|
رپبلکن کو معاف کرنے کو
تیارنہیں ہے وہیں دوسری طرف رپبلکن کے 12 سالہ غلبے کا خاتمہ اس بات
کی بشارت ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں بش کی جماعت رپبلکن پارٹی کے
لیے فتح کا خواب دیکھنابھی شاید مہنگا سودا ثابت ہوگا
435رکنی ایوان نمائندگان پر
رپبلکن پارٹی کا گذشتہ 12 برسوں سے غلبہ تھا اور اس دوران رپبلکن
پارٹی کے سربراہان مملکت نے عملاً امریکی کانگریس کو یرغمال
بنارکھاتھا۔پالیسی سازی کے دوران امریکی ارباب وقت ایوان پر مضبوط
گرفت ہونے کی بنا پرکچھ ایسی حکمت عملیاں اختیار کرتے رہے تھے جن سے
عوام میں یہ پیغام عام ہورہا تھا کہ امریکی صدر مملکت منتخبہ فرد نہ
ہوں، مانوان کی حیثیت مطلق العنان حکمراں کی سی ہو
سینئر بش سے لے کرجونیئر بش تک
رپبلکن پارٹی تقریباً ایک ہی منہاج پرحکمرانی کرتی رہی تھی اوراس
دوران امریکی ایوان نمائندگان یعنی ایوان بالا و زیریں دونوں کی
حیثیت عملی اعتبار سے ’گھریلو لونڈی‘ جیسی بن کر رہ گئی تھی۔ حزب
مخالف کی چیخ وپکارکو’ اکثریت‘ کے زعم تلے دبادینا اورہٹ دھرمی کی
گھٹیا مثالیں پیش کرتے ہوئے مجہول فیصلوں کوکسی حد تک تھوپنا امریکی
سربراہان مملکت کاوطیرہ بن چکاتھا
ہرچند کہ یہ صورت حال سینئر بش کی
ذہنی اختراع کا نتیجہ تھی لیکن اصل معنوں میںبش جونیئر نے اسے مہمیز
بخشا اورانہوں نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر داخلی و خارجی امور میں
کچھ ایسی مجہول پالیسیاں اختیار کیںجو رپبلکن کی ناکامی کا پیش خیمہ
قرار پاسکتی ہیں
بش جونیئرکی انا پرستی اورتکبر کا
ہی نتیجہ تھا کہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کی گئی اور اس کے
نتیجے میں ہزاروںامریکی افواج دہشت گردی کی جنگ کی نذرہوگئے۔کہنا غلط
نہیں ہوگا کہ مسلسل امریکی جوانوں کی لاشوں کا گرنا رائے عامہ کے لئے
رپبلکن کے خلاف اشتعال کی حدتک مخالفت کا سبب بنا اور وسط مدتی
انتخابات کے دوران اضطراب کی تمام تر چنگاریاں شعلہ بن کر نمودار
ہوگئیں اور اس کا سیدھا فائدہ لوٹنے کے لیے ڈیموکریٹ نے جنگ عراق سے
متعلق بش جونیئر کی پالیسی کوہدف ملامت بنانا شروع کردیا
ظاہر ہے اس سے ان امریکی بیوائوں کو
غموں پر مرہم رکھنے کی اس ظاہری کوشش سے جسے لایعنی قرار دینا غلط
نہیں، کچھ حد تک تسکین کا سامان تو ملا ہی جن کے شوہر اور جن کے بیٹے
امریکی افواج میں تھے اور جنگ عراق میں کام آگئے۔ ساتھ ہی ساتھ بڑے
پیمانے پر بش مخالف سرگرمیاںانتخابی مہم کے دوران سراٹھانے لگ گئیں۔
بش اور ان کی پالیسی کے خلاف رائے عامہ کی محاذ آرائی کا اندازہ اس
بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مقررہ شیڈول کے تحت
بش جونیئر کو اپنے امیدوار کے حق میں خطاب کرنا تھا لیکن جب عوامی
نفرت سر چڑھ کربول رہی تھی تو رپبلکن امیدوارنے بش کو جلسہ گاہ
میںمدعو کرنے کے بجائے ایک علاحدہ انتخابی تقریب آراستہ کرنے کو
زیادہ بہترجانا
گویا نفرت کی جوالا مکھی کے سامنے
خود رپبلکن امیدوار بھی بش سے اس قدر کنی کاٹنے لگ گئے کہ متعینہ
شیڈول کے برخلاف انہوںنے حالات وواقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بش کو
تقریب گاہ سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کی۔ امریکی ایوان نمائندگان
کے دو درجاتی ہائوس کے اراکین کے انتخاب کے دوران جونیئر بش نے
انتخابی مہم میں اسی نہج پر اسامہ ، ملا عمر، ابومصعب الزرقاوی، ابو
حمزہ، صدام حسین، ایران تنازعہ اور شمالی کوریا کے جوہری دھماکوں کو
بھنانے کی کوشش کی جس طرح گذشتہ صدارتی انتخاب میں انہوںنے دہشت گردی
کا قلعہ قمع کرنے اور امریکیوں کو’تحفظ‘ فراہم کرانے کا نعرہ بلند
کیا تھا
گویا اس انتخاب کے دوران جس کی
حیثیت اس ریفرنڈم سے قطعی کم نہ تھی کہ جارج بش مسند صدار ت پرجلوہ
گر رہیں آیامستعفی ہوجائیں،رائے عامہ نے اپنے فیصلے میں امریکی
صدرجارج بش کوراست طور پریہ پیغام دے دیا کہ امریکی اب رپبلکن کو بہت
زیادہ جھیلنے اور برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں
حالانکہ اخلاق باختگی کا سراپا
’مجموعہ‘ قرار دیے جانے والے صدر بش سے یہ توقع بے محل ہے کہ وہ
اخلاقی طور پرمستعفی ہونا گوارہ کریں گے۔ ورنہ سچ تو یہی ہے کہ وسط
مدتی انتخابات کے دوران رپبلکن کو جس خفت کا سامنا کرنا پڑااس کے بعد
اخلاقی قدروں کا تقاضاتو یہی ہوتا ہے کہ زمام اقتدار سے خود کو الگ
کرلیا جائے لیکن ایسے فرد یا ایسی جماعت سے یہ توقع پالنا کہ وہ
اخلاقیات کو ملحوظ رکھے گی،احمقوں کی جنت میں تخیلاتی داخلے کے
سواکچھ بھی نہیں
امریکی ایوان نمائندگان پر رپبلکن
کی گرفت ختم ہونے کے ساتھ ہی ساتھ کئی داخلی اور خارجی پالیسیوںمیں
نمایاں تبدیلی کی قیاس آرائی کی جارہی ہے۔خصوصاً صدر بش کی وہ حکمت
عملیاں شاید اب دھری کی دھری رہ جائیں گی جو کل تک ڈیموکریٹ کی
مخالفت کے باوجود’اکثریت‘ کی مدہوشی کے نتیجے میں روا رکھی جارہی
تھیں۔ مثلاً امریکی مسلح افواج کومزید ’دہشت گردی مخالف جنگ
‘کی’بھینٹ‘ چڑھانا۔ اسی طرح دنیا کو مستقل طور پرآنکھیں دکھاتے رہنے
کی امریکی روش کا بڑھنا۔ یہ اور اس طرح کی کئی دیگر پالیسیاں صرف اس
بنا پر مہمیز دی جاتی رہی تھیں کیونکہ صدر بش کے لیے ان پر کانگریس
کی جانب سے مہر توثیق ثبت کروانا کل تک بہت زیادہ آسان تھا
اب جب کہ صورت حال میں تبدیلی واقع
ہوچکی ہے، صدر امریکہ کے لیے ایسا کرپانا تقریباً ناممکن امر بن کر
رہ گیا ہے۔ گویا عملی اعتبار سے گمان یہ گذرتا ہے کہ جارج ڈبلیو بش
کے پر کتردیے گئے ہیں اور مشاہدے میں یہ بات سامنے آسکتی ہے کہ صدر
امریکہ آئندہ صدارتی انتخاب تک عملی اعتبار سے’مجبور محض‘ صدر بن کر
رہیں گے۔لیکن یہ قیاس آرائی اسی وقت حقیقت کا روپ اختیارکرسکتی ہے جب
ڈیمو کریٹ ارکان ایوان میںمضبوط قوت ارادی کامظاہرہ کرتے ہوئے رائے
عامہ سے کیے گئے وعدوں کے بموجب اپنا کردارنبھائیں گے
یعنی یہ کہتے ہوئے کوئی تامل نہیں
ہوناچاہئے کہ اب امریکہ کی داخلی اور خارجی پالیسیاں ڈیمو کریٹ کی
مرضی اور منشاکے مطابق طے کی جائیں گی اور تقریباً ہر معاملے میںڈیمو
کریٹ کو اعتماد میں لینا صدرامریکہ کے لیے ناگزیر ہوگا۔ ا ب ایسی
صورت میں ڈیمو کریٹ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ آئندہ صدارتی انتخاب کا
معرکہ سر کرنے کے لیے رائے عامہ کے مزاج کوبرتنے کواولیت دینا چاہیں
گے یا تقریباً’جیتی ہوئی بازی‘ ہارنے کے لیے بش کے کاندھے سے کاندھا
ملا کر چلنے کو ہی ترجیح دیں گے
جہاں تک امریکی خارجہ امور میںکسی بڑی یا انقلابی تبدیلی کی بات ہے
تواس سلسلے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں
غلبہ ڈیمو کریٹ کا ہویا رپبلکن کا، بہت زیادہ فرق پڑنے کو نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوں بھی ڈیموکریٹ کی پالیسیاںبُعد المشرقین کے
زمرے میں رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ گویا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ
رائے عامہ کی ناراضگی و بیزاری کا فائدہ لوٹنا امریکی سیاست دانوں کا
وطیرہ تو رہا ہے لیکن پالیسی سازی کے امور میں ان کے یہاں فراخ دلی
کا وہ جذبہ ناپید ہے جسے کسی بڑی تبدیلی کا مظہر قرار دیا جائے
خواہ جنگ عراق کے حوالے سے آئندہ کی
حکمت عملی طے کرنے کی بات ہو یا ہندامریکہ جوہری معاہدہ کو حتمی شکل
دینے کا ۔ ماہرین کی مانیں تویہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بنیادی
اعتبارسے کسی بھی معاملے میں کوئی زیادہ تغیر وتبدل ہونے کا
بظاہرکوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ۔ہاں داخلی حالات وواقعات کے تحت
سیاسی مصلحت پسندی امریکہ میںبھی اسی طرح دخیل ہوسکتی ہے جس طرح
ہندوستانی سیاست میں ابن الوقتی کا جلوہ کسی بھی پرانی حکومت کے زوال
اورنئی حکومت کے قیام کے نتیجے میں معرض وجود میں آتی رہی ہے
جہاں تک ہندامریکہ جوہری معاہدہ کا
تعلق ہے تو جانکاروںکا کہنا ہے کہ ڈیمو کریٹ کا ایوان پر حاوی ہونا
اس معاہدے کی حتمی توثیق کوتادیرروکنے کا سبب نہیں بن سکے گااور اس
پر عمل درآمد کی راہ میںبھی کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی
چنانچہ اگر اس ذیل میں امریکی ایوان
نمائندگان کے تغیر وتبدل کو کسی بڑے اندیشے کا محرک قرار دینا قطعی
نامناسب ہے۔کیونکہ ڈیمو کریٹ بھی ہند امریکہ جوہری معاہدے کے حامی
ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ رپبلکن کے مقابلے ڈیمو کریٹ کے تقاضے جداگانہ
ہوسکتے ہیں۔مجموعی اعتبار سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ امریکی وسط
مدتی انتخاب نے تقریباً یہ طے کردیا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں
رپبلکن پارٹی کوناکوں چنے چبانے پڑسکتے ہیں |