Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 23 May 2006 21:20 (PST)اشاعت

بنیاد پرست اسلام ہمارے لیئے اصل مسئلہ ، ڈینٹل

باسط اعجاز

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

امریکہ کی مبینہ دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کاصف اول کا اتحادی ہے

مشہور امریکی صحافی ڈینئل پائپس کا ایک مضمون نظر سے گزرا جو انہوں نے آج سے 12 سال پہلے، 1994میں، ایک اخبار کے لئے لکھا تھا

یہ مضمون امریکا کے فلاڈیلفیا انکوئرر میں

 شائع ہوا، جس کا عنوان تھا ’’ اسلامی بنیاد پرستی: مغرب کے لئے نیا اور سب سے بڑا خطرہ ‘‘  فوراََ میرے ذہن میں خیال آیا کیوں نہ ماضی کی آنکھوں سے حال کو دیکھا جائے اور آپ کو بھی اس کا موقعہ دوں ، کچھ اندازہ ہو کہ منظر کیسا نظر آتا ہے۔ اور یہ کہ آج سے 12 سال پہلے جب دہشتگردی کے خلاف جنگ ”  کا نام و نشان تک نہ تھا، امریکی تھنک ٹینکس کس طرح سوچ رہے تھے ، اس کام کے لئے مضمون میں کچھ اقتباسات پیش کرتا ہوں

پیرہ گراف ہی غور طلب ہے : مارکسزم اور لینن ازم کے بعد بنیاد پرست اسلام دنیا میں امریکہ مخالف ترین نظریہ کی صورت میں باقی رہ گیا ہے

فی الحال بنیادپرستوں کے پاس اس طاقت کا فقدان ہے جو کمیونسٹوں کے پاس تھی: اِن کے پاس ابھی بلیسٹک میزائل نہیں ہیں اور ان کے نظریہ کو بھی تاحال عالمگیر قبولیت حاصل نہیں ہوئی

اسکے باوجود امریکہ کے خلاف ان کی شدید نفرت کے باعث انہیں دشمنِ اول قرار دیا جا سکتا ہے

آگے چل کر پائپس ان حلقوں کی تردید کر تے ہوئے،جواسلام کو کوئی خطرہ نہیں سمجھتے، لکھتے ہیں: ” اس تصور کے ساتھ مشکل ہے کہ یہ سیاسی طور پر سرگرم بنیاد پرستوں کو نظرانداز کر دیتا ہے ، جن کا دعویٰ ہے کہ خدا کی طرف سے بھیجا گیا سچ صرف انہی کے پاس ہے اور انہیں حکومت میں آنے کے لئے کسی قسم کے الیکشن درکار نہیں ہی

 یہ لوگ اپنے تصورات بزور دوسروں پر تھوپتے ہیں اور مخالف آوازیں دباتے ہیں

سماج کو بدلنے کے چکروں میں یہ لوگ اسے راتوں رات اتھل پتھل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہر وقت دوسروں پر حملہ کرنے کے لئے اپنی فوجیں سرحدوں پر لگائے رکھتے ہیں

تھوڑا  آ گے چل کر پائپس یہ اعلان کرتے ہوئے کہ اسلام امریکا کے لئے خطرہ نہیں، لکھتے ہیں

 ’’بنیاد پرست اسلام ہمارے لیے اصل مسئلہ ہے(جو اسلام کے اندر ایک تصور ہے)۔ ہم مذہب کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اس تصور سے جنگ کر سکتے ہیں اور ایسا تو بہت سے مسلمان خود بھی کر رہے ہیں۔‘‘ دہشتگردوں کے خلاف جنگ کا نام دے رکھا ہے مگر اب تو انکے لوگ کہنے لگے ہیں کہ یہ ایک خاص ثقافت اور اسکے ماننے والوں کے خلاف ہے نہ کہ دہشتگردی کے خلاف

خیر، ستمبر1994 میں، جب ڈینیل پائپس نے یہ مضمون لکھا، افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے

اور ایک برس قبل سیموئیل پی ہٹنگٹن رسالے فارن آفیئرز میں ”تہذیبوں کا تصادم ” کے عنوان سے مضمون لکھ کر نئی بحث شروع کر چکے تھے

یہ مضمون شائع ہونے کے ٹھیک 6 برس بعد گیارہ ستمبر 2001کا تاریخی واقعہ رونما ہوا

اسکے بعد مغربی میڈیا میں اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف ایک سرگرم مہم شروع ہو گئی۔ جس نے محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا

امریکہ میں ہونے والی دہشتگردی کی اس واردات نے مغرب اور اسلام کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا

اگر ایسا ہے تو پائپس کے اس بارہ سالہ پرانے مضمون میں اسلامی بنیاد پرستی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دینے میں کیا منطق ہے؟ مسلمان بنیاد پرست پائپس کے مضمون کے بارہ اور گیارہ ستمبر کے چھ سال بعد بھی مغرب اور امریکہ کے دشمن اول ہیں

 

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات