Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 17 April 2006 11:11 (PST)اشاعت

'ابو سالم کو معلوم ہے کہ انہیں پھانسی نہیں ملے گی'

منصور مہدی

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

ابو سالم ایک جفا کش نوجوان جو بعد ازاں جرائم کی دنیا کا بادشاہ بن گیا

ابو سالم کے بارے میں تیسری۔ آخری قسط ہے پولیس ریکارڈ کے مطابق بعد میں ابوسالم نے کسی وجہ سے مکیش کا قتل کروایا  ممبئی پولیس کمشنر اے این رائے نے ابوسالم کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی بتلایااور کہا کہ اسکے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان میں سے

ابو سالم کے بارے میں دوسری قسط پڑھنے کےلیئے کلک کریں

کئی مقدمات میں اسے پھانسی کی سزا ہو  سکتی ہے لیکن پرتگال حکومت کوکیے گئےوعدے کی وجہ سے عدالت اس پر شاید عمل نہ کر سکے

پولیس کمشنر کے مطابق ابوسالم سے تفتیش کے دوران کئی رازوں سےپردہ اٹھ سکتاہے۔داؤد ابراہیم کے کام کرنے کے انداز، اس کے خفیہ اڈوں اور اس کے ساتھ بالی وڈ اور انڈرورلڈ کے تعلقات بھی بے نقاب ہو گے۔ پرتگال میں محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھارت میں سب سے زیادہ مطلوب شخص ابوسلیم انصاری عرف ابوسالم کو انڈین حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

ابو سالم انڈیا کے شہر ممبئی میں بم دھماکوں میں مطلوب ہے جبکہ ابوسالم نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے ۔پرتگال میں حکام کے مطابق ابوسالم کو ان کی ساتھی فلم ایکٹرس مونیکا بیدی کے ہمراہ انڈین حکام کے حوالے کیا گیا

ابوسالم کو پرتگال میں 2002میں جعلی دستاویزات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور پچھلے دو برس سے اپنے آپ کو انڈیا کے حکام کے حوالے کیے جانے کے خلاف مقدمہ لڑ رہا تھا ۔اگرچہ انڈیا اور پرتگال کے درمیان مجرموں کی حوالگی سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن انڈیا نے پرتگال کے حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ابوسالم اور مونیکا بیدی کو انڈیا میں سزائے موت نہیں دیجائے گی جو یورپی قوانین کے خلاف ہے

بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس نے ایک پولیس آفیسر اور دوسول اہلکاروں کو ابوسالم اور ان کی دو خاتون ساتھیوں کو فرضی پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات بنوا کر دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے

ان اہلکاروں سےجنہوں نے ابوسالم کو فرضی نام اور پتوں سے پاسپورٹ جاری کیا ان سے بھی پوچھ گیچھ کی جارہی ہے ۔پرتگال میں بھارت کے سفیر مدھو بہادری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پرتگال کی عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ ابوسالم کو تین ماہ کیلئے حراست میں رکھا جائے گا

اس درمیان بھارتی حکومت کا بھارت لانے کے بارے میں قدم اٹھا سکتی ہے

انہوں نے کہا کہ ابھی تو شروعات ہوئی ہے ابوسالم کو دس سال بعد گرفتار کیا ہے اور ہم نے یہ کہا ہے کہ انہیں کچھ دیر احتیاطی حراست میں رکھا جائے تاکہ ہمیں وقت ملے کہ ہم پوری قانونی کاروائی کر کے ابوسالم کو بھارت لے جاسکیں۔اس سے قبل ابوسالم کو دو مرتبہ دوسرے ملکوں میں گرفتار کیا جا چکا ہے پہلی مرتبہ 1997میں اور دوسری بارگذشتہ سال اکتوبر میں لیکن دونوں ہی باروہ بھارتی حکام کی گرفت سے بچنے میں کامیاب رہا

سی بی آئی نے13نومبر کو دعویٰ کیا ہے کہ پرتگال سے حوالگی معاہدے کے تحت بھارت لائے گئے انڈرورلڈ ڈان ابوسالم نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ وہ 1993کے سلسلہ وار دھماکوں میں انہوں نے اسلحہ اور بارود فراہم کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تفتیشی ایجنسی نے ابوسالم کی سائنسی جانچ کو بھی خارج از امکان نہین قرار دیا ہے۔ دوسری طرف ابوسالم کے وکیل نے اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ایک عرضی داخل کر رکھی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ابوسالم کسی

بھی معاملے میں اعتراف جرم نہیں کرنا چاہتے

اس لئے اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیں

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا موکل پولیس تفتیش میں پوری طرح سے تعاون کرے گا۔ابوسالم سے تفتیش کرنے والے اہلکاروں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ڈان بہتر طریقے سے تعاون کر رہے ہیں

ابوسالم کی سائنسی ٹیسٹ جیسے پولی گراف اور برین میپنگ وغیرہ کے معاملے میں سی بی آئی نے کہا کہ اس طرح کے ٹیسٹ خارج از امکان نہیں ہیں

اس کے ساتھ ہی ایجنسی نے وضاحت کی کہ ابھی اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ ایک سینئر سی بی آئی افسر نے کہا کہ ہم اس امکان کو خارج نہیں کرتے لیکن ہمارے پاس پہلے سے ہی اس کے خلاف خاطر خواہ ثبوت موجود ہیں

ان ثبوتوں کی بنیاد پر ہی ہم اسے پرتگال سے بھارت لانے میں کامیاب ہوئے ہیں

سی بی آئی افسر کا کہنا ہے کہ حالانکہ ہمیں ایک سخت ترین جرائم پیشہ شخص کا سامنا ہے لیکن پوچھ تاچھ اور 1993کے سلسلہ وار بم دھماکوں کی تفتیش میں وہ مکمل طور پر تعاون کر رہا ہے

ایک افسر نے بتایا کہ ہماری تفتیش کی دوران پوری توجہ 1993کے بم دھماکوں پر ہے تاہم افسر نے اب تک کی تفتیش کی تفصیل بتانے سے انکار کردیا

اس اہلکار نے میڈیا میں پھیلی ان خبروں پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جس کے مطابق ابوسالم نے تفتیش کے دوران بالی وڈ اور سیاست سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے نام لیے ہیں

سی بی آئی افسر نے بتایا کہ گذشتہ دو روز کی تفتیش کے دوران ابوسالم سے داﺅد ابراہیم کے ٹھکانے سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا گیا

انھوں نے کہا کہ بہر حال ہر شخص جانتا ہے کہ وہ داؤد ابراہیم کہاں ہے

اس لئے ابوسالم سے اس سلسلے میں پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس دوران ٹاڈا عدالت اور قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابوسالم کو بھارت لائے جانے کے بعد اس پر ناڈا قانون کے تحت علیحدہ مقدمہ چلایا جائے گا اور 12مارچ1993کو جو دھماکے ہوئے تھے ان سے متعلق چلائے جانے والے مقدمے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا

ذرائع کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ مصطفےٰ مجنوں کی طرح سالم کے خلاف بھی علیحدہ مقدمہ چلایا جائے گا ۔ واضع رہے کہ مصطفےٰ مجنوں کو کچھ عرصہ قبل ہی دوبئی سے لایا گیا تھا

اس بات کا بھی امکان ہے کہ ناڈا عدالت کے جج پی ڈی کوڈ اگلے سال کے شروع میں اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیں ۔مقدمہ شروع ہونے سے سی بی آئی کو جو ان دھماکوں کی تحقیقات کر رہی ہے کو 80دن میں فرد جرم عائد کرنی ہو گی ۔مقدمے کی کاروائی کو آگے بڑھانے کیلئے ابوسالم کا اعتراف گناہ سے متعلق بیان بھی ریکارڈ کرنا ہوگا۔فوجداری معاملات کے سرکردہ وکیل ستیش مینشنڈے کا کہنا ہے کہابو سالم کی گرفتاری سے ممبئی کے دھماکوں سے متعلق چلائے جانے والے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

اس مقدمے میںفلمی اداکارہ سنجے دت کے علاوہ 123دیگر افراد کے خلاف ممبئی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری ہے جس کا جلد ہی فیصلہ ہونے والا ہے

علاوہ ازیں فلمی اداکار سنجے دت کے خلاف مقدمے کے سلسلے میں بھی عدالت کو اس سے پوچھ گچھ کرنی ہے

 کہا جاتا ہے کہ سالم نے سنجے دت اور تین دوسرے مجرموں کو ہتھیار مہیا کئے تھے

ٹاڈا کی عدالت میں ابو سالم کو حراست میں لینے کی عرضی داخل کرتےہوئے سی بی آئی نے کہا کہ اس مقدمے کے ایک اور ملزم بابا موسیٰ چوہان نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ابوسالم نے دھماکے کرنے والے ملزموں کو ہتھیار سپلائی کئے تھے

کہا جاتا ہے کہ ابو سالم کی زندگی اگرچہ جرائم کی دنیا میں گزری اور اس نے متعدد سنگین نوعیت کی وارداتیں کیں اور کروائی مگرانکے خلاف الزامات میں شدت صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ہے

اگر ابوسالم کو بھارتی حکومت ہندوستان سے گرفتار کرتی تو اب تک انہیں یا تو پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا یا اب تک انہیں سزائے موت ہو جاتی مگر پرتگال سے پکڑے جانے پر ابوسالم کو یہ اطمینان حاصل ہے کہ اگرچہ ان کی زندگی تو شاید اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی گزرے مگر وہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر نہیں جھولیں گے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات