Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 06 November 2006 21:27 (PST)اشاعت

یورپی یونین صدام کی موت کی سزا پر خوش نہیں

امجد علی طاھر
اردوسروس ڈاٹ نیٹ

عراقی وزیر اعظم صدام کی سزائے موت کی سزا پر مطمن ہیں

عراق کی عدالت کی طرف سے عراق کے معزول صدر صدام حسین کو موت کی سزا سنائی گئی ہے تاہم اس پر کب عمل درآمد ہوگا اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا

تاہم ایک بات طے ہے کہ صدام کی موت اور

عراقی اور امریکی حکومت کےلیئے کسی عذاب سے کم نہیں

امریکی صدر صدام حسین کی گرفتاری کے بعد یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انہیں موت کی سزا ملنی چاہیئے جس کو عراقی عدالت نے سچ کر دکھانے کی کوشش کی ہے

صدام حسین پر سوا سو کے قریب افراد کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا

تاہم امریکہ جو پاکستان اور چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سزائے موت کیخلاف ہے اور اس پر آواز بھی بلند کرتا رہتا ہے صدام حسین کی سزائے موت سے ممکن ہے مطمن ہو

دوسری جانب یورپی یونین صدام حسین کی موت کی سزا کے سراسر مخالف ہے

پرتگال نے بھارت کے مبینہ انڈر ورلڈ دنیا کے ایک اہم ملزم ابو سالم کو اس شرط پر بھارت کے حوالے کیا تھا انہیں سزائے موت نہیں دی جائیگی

جبکہ صدام حسین کی موت بھی عراقی حکومت کے علاوہ خود امریکہ کےلیئے پریشانی پیدا کرنے کا سبب بنے گی

صدام حسین کی گرفتاری کے بعد کہا گیا تھا کہ عراق امریکہ کے مکمل کنٹرول میں ہے لیکن عراق میں چلنے والی متعدد شدت پسند تنظیمیں صدام کے بغیر چل رہی ہیں جبکہ ان تنظیموں میں بعض انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہیں

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی صدام حسین کی سزائے موت کی سزا سے مطمن اور خوش ہیں جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کو یہی سزا ملنی چاہیئے تھی

جبکہ دوسری جانب عراقی کے صدر اور صدام حسین کے کٹر کرد دشمن جلال طالبانی کا کہنا ہے کہ وہ صدام حسین کی سزائے موت پر دستخط نہیں کرینگے

صدام حسین کی سزائے موت کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جبکہ سزا کے فیصلے سے تین بعد امریکہ میں انتخابات ہیں

انتخابات کے بعد یقینا بش انتظامیہ کا ارادہ بدل جائےگا دوسری جانب یورپی یونین بھی اس بات پر تیار نہیں ہو گی کہ صدام حسین کو سزائے موت دی جائے جبکہ عراقی صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی حال میں صدام کی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرینگے اس طرح صدام حسین کی زندگی بھی عراقی اور امریکی انتظامیہ کےلیئے عذاب سے کم نہیں اور ان کی موت بھی عذاب سے کم نہیں جس کے بعد عراقی تنظیموں میں تشدد کی لہر ابھرے گی

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات