|
کرنے والوں پر الزام
تراشی کرتے رہے۔ زمیندار مِل مالکان پراور مِل مالکان حکومت کی
ناقص پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ۔ گذشتہ چند ہفتوں میں مِل
مالکان اور چینی کے تاجروں کی ہٹ دھرمی کے سامنے وفاقی اور
صوبائی حکومتیں گھٹنے ٹیکتی نظر آئیں
یہ صورتحال دیکھ کر یہ اندازہ
کرنا مشکل نہیں کہ 2006 کی آخری سہ ماہی میں صورتحال کیا ہوگی
سال کے آغاز میں ہی غیرجانبدار
حلقے اس نتیجے میں پہنچ چکے تھے کہ حکومت کی آستین میں بیٹھا
شوگر مافیاطاقتور ہے کہ اس نے حکومت کو اپنے دام میں پھنسا لیا
ہے اور موقع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے دونوں ہاتھوں سے عوام کولوٹ
رہا ہے ، جبکہ ملک میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی نظام سرے
سے موجود ہی نہیں ۔ چنانچہ عوام کی حالت زار کی طرف توجہ دلانے
والا کوئی نہیں
صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ
گنے کی پیداوار گذشتہ چند سالوں سے مسلسل گھٹ رہی ہے۔ جبکہ
صوبائی حکومت زرعی شعبوں میں مسلسل پیش رفت کا دعویٰ بھی کر رہی
ہے ۔ 2004میں یہ پیداوار 53 ملین ٹن تھی،2005 میں47 ٹن ہوگئی
جبکہ2006 میں 43 ملین ٹن رہ گئی ہے ۔ کاشتکاروں کو شکایات ہیں کہ
مل مالکان بروقت گنا نہیں اٹھاتے ، وزن کرنے کا نظا م درست نہیں
۔ ہرمرحلہ پر کمیشن مافیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور اس سب کے
باوجود کسان کو کبھی بروقت قیمت وصول نہیں ہوئی ۔جس کے سبب
کاشتکار اب گنے کے بجائے دیگر اجناس کی پیدا وار میں زیادہ
دلچسپی لینے لگ گیا ہے ۔ گنے کے کم پیداوار کی وجہ سے حکومت نے
گنا درآمد کرنے کےلئے ڈیوٹی فری پالیسی کا اعلان کیا ۔ لیکن
زیادہ تر مِل مالکان نے اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا
بظاہر مل مالکان نے ڈیوٹی فری
خام مال درآمد بھی لیا لیکن انہوں نے چینی بازار میں اسی قیمت پر
فروخت کی ، جس پر دیگر مِل مالکان یہ فروخت کررہے ہیں ۔ اس طرح
حکومتی پالیسی کا نقد فائدہ عوام کے بجائے مِل مالکان کی جیبوں
میں پہنچ گیا ۔ لطف اور لطیفہ کی بات تو یہ ہے کہ جب عوامی حلقوں
میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور حکومت پر شدید تنقید کی گئی تو
حکومت نے NAB کے ذرائع کو حرکت دی اور شوگر مل مالکان کی فائلیں
کھلنا شروع ہو گئیں، تفصیلات اکٹھا ہونا شروع ہو گئیں اور NAB کے
ہاتھ میں ڈور کا سرا آ گیا ، لیکن پھر وہی ہوا طاقتور شوگر مافیا
حرکت میں آیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے لیکر جنرل مشرف تک سب کو
مل مالکان کی بات ماننا پڑی یوں نیب کو تحقیقات سے روک دیا گیا
بہانہ یہ بنایا گیا کہ فری
اکانومی کا دور ہے اور صنعت کار کو خوف زدہ نہیں کیا جانا چائےے
۔ (چاہے وہ غریب آدمی کو ذبح ہی کیوں نہ کرے ) یہ تفصیل بھی
ضروری ہے کہ شوگر ملزمالکان میں اس وقت صوبائی اور مرکزی حکومت
کے کئی وزراءشامل ہیں ۔ چناچہ انہوں نے دیدہ دلیری سے اپنے ہاں
ملوں میں چینی کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی اور آہستہ آہستہ
مارکیٹ کی ضرورت سے بہت کم چینی کی سپلائی جاری رکھی تاکہ قیمتیں
زیادہ رہیں اور ان کے منافع پر اثر نہ پڑے
دوسری طرف عوام کی مشکلات کم
کرنے کے لئے بھی جو منصوبہ بندی کی گئی وہ بھی مضحکہ خیز ہے ،
ملک بھر کے یوٹیلٹی سٹوروں پر چینی کا کنٹرول ریٹ مقرر کیا گیا
۔صرف میرے علاقے کی مثال کو ہی لے لیجئے واہ کینٹ کی پانچ لاکھ
آبادی میں صرف ایک یوٹیلٹی سٹور قائم ہے ۔چنانچہ ہر وقت مردوزن
کی ایک لمبی لائن ایک کلو چینی خریدنے کے لئے ہر وقت منتظر رہتی
ہے
یہ ایک اذیت ناک سلسلہ ہے ، جس
پر پوری قوم خون کے آنسو رو رہی ہے ۔ یہی حال آٹے کا ہے
گذشتہ برس ملک میں آٹے کی شدید
قلت پیدا ہوئی ، یہاں تک کہ گندم در آمد کرنا پڑی ۔ اس وقت
صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کے پاس گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش 25
لاکھ ٹن ہے ۔ جبکہ اس وقت گوداموں میں 20 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ ہے
۔ گویا گندم موجود تھی لیکن اس کو بروقت اٹھایا نہیں گیا
اب صورتحال مزید خراب اس وقت ہو
گی جب اپریل کے تیسرے ہفتے میں نئے سیزن کی گندم آنا شروع ہو
جائے گی ۔ ظاہر ہے اس کو ذخیرہ کرنے کے لئے پنجاب کے گوداموں میں
جگہ نہیں ہو گی ۔ لہٰذا یہی گندم باہر
پڑے پڑے خراب ہو گی اور ایک بار پھر تشویشناک صورتحال پیدا ہو گی
۔ زراعت کی یہ خطرناک صورتحال دیکھ کر صاحب اقتدا ر حلقہ کی
دیانت ، امانت اور اہلیت کی صلاحیتیں جہاں مشکوک ہوچکی ہیں وہاں
یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ پنجاب حکومت میڈیا کے ذریعے تعلیم
، زراعت اور دیگر شعبوں میں اپنی کارکردگی کے جو دعوے کر رہی ہے
وہ محض ایک سیاسی کھیل اور میڈیا پروپیگنڈہ ہے
اس کے برعکس موازنے کیلئے
اگرپڑوسی جمہوری ملک بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کو ہی دیکھ لیا
جائے جو پورے بھارت کے ایک سو کروڑ عوام کی غذائی ضروریات پوری
کررہا ہے ۔ اس کے باوجود وہاں کسی چیز کا بحران نہیں ، قیمتوں
میں استحکام ہے ۔ پاکستان سے ارزانی ہے ۔ جبکہ پاکستان کا پنجاب
ملک کی 14 کروڑ عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے
باوجود کہ
رقبہ مشرقی پنجاب سے زیادہ ہے اور زمین بھی مشرقی
پنجاب سے کم زرخیز نہیں ۔اس تما م تر صورتحال کے تناظر میں حکومت
پر واضح رہنا چاہےے کہ اب عوام اتنے بے وقوف نہیں جتنے وہ سمجھ
رہے ہیں ۔پٹرول ، چینی ، آٹا ، گھی ، دالیں اور وہ سب کچھ جو
عوام کی بنیادی ضروریات ہیں وہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہو چکی
ہیں ، ماہانہ 20 ہزار کمانے والا بھی پریشانی کے عالم میںیوٹیلٹی
سٹور ز اور سستے بازاروں میں ذلیل و خوار ہورہا ہے جبکہ نچلا
طبقہ تو انتہائی مایوسی اور ذہنی پریشانی کے عالم میں زندگی بسر
کر رہا ہے
کبھی بھلے لوگوں کا یہ
خاصہ ہوتا تھا کہ اگر وہ محسوس کرتے کہ حالات ان کے کنٹرول سے
باہر ہیں تو وہ مستعفی ہوجایا کرتے تھے لیکن اب تو بد امنی ،
غربت، بے روزگاری ، کرپشن اور تمام تر ناکامیوں کے باوجود مقتدر
طبقے آئندہ بھی حکومت میں رہنے کے خواہشمند نظر آتے ہیں ، بلکہ
یہ باتیں وثوق سے کہی جا رہی ہیں کہ آئندہ حکومت کس کی ہو گی اور
صدر کون ہوگا
اس صورتحال میں جب ملک بحرانوں
کی زد میں ہے ملک کے جمہوری حلقوں کو سیاست سے آگے بڑھ کر اپنے
دینی ، قومی اور ایمانی فریضے کو مدنظر رکھ کر متحد ہو کر
مخلصانہ جد وجہد کرنا ہوگی ، بصورت دیگر ملکی مستقبل فوج کے
دائرہ اختیار میں بھی نہیں رہے گا اور یہاں کوئی اور قوت ہی راج
کرے گی ۔
|