینی بنائیں مزید یہ کہ اگر الیکشن جنرل صاحب کی موجودگی میں ہوتے ہیں تو اے آر ڈی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی

اگر اس بیان کو دوسرے لفظوں میں دیکھا جائے تو اے آر ڈی الیکشن کے بائیکات کا راستہ اختیار کرتی نظر آتی ہے اور اگر اس قسم کا کوئی بھی فیصلہ اے آر ڈی کی طرف سے مستقبل قریب میں ہوتا ہے تو یقیناً اس کا تمام فائدہ حکمران لیگ کو ہوگادوسری طرف ایم ایم اے جو پہلے ہی ستمبر میں تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہے اور اس کے لئے ابھی سے رائے عامہ ہموار کرنے کی تیاریاں کرتی نظر آرہی ہے

اس سلسلہ میں میں اپنے تمام قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ ایم ایم اے نے اس تحریک میں شرکت کی دعوت اے آر ڈی کو بھی دی تھی جبکہ حالیہ 14مئی کے میثاق جمہوریت کیس میٹنگ میں اے آر ڈی نے یہ کہہ کر تحریک میں شمولیت نہ کرنے کا اشارہ دیا ہے کہ ابھی حاکم وقت کی جماعت کے خلاف تحریک چلانے کا صحیح وقت نہیں آیا

اس ضمن میں یہ بھی میں بتاتا چلوں کہ جب قاضی حسین احمد کی صدارت میں ایم ایم اے کا ایک غیر معمولی اجلاس پروفیسر ساجد میر کے ہاں ہوا اور اس اجلاس میں تحریک کا باضابطہ اعلان کیا گیا تو اس تحریک میں تحریک انصاف سمیت اے آر ڈی نے بھی شمولیت کا نہ صرف اعلان کیا تھا بلکہ قاضی صاحب کو ےہ مشورہ بھی دیاتھا کہ قاضی صاحب قدم بڑھائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں یعنی قاضی صاحب کو ایک مرتبہ پھر ایکشن کرناہوگا

اُس وقت امین فہیم کی جانب سے قاضی صاحب کو یہ مشورہ دینا سب حلقوں میں خاص کر ان سیاسی حلقوں میں جو ایم ایم اے کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں بڑی تعجب کی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ پیپلز پارٹی ایک لمبے عرصے تک حکمران لیگ کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کرکے اقتدار کے خواب دیکھ چکی تھی مگر ہر بار وہ ارکان جو ق لیگ میں شمولیت اختےار کر چکے تھے اس جماعت کو چھوڑ کر،راہ کی رکاوٹ بنے رہے

جبکہ دوسری طرف شیخ رشید کا رویہ بھی ان کے خلاف خاصا جارحانہ رہاتھا۔اب جبکہ میثاق جمہورےت پر دستخط ہوچکے ہیں اور یہ دونوں بڑی جماعتیں کم از کم مشرف کے خلاف ایک پلیٹ فارم کو استعمال کرنے پر رضا مند ہو گئی ہیں جبکہ ایم ایم کے صدر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت پر دستخط ہی سب کچھ نہیں بلکہ اصل کام تو تب شروع ہوگا جب یہ دونوں رہنما پاکستان آکر اسکا عملی مظاہرہ کریں گے

انہوں نے اپنی ایک پریس کانفرنس جو منصورہ میں کی گئی تھی میں تحریک کے اور اے آر ڈی کی عدم دستیابی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے کہا کہ اگرہماری تحریک میں اے آر ڈی شامل ہوتی ہے تو اُس کو خوش آمدید کہا جائے گا اور اگر نہیں تو پھر بھی ہماری تحریک اٹل ہے اور یہ ستمبر میں شروع ہو کر رہے گی

قاضی حسین احمد کے بارے میں مشہور ہے کہ دھرنے اُن کی مٹھی میں بند ہوتے ہیں جب وہ مٹھی کو کھولتے ہیں تو حکمرانوں کو گھروں کی راہ دکھا دیتے ہیں

