|
اسرائیلی جارحیت کی سازش
،لاطینی امریکہ میں وینوزویلا ،کیوبہ اور بولیویہ میں ناجائز مداخلت
اوربے جا دباو، امریکہ میں غیر ملکیوں کے خلاف نسل پرست قوانیں،ملکی
معاشی ،سماجی اصلاحات اور تمام دنیا کو اپنے زیرے عتاب اور ماتحت
کرنے کی خواہش کوعوام نے بری طرح رد کر دیا ہے
صدر بش عوام کو دہشت گردی کے خوف سے
ڈرانے میں مکمل ناکام رہے ، صدام کی پھانسی اور باجوڑ پر دہشت گردی
کے نام پر بمباری نے بھی ان کا ساتھ نہ دیا
صدر بش کی حکومت امریکن تاریخ میں
سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔جس نے پوری دنیا کو جنگی کیفت میں داخل
کردیا۔جہاں انسانوں کا خون تیل کے لیے پانی کی طرح بہا،عراق میں
ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔جہاں آج ہر روز سو سے
زیادہ افراد زندہ درگو ہو رہے ہیں۔نسل کشی ،اور اس انارکی کی ذمہ
داری براہ راست امریکی انتظامیہ اور صدر بش پر ہے۔اورصدر بش نے اس کو
ویتنام سے تشبیہ دے کر اس کا اعتراف بھی کیا ہے
صدام کو توایک سو چوالیس افراد کے قتل میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے
لیکن چھ لاکھ پچاس لوگوں کے قاتل کوکیا سزا ہونی چاہیے؟
امریکی عوام نے فی الحال ووٹ کو ہتھار کے طور پر استعمال کیا ہے اور
ریپبلیکن پارٹی کو بارہ سال بعد ایک شکست دی ہے
ڈیمو کر یٹ پارٹی کی فتح بش کی مخالفت ہے نہ کہ ڈیموکریٹوں کا کوئی
متبادل یا کوئی انقلابی پروگرام ہے۔کیونکہ اگر ان الیکشن کی صورت حال
دیکھی جائے تو بہت تشویش ناک ہے۔اور عوام نے دونوں پارٹیوں سے بیزاری
اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔سی این این کی روپورٹ کے مطابق صرف چالیس
فیصد عوام نے ووٹ ڈالے ہیں۔جبکہ اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ اس انتخابی
مہم پر چرچ ہوئے
دونوں پارٹیوں نے لوگوں کو گھر سے
لانے کے خاص انتظام بھی کیے تھے
اس سے عوام کا تمام روائتی پارٹیوں
اور قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔
بش تو پہلے ہی دونوں بار عدالتی صدر منتخب ہوئے ہیں۔اس بار صدارتی
انتخابات میں ان کی شکست انکے اعمال کا مقدر بن جاے گی ۔جس کا اظہار
ان کانگریس کے الیکشن میں ہوا ہے
لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کے کیا اب ڈیموکریٹ بش کو انکے جنگی
اور عالمی حکمرانی کے عزائم سے روک سکیں گے؟
کیا اب افغانستان اور عراق سے امریکی افواج کا مکمل انخراج ہو گا؟
کیاشمالی کوریا۔ایران۔شام۔لبنان۔وینوزویلا۔پر عالمی دباو کم یا ختم
ہوگا؟
کیا امریکہ میں غیر ملکیوں کے متعلق قوانین میں نرمی اور بہتری آئے
گی ؟
کیا پھانسی کی سزا کا خاتمہ ہو گا؟
کیادہشت گردی کے نام پر امریکی مفادات کی یہ جنگ ختم ہو گی؟
کیا اسلحے اور فوج میں کمی آئے گی؟
کیا تمام دنیا سے دوستانہ اور پر امن تعلقات انکی آزادی اور
خودمختیاری کو پیش نظر رکھتے ہوئے استوار کیے جائیں گے؟
کیا ترقی پذیز ممالک کو صنعتی اور سماجی ترقی کے لیے امداد اور مواقع
فراھم کیے جائیں گئے تاکہ بھوک اور ننگ کی لڑائیوں کے خلاف لڑا جائے؟
کیا سامراج اور سامراجی عالمی لوٹ گھسوٹ کا بازار ٹھنڈا ہو گا؟
یہ وہ سوال ہیں جنکا جواب اب ڈیموکریٹ پارٹی نے اپنی اور عالمی
عوام کو دینا ہے۔جس کے بغیر آج عالمی امن اور انتشار کا خاتمہ ناممکن
ہے |