|
عراقی اور امریکی حکومت کےلیئے کسی
عذاب سے کم نہیں
امریکی صدر صدام حسین کی گرفتاری کے
بعد یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انہیں موت کی سزا ملنی چاہیئے جس کو عراقی
عدالت نے سچ کر دکھانے کی کوشش کی ہے
صدام حسین پر سوا سو کے قریب افراد
کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا
تاہم امریکہ جو پاکستان اور چین
سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سزائے موت کیخلاف ہے اور اس پر آواز
بھی بلند کرتا رہتا ہے صدام حسین کی سزائے موت سے ممکن ہے مطمن ہو
دوسری جانب یورپی یونین صدام حسین
کی موت کی سزا کے سراسر مخالف ہے
پرتگال نے بھارت کے مبینہ انڈر ورلڈ
دنیا کے ایک اہم ملزم ابو سالم کو اس شرط پر بھارت کے حوالے کیا تھا
انہیں سزائے موت نہیں دی جائیگی
جبکہ صدام حسین کی موت بھی عراقی
حکومت کے علاوہ خود امریکہ کےلیئے پریشانی پیدا کرنے کا سبب بنے گی
صدام حسین کی گرفتاری کے بعد کہا
گیا تھا کہ عراق امریکہ کے مکمل کنٹرول میں ہے لیکن عراق میں چلنے
والی متعدد شدت پسند تنظیمیں صدام کے بغیر چل رہی ہیں جبکہ ان
تنظیموں میں بعض انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہیں
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی
صدام حسین کی سزائے موت کی سزا سے مطمن اور خوش ہیں جبکہ ان کا کہنا
ہے کہ ان کو یہی سزا ملنی چاہیئے تھی
جبکہ دوسری جانب عراقی کے صدر اور
صدام حسین کے کٹر کرد دشمن جلال طالبانی کا کہنا ہے کہ وہ صدام حسین
کی سزائے موت پر دستخط نہیں کرینگے
صدام حسین کی سزائے موت کا فیصلہ
ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جبکہ سزا کے فیصلے سے تین بعد امریکہ میں
انتخابات ہیں
انتخابات کے بعد یقینا بش انتظامیہ
کا ارادہ بدل جائےگا دوسری جانب یورپی یونین بھی اس بات پر تیار نہیں
ہو گی کہ صدام حسین کو سزائے موت دی جائے جبکہ عراقی صدر کہہ چکے ہیں
کہ وہ کسی حال میں صدام کی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرینگے اس
طرح صدام حسین کی زندگی بھی عراقی اور امریکی انتظامیہ کےلیئے عذاب
سے کم نہیں اور ان کی موت بھی عذاب سے کم نہیں جس کے بعد عراقی
تنظیموں میں تشدد کی لہر ابھرے گی
|