Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 28 November 2006 21:07 (PST)اشاعت

مسلمانوں کا تحفظ، ہندوساتن میں دو متحارب گروپ

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ، نئی دہلی

ممبئی دھماکوں کے بعد خصوصاَ ایک فرقے کو پولیس نے اپنی تفتیش کا نشانہ بنایا

سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مسلمانوں کے لیے تحفظات کی فراہمی پربلا مبالغہ ہندوستان دو متحارب گروہوں میں منقسم ہو کر رہ گیا ہے اور تلخ سچائی تویہ ہے کہ اہل سیاست کو مسلمانوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا بیٹھے بٹھائے

 بہترین موقع ہاتھ آگیا ہے۔ سیکولرزم بنام فاشزم معرکہ آرائی ایک بار پھر شروع کردی گئی ہے جوکچھ اسباب و علل کی بناء پر تھوڑی مدت سے سرد پڑ گئی تھی۔اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کہ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی زبوں حالی کا مرثیہ کن لفظوں میں پڑھا ہے یا اس طبقہ مظلوم کی دلخراش داستان کو بیان کرتے ہوئے حکومت سے کیا کچھ سفارشات کی گئی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سچر کمیٹی نے جو کچھ بھی ’انکشافات‘کیے ہیں 

ان میں چونکا نے والی کوئی ایک حقیقت بھی ایسی نہیں ہے جو کسی نہ کسی صورت پہلے میڈیا میں نہ آئی ہو۔ چنانچہ ہم سچر کمیٹی کے جملہ مندرجات کو بوسیدہ یا فرسودہ حقائق بھی کہیں تو اس میں کسی مبالغے کا گمان نہیں ہونا چاہئے۔ہاں اس رپورٹ میں پیش کیے جانے والے حقائق حکومت کی نظروں میں کچھ ’خاص‘ کہلا سکتے ہیں کیونکہ اب تک حکومت وقت کو مسلمانوں کی زبوں حالی اورپسماندگی پر یقین نہیں ہو رہا تھا

بالفاظ دیگر حکومتیں یا اہل سیاست عمداًمسلمانوںکی مفلوک الحالی کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہے تھے، اس کی بھی مناسب وجہیں ہیں۔اگر انہوں نے آج سے قبل مسلمانوں کی کسمپرسانہ زندگی کا اعتراف کیا ہوتا تو شاید اس مقہور فرقہ کو تحفظات فراہم کرانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہوتا،جب کہ اس سیاسی قبیلے کو قطعی یہ گوارا نہیں کہ مسلمانوں کو کسی قسم کی مراعات یا تحفظات فراہم کرائے جائیں۔کہنے کی اجازت دی جائے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ دراصل ’پرانی بوتل ‘میں’ پرانی مگر سوڈا ملی ہوئی شراب‘ کی مانند ہے۔ہمیں سچر کمیٹی کی کاوشوں اور ان کی اخلاص پسندی پر کسی بھی طرح کے سوالات کھڑا کرنے کی اجازت تو نہیں

لیکن ہم یہ تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ جسٹس سچر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کوئی ایسا جامع اور مربوط نظریہ پیش نہیں کیا ہے جس پر حکومت کے چلنے کی صورت میں مسلمانوں کو جائز حقوق کی فراہمی کی ضمانت حاصل ہوسکے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ سچر کمیٹی نے مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے جس کمیشن کے قیام کی تجویز حکومت کو پیش کی ہے اس کے حوالے سے بھی بہت زیادہ تفصیل میں جانے سے گریز کیا گیا ہے۔ یہ اندیشہ خالی از علت قطعی نہیں کہ کسی بھی کمیشن کا قیام مسلمانوں کو حقوق فراہم کرانے میں مددگار نہیں ہوگا۔کیونکہ اب تک کی حکومتوں کے طریقہ کار سے یہی اندیشے جنم لیتے رہے ہیں

سچر کمیٹی نے طریقہ کا ر کے تعین کے حوالے سے کوئی جامع نظریہ پیش نہ کرکے اس کام کے لیے حکومت کو صرف چند مشورے فراہم کرائے ہیں جنہیں سفارشات کا درجہ حاصل ہے۔ان سفارشات کی روشنی میں مسلمانوں کی ابتر صورت حال کو بہتر کرنے کے حوالے سے اسی حکومت پر پالیسی وضع کرنے کی ذمہ داری عائد کردی گئی ہے ،جس کا منہاج گذشتہ 60برسوں کے دوران مخاصمانہ حد تک دشمنانہ رہا

چنانچہ ایسی صورت میں کسی طرح کی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ حکومت مسلمانوں کے حوالے سے کوئی بڑا یا انقلاب افزا قدم اٹھانے جارہی ہے

سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستان کا دو متحارب قوتوں میں تقسیم ہوجانااور سیکولرزم بنام فاشزم جنگ کا دوبارہ آغازاس بات کی علامت نہیں کہ ایک طبقہ مسلمانوں کے حقوق کا علمبردار ہے جب کہ دوسرا مخالف۔بلکہ حق یہ ہے کہ اقتدار تک کا سفر کرنے کے حوالے سے دونوں متحارب قوتیں مسلمانوں کے خلاف دو علیٰحدہ خطوط پر کاربند دکھائی دے رہی ہیں۔ایک جانب اگر بی جے پی اور اس کی ہم خیال سیاسی جماعتوں کو اس بات کا سنہری موقع ہاتھ آگیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے تعلق سے اکثریتی طبقے کو بیش از بیش متنفر کرکے ان کے یک مشت ووٹوںپر اجارہ داری قائم کرے تو دوسری طرف سیکولر کہی جانے والی جماعتوں کو ظاہری اعتبار سے مسلمانوں کی مسیحائی کا موقع ہاتھ آگیا ہے

یہ طبقہ اپنی کریہہ صورتوں پر ایک بار پھر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں سے ہمدردی کے ’چند بول‘ بولنے اور اس کے حوالے سے سیاسی منفعت حاصل کرنے کے ارادے پر ثابت قدم دکھائی دے رہا ہے۔یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ جو سیاسی رہنما آج مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرانے کے وکیل بن کر میڈیا میں نمودار ہو رہے ہیں خود ان کا ماضی بھی مسلمانون کے خون سے کم سرخ نہیں ہے۔جہاں تک بی جے پی کی مسلم دشمنی کا تعلق ہے تو اس میں کسے مبالغہ ہوگا کہ اس کی بنیاد ہی مسلمانوں سے کھلی دشمنی پررکھی گئی ہے اور اس سے ہر کس و ناکس اچھی طرح واقف بھی ہے۔اصل دشمن تو وہ ہے جو آستین کا سانپ بنا ہوا ہے اور پچھلے 60برسوں سے مسلمانوں کو بار بار ڈستا رہا ہے

جہاں تک کانگریس کی مسلم نوازی کا تعلق ہے تو ہمیں یہ کہتے ہوئے کوئی تامل نہیں کہ کانگریس کا طریقہ کار اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بی جے پی سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کے ڈسنے سے ہی آج مسلمانوں کی یہ حالت زار ہوئی ہے۔
آزاد ہندوستان میں پنڈت جواہر لال نہرو کے دور سے لے کر نرسمہا راو کے زمانے تک کی تاریخ کا محاکمہ کر لیجئے۔ہر دور میں مسلمانوں کے خلاف کانگریس کا ایک طبقہ داخلی محاذ پر نہ صرف یہ کہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ مسلمانوں کی اشک سوئی کی کوششوں کے خلاف حکومت کو کسی بھی اقدام سے روکتا رہا بلکہ سچ یہ بھی ہے اسی گروہ کو کانگریس میں توقیر کی نگا ہ سے بھی دیکھا جاتا رہا

یہی نہیں بلکہ ہر دور میں پارٹی کو پالیسی سازی کے دوران مخالف سمت پر لے جانے کے حوالے سے یہ طبقہ قائدانہ رول نبھاتا رہااور کانگریس کے کار پردازوں کی وہ جمعیت جو خود کو’ سراپا سیکولر ‘کہتی رہی ہے ہر ایسے مواقع پرخاموش تماشائی بنی رہی۔یہ وہی طبقہ ہے جس نے ہندوستان کے سیکولر اقدار کو ختم کرنے کے ارادے سے قانون سازیہ سے لے کر عدلیہ تک اور منتظمہ سے لے کر ذرائع ابلاغ تک اپنے افکار و خیالات کو عام کرنے کے ارادے پر گامزن رہاہے۔اسے سنگھ پریوار کی عرفیت حاصل ہے۔ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کانگریس میں آج بھی یہ طبقہ اپنا سرگرم رول نبھانے میں مصروف ہے اور کہا یہ بھی جاتا ہے کہ اس طبقے کی رسائی کانگریس صدر کے بیڈروم سے لے کرپی ایم آفس تک ہے جسے یقیناخطرناک کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت سنگھ پریوار نے فکری اعتبار سے متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کو تقریباً یرغمال بنارکھا ہے او ر حکومت کو انہیں خطوط پر لے جانے کی مسلسل کوشش ہورہی ہے جس نظریہ پرکبھی آنجہانی نرسمہارائو کی حکومت کو لے جاتے ہوئے کانگریس کی مٹی پلید کرائی گئی تھی

نرسمہارائو کے زمانے میں کانگریس کو لگنے والا زناٹے دار طمانچہ پارٹی کواس قدر گھائل کرگیا تھا کہ زخموں کے بھرنے میں دہائیاں گذرگئیں۔ اپنے بوتے پر حکمرانی کرنے والی کانگریس پارٹی کی کمر ایسی ٹوٹی کہ آج بھی اسے بیساکھی کی ضرورت درپیش ہے لیکن اس کے باوجود پارٹی نے ہوش کے ناخن نہیں لیے اور ایک بار پھر سنگھ کا غلبہ پارٹی پر دیکھنے کو مل رہا ہے

اسی غلبے کے نتیجے میں ممبئی کے ٹرین دھماکوں کے بعد افسر شاہی کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا اور مسلمانوں کے کردار و افعال کو گویا ایک طرح سے مکمل طور پرشکوک کے دائرے میں لاکھڑا کیا گیا۔ ہرچندکہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس چیئرپرسن محترمہ سونیا گاندھی کاذاتی نظریہ مسلمانوںکے تعلق سے اب تک غیر جانبدار دکھائی دیتا رہا تھا اور مختلف مواقع پر ان دونوں سربرآوردہ شخصیتوں کی جانب سے مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کا موضوع زیر بحث لایا جاتا رہا لیکن رہی سہی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب جسٹس سچر نے اپنی کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات وزیر اعظم کے سپرد کیے اور اس کے بعد ان دونوں ہستیوں نے اس رپورٹ کے مندرجات یا سفارشات کے حوالے سے حیرت انگیز طور پر خاموشی برت لی

سوال یہ ہے کہ اس خاموشی کا راز کیا ہے؟کیا وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل پانے والی کمیٹی کا مقصد صرف مسلمانوںکی بے کسی، محرومی، پسماندگی اور غربت کے احوال وکوائف جمع کرنا ہی تھا یا اس کی روشنی میں کوئی مثبت یا تعمیری قدم اٹھانے کا ارادہ بھی تھا۔ یہ سوال اس وقت موضوع بحث بنا ہوا ہے کیونکہ مسلمانوں کے تعلق سے مضبوط قوت ارادی کا استعمال کرتے ہوئے کوئی مربوط منصوبہ تیارکرنے کے بجائے سیاسی سطح پر سچرکمیٹی کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش دیکھی جارہی ہے

مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرانے کے حوالے سے نام نہاد سیکولر طاقتیں شد ت کے ساتھ بیانات دے رہی ہیں تاکہ بالعموم مسلمانوں کے مابین یہ پیغام عام ہو کہ وہ مسلمانوں کی غم خوار ہیں جب کہ دوسری جانب بی جے پی نے اکثریتی طبقہ کے رائے دہندگان کو منظم اورمتحدکرنے کے لیے مسلمانوںکو کسی بھی قسم کی تحفظات فراہم کرانے کی سختی سے مخالفت شروع کردی ہے اوراس طرح پوراہندوستان دو متحارب دھڑوں میں منقسم ہوکر رہ گیا ہے۔ اس سے فرقہ  مظلوم کو صرف اور صرف خسارے کا سامنا ہے اورسیاسی قبیلوں نے اپنے اپنے فائدے کے لیے مسلمانوں کی حمایت اور مخالفت میں صدائیں بلند کرنا اپنا فرض سمجھا ہوا ہے

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے کے ساتھ ہی ساتھ حمