|
اٹھتی ہے ور دعائیں کرتی ہے
اولاد میں سے کوئی ایک بھی بھوکا ہو تو
ماں بے قرار ہو جاتی ہے اور بچہ پیٹ بھر لے تو کیسی طمانیت ہوتی
ہے
یہ تو اب احساس ہوا کہ بچے کی محبت کیا
جذبہ ہے جو ہر رات اسے بے چین رکھتا ہے، جگائے رکھتا ہے۔ مگر وہ
کسی سے گلہ نہیں کرتی۔ یہ ممتا ہی ہے جو اسے ساری ریاضتیں کرنے
پر آمادہ رکھتی ہے۔ماں تیری عظمت کو سلام۔ماں پیدائش اور رضاعت،
دو ایسے امور سرانجام دیتی ہے جو کوئی مرد یعنی باپ نہیں سرانجام
دے سکتاہے
حضرت ابراہیم جب اپنی بیوی کو لے کر نکلے
اور مکہ پہنچے تو حضرت حاجرہ کی گود میں حضرت اسماعیل ننھا بچہ
تھا۔ آج سے چودہ سو سال پہلے بے آب گیاہ وادی تھی۔ کوئی بشر وہاں
نہ تھا۔ حضرت حاجرہ کو چھوڑ کر حضرت ابراہیم نے واپسی کی راہ لی
تو بیوی نے پکارا۔ جواب نہ ملا، پھر پکارا اور خود ہی سوال کر
لیا کہ کیا رب کا حکم ہے
شوہر نے صرف سر ہلا کر اثبات میں جواب دیا
تو نیک بیوی نے کہا اچھا ایسا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ ہمارا رب ہمیں
ضائع نہیں کرے گا۔اب ننھا بچہ بھوک اور پیاس سے جو ایڑیاں رگڑنے
لگا تو سمجھ نہ آیا کیا کروں۔ دوڑ کر صفا پر چڑھ گئیں کہ شاید
کوئی بندہ بشر نظر آئے یا کھانے کا کوئی سامان ملے یا پینے کو
پانی ملے۔ کوئی شے نہ پا کر واپس آئیں۔وہی آواز کانوں سے ٹکرائی
تو پھر بھاگ کر مروہ کی پہاڑی پر چڑھ گئیں۔ کچھ نہ پا کر لوٹیں۔
تو بے قراری سے پھر صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئیں
یوں سات چکر لگائے اور اسی اثنا میں کیا
دیکھتی ہیں کہ جہاں بچے کی ایڑیاں ہیں وہاں سے چشمہ ابل پڑا ہے۔
وہیں سے آواز دی زم زم۔ رک جا۔ چشمہ رک گیا۔ آج تک وہ زم زم کا
کنواں ہے۔ مگر پوری دنیا کو سیراب کرنے والا پانی، اور اس ماں کی
ممتا کے لئے تڑپ اور بچے کے لئے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ
کے درمیان کی سعی کو حج کا لازمی رکن بنا دیا گیا
سعی حاجرہ عورتوں اور مردوں کے لئے لازمی
قرار پائی۔ گویا ایک ماں کی اپنے بچے کی پرورش کے لئے دوڑ دھوپ
کو اللہ تعالی نے ایسا اعزاز بخشا اور ہمیشہ کے لئے اسے تسلیم
کرایا اور حج اور عمرہ میں دوڑا کر مرد عورت سے اس خدمت کا
اعتراف کرایا۔ ماں تیری عظمت کو سلام۔ایک مقدمے میں دو مائیں،
قاضی کی عدالت میں پہنچیں کہ بچہ میرا ہے۔ قاضی کے اصل صورت حال
پتہ لگانے کے لئے حکم دیا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو آدھا
آدھا دے دیا جائے
ماں کی ممتا تڑپ اٹھی اور ایک عورت چیخ
اٹھی، آدھا نہ کریں دوسری عورت کو دے دیں۔ اور یوں فیصلہ ہو گیا
کہ اصل ماں کون ہے
حضور نے ایک صحابی سے فرمایا ”کیا ماں
اپنے بچوں کی آگ میں ڈال سکتی ہے۔“ صحابی نے کہا نہیں تو حضور نے
فرمایا کہ اللہ جو ستر ماں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے پیار کرنے
والا ہے، کیونکر اپنے بندوں کو بغیر قصور کے دوزخ میں ڈالے گا ،
ماں تیری عظمت کو سلام
ماں کے بچوں کے ساتھ ان تمام مراحل میں
شوہر معاون رہتا ہے۔ کفالت، بیوی اور بچوں کی رہائش، لباس اور
کھانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ فقہا بتاتے ہیں کہ اگر گنجائش
ہو تو بیوی کو نوکر کا انتظام کر کے دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
ماں کے لئے جائز تفریح کا انتظام کرتے رہنا بھی اس کے کاموں میں
سے ایک کام ہے۔ اس کی مثال ہادی و راہنما حضرت محمد صلی اللہ
علیہ و سلم نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا تماشہ دکھا کر چھوڑی ہے
محبت سے اس کی دلجوئی کی بھی تلقین کر دی
کہ یہی گھر کے سکون کی بنیاد ہے۔ باہم محبت و الفت اور تقسیم کار
ہی اس گھر کے بچوں کے لئے بہترین تربیت کا مقام بناتا ہے اور ماں
کی اس کٹھن ذمہ داری کو سہل بناتا ہے۔اگر شوہر بار اٹھانے کے لئے
زندہ نہ رہے تو درجہ بدرجہ دیگر رشتہ دار، ماں کے ساتھ یہ بار
اٹھانے والے بنیں گے
رشتہ دار بھی نہ ہو تو اسلام حکومت
وقت کو اس ماں کی کفالت کا پابند بناتا ہے۔ کہ وہ اس بیوہ و بے
سہارا عورت اور یتیم بچوں کی کفیل بنے۔ ان کے وظائف مقرر کرے۔
نوکری اس کی مجبوری نہ ہو۔شوہر طلاق دے دے یا عورت خلع حاصل کر
لے، زندگی کا یہ ساتھ بھی نہ نبھے، تو بھی باپ کی یہ ذمہ داری ہے
کہ وہ بچوں کی کفالت کرے۔ ماں پر یہ بوجھ نہیں ہے کہ وہ ان کی
دیکھ بھال بھی کرے اور ملازمت کر کے یا بھیک مانگ کے ان کے لئے
اخراجات کا بھی انتظام کرے
مغرب کی ماں کا یہ بڑا المیہ ہے اور وہ
قابل رحم ہے کہ جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے آزدانہ اختلاط نے بہت
بڑی تعداد میں کنواری مائیں معاشرے کو دیں۔ نکاح ایسا مشکل اور
غیر ضروری فعل بنا دیا گیا کہ اس ضابطے کی پابندی پر طبیعتیں
مائل ہی نہیں ہوتیں اور جوڑے اس معاہدے کے بغیر ساتھ رہتے ہیں یا
ایک نکاح ہوا ہے باہم نبھا نہ ہوا، اب طلاق، مالی و قانونی
اعتبار سے ایسا خسارہ اور مشکل امر ہے کہ دلچسپی کہیں اور بھی
شروع ہو گئی۔ اور یوں کئی دھکے کھا کر وہ ماں بچوں کا بوجھ
اٹھانے پر مجبور ہوئی
جو ماں ان جگر گوشوں کو کسی حکومتی
یتیم خانے میں نہیں دیتی تو ان نا معلوم یا غیر ذمہ دار باپ کے
بچوں کی پر ورش اس اکیلی ماں single parentکی مجبوری ہے۔ جس کے
لئے وہ ملازمت کرتی ہے اور کئی طرح کی سختیاں اٹھاتی ہے
مجموعی طور پر ماں کا کردار گھر کے اندر
ایک کور کمانڈر کا ہے، ایڈ منسٹریٹر کا ہے، ھوم مینجمنٹ آفیسر کا
ہے، شہد کے چھتے کی ملکہ مکھی کا ہے۔ جس کی سنی جاتی ہے مانی
جاتی ہے، اس کی عزت احترام اور تکریم کی جاتی ہے
حقیقی ماں کے علاوہ ماں کے برابر درجہ
رکھنے والی خاتون کے لئے بھی جگہ خالی کی جاتی ہے۔ اس کا بوجھ
اٹھایا جاتا ہے۔ اس کی دوڑ دوڑ کر خدمت کی جاتی ہے۔ اس کے نام کی
شرم دلائی جاتی ہے۔ ایک متوسط طبقے کی بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ
میں اپنی ماں کو حج کرواؤں
زندہ نہ ہو تو اس کے نام پر رقم خرچ کروں۔
کنوائیں کھدوادیا مسجد بنواں۔سور کہف میں یہ بھی سمجھایا گیا کہ
اگر والدین، ماں اور باپ نیک ہیں تو ان کو رب اولاد کی نافرمانی
کے غم سے بچائے گا اور ان کے بچوں کے معاش کا بندوبست بھی کر دے
گا اور اگر ماں اور باپ جنت میں پہنچ گئے تو ان کی خوشی کے لئے
ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دے گا۔ جو ہوں گے تو جنتی لیکن
نچلے درجے میں ہوں گے۔ماں تیری عظمت کو سلام
|