قاضی حسین احمد اگرچہ پہلے ہی سے تحریک کا اعلان کرتے چلے آرہے ہیں اور ستمبر میں تحریک کو اٹل قرار دے رہے ہیں جس کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں مگر سب میں جو بات مناسبت رکھتی ہے وہ یہ کہ قاضی صاحب اس طرح حکومتی صفوں میں ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

حالیہ کابینہ میں تبدیلی اور حکمران لیگ میں اختلافات میں شدت اس بات کا ثبوت ہے کہ قاضی صاحب بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں

جبکہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی قاضی صاحب کی تحریک میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے

آنے والے چند مہینے سیاسی سیاق و سباق کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ملک میں ایک مرتبہ پھر سے سیاسی دھڑے متحرک ہوتے نظر آرہے ہیں۔سےاسی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے

جنرل صاحب نے دو سال بعد صدارتی چیمبر کو بھر سے بحال کردیا ہے اور اس چیمبر کی رونقیں پھر سے نظر آرہی ہیں

حکمران لیگ کے ارکان جوق در جوق مشاورتوں اور صلاح مشوروں میں شریک ہورہے ہیں۔آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے،الیکشن کی تیاریاں اور رنگینیاں شروع ہونے کو ہیں۔حکمران لیگ کی تنظیم سازی جو گذشتہ کئی مہینوں سے جاری تھی اگست میں مکمل ہونے جا رہی ہے

اس سلسلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی یونین کونسل کو50لاکھ روپے بطور انعام دےنے کا وزیراعلیٰ پنجاب اعلان پہلے ہی کرچکے ہیں

سیاسی حلقوں سے ہٹ کر ہم عوامی حلقوں کی طرف سے اس ساری صورتحال کو دیکھیں تو سارا کا سارا منظر ہی عجیب سا لگتا ہے۔میثاق جمہوریت کی اگر ہم اس حوالے سے بات کریں تو ایک مقروض ملک کے امیر ترین رہنماوں کے لندن کے امیر ترین علاقے میں ہونے والے معاہدے پر عوام میں بہت سے خدشات پائے جاتے ہیں کیونکہ ماضی میں ایک دوسرے کی حکومتوں کوکو گرانے کے لیے ملٹری کو دعوت دینا،فوجی حکومت کی آمد پر مٹھائی تقسیم کرنا اور نجانے اس قسم کے اور کتنے الزامات ان کے کرداروں پر دھبہ ڈالے ہوئے ہیں

عوام ہمارے عہد کی اب سیانی ہو چکی ہے۔آزاد میڈیا نے سب کچھ اوپن کرکے رکھ دیا ہے۔اب عوام جانتی ہے کہ کون چور دروازے کو اختیار کرتے ہوئے ایوان بالا کے خواب دیکھتا ہے اور کون عوام کی خاطر سڑکوں پر نکلتا ہے۔عوامی ایشووں پر ماریں کھاتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے ٹوٹتے ہوئے کرداروں پر نظر ڈالیں تو یہاں ہمیں تمام صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے

خیر یہ تو الیکشن ہی بتائے گا کہ ان کرداروں کا حکمران لیگ کو کیا فائدہ حاصل ہوتاہے

کراچی کی صورتحال میں ایم کیو ایم کی حکومت کر جہاں دیو کی ماند منہ کھولے مسائل درپیش ہیں تو وہاں امن و امان کی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر مصطفیٰ کمال کی جڑوں تک کو ہلا کر رکھ دیا ہے

حالیہ ایم ایم اے کی کال پر ہونے والی ہڑتال بلاشبہ ایک کامےاب ہڑتال تھی۔کیونکہ زندگی کا پہیہ جام ہوکر رہ گیا تھا جو کہ کراچی کی عوام کا ان دہشت گردوں کی حکومت کے خلاف ایم ایم اے کے ساتھ اظہار یکجہتی کا منہ بولتا ثبوت ہے

یہی وجہ ہے کہ کراچی کی عوام آج بھی نعمت اللہ خان کو نہیں بھولے وہ آج بھی ایسے ہی محنتی اور دیانت دار رہنما کا انتظار کر رہی ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات