|
عوام مذہبی لوگ اور مذہبی جماعت
والے کہتے ہیں نے بھی ایکا کرلیا ہے
پاکستان کے کم از کم ساڑھے چار
سو علما، نے چوہدری شجاعت حسین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے
ان علما، کا کہنا ہے کہ چوہدری
شجاعت حسین نے کہا تھا کہ اگر حقوق نسواں بل غیر اسلامی ہوا تو
وہ استعفی دے دینگے
علما، کا کہنا ہے کہ پاکستان کی
اسلامی کونسل کے ان علما، نے بھی بل کو غیر اسلامی کہہ دیا ہے جن
سے حکومت نے مشورے کیئے تھے
کراچی میں اتوار کو اہلسنت
والجماعت کے علما، نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ چار
سو علما، نےحقوق نسواں کے بل کو اپنے دستخطوں کے ساتھ غیر اسلامی
قرار دیا ہے اس لیئے چوہدری شجاعت حسین اور وزیر اعظم جنہوں نے
کہا تھا کہ بل غیر اسلامی ہونے کی شکل میں وہ استعفے دے دینگے اب
اپنے استعفے دیں
ان علما، نے تین دسمبر کو کراچی
میں حکومت کیخلاف مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے
ادھر چوہدری شجاعت حسین جنہوں
نے قومی اسمبلی سے بل پاس ہوتے ہیں اعلان کردیا تھا کہ اگر بل
غیر اسلامی ہوا تو وہ رکنیت سے استعفی دے دینگے
اسی کے ساتھ انہوں نے اسپیکر کو
اپنا استعفی بھی پیش کردیا تھا ، جسے اسپیکر نے یہ کہہ کر واپس
کردیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا
تاہم ایک بات واضع ہے کہ چوہدری
شجاعت حسین کو استعفے کا اعلان نہیں کرنا چاہیئے تھا کیونکہ
پاکستان میں کسی بھی اسلامی شق کو بنانے یا مٹانے میں عوام علما،
کو ہی سند مانتے ہیں
|