|
ایک رپورٹ میں شائع کی ہے جبکہ بیٹیوں کے والد کے نام کو ضیغہ راز میں رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی
دونوں بیٹیاں سہیلہ (15سالہ)صومیہ (9سالہ)اپنی امریکی نژادماں کے
ساتھ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں
الوطن اخبار نے باپ کے حوالے سے
کہاکہ جب میں امریکہ میں زیر تعلیم تھا تو ایک امریکی خاتون سے شادی
کرلی جس نے باقاعدہ اسلام قبول کرلیاتھا اوربعدازاں ہم دونوں خوش
وخرم سے زندگی گزار رہے تھے ہماری دوبیٹیوں کی پیدائش اور قومےت
امریکی ہیں ۔میں گریجویشن کرنے کے بعد سعودی عرب آئے اور یہاں آکر
ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت اختےار کرلی
اس نے کہاکہ میری امریکی بیوی نے
سعودی عرب کا ماحول دل سے قبول نہیں کیاتھا جس کی وجہ سے اکثروہ
شکایت کرتی رہتی تھی ۔لہذا مجھے ماسٹر کرنے کے لئے امریکہ جانا پڑا
جہاں ہماری دوسری بیٹی کی ولادت ہوئی ۔1999ء میں ماسٹر کرنے کے بعد
میں جب واپس سعودی عرب آیاتو میری بیوی نے ایک بارپھر ماحول کواچھا
نہ کہتے ہوئے میرے ساتھ شکایات کا سلسلہ جاری رکھا
اس نے کہاکہ وہ علاج کی غرض سے
امریکہ گیااور بچے بھی میرے ساتھ تھے جب ہم ایمسٹرڈیم کے ایئر پورٹ
پر پہنچے تو میری بیوی نے حجاب اتاردیا اور چیخنے لگی اور مجھ سے
بدتمیزی پر اتر آئی اور گالی گلوچ شروع کردی
میں نے امریکہ جانے کا ارادہ ترک
کردیا اور سعودی ایئر لائنز کے دفتر گےا کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ
میری بیوی نہ صرف مجھے سے علیحدگی پر تلی ہوئی ہے بلکہ میری دونوں
بیٹیوں کو بھی ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔میری بیوی نے ایئر
پورٹ سیکیورٹی سے کہاکہ میرا خاوند مجھے اور میری دونوں بیٹیوں کو
قتل کرنا چاہتاہے سیکیورٹی والوں مجھے کہاکہ آ پ امریکہ چلے جائیں یا
پھر سعودی عرب اکیلے واپس چلے جائیں
میں نے اپنا سفر جاری رکھا میں
جونہی امیریکی ایئر پورٹ پر پہنچے تو سیکیورٹی والوں نے مجھے روکا
اور مجھ سے تحقیقات شروع کردی جو میری بیوی نے پہلے ان کو فون کرکے
بتادےا تھا ۔اس نے کہاکہ میرے سسر نے میری بیوی اور بچیوں کو ایک
نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا جن کو ملنے کے لئے میں باربارکوشش کی
لیکن میں ناکام رہا حتی کہ میں نے ایک امریکی قانون دان کی وساطت سے
عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن 9/11کا واقعہ رونما ہونے کی وجہ سے
میرا کیس انتہائی کمزور ہوگیا اور مجھے واپس سعودی عرب واپس آناپڑا
ایک فلسطینی نژاد امریکی قانون دان
نے مجھ سے رابطہ کرکے مجھے کہاکہ میری سابقہ بیوی نے ایک دوسرے شخص
سے شادی کرلی ہے اوروہ اس سے بھی طلاق لے رہی ہے لہذا مجھے مشورہ دیا
گیاکہ میں دوبارہ اپنے کیس کو عدالت میں لے جائوں جس سے مجھے پورا
انصاف ملنے کی امید ہے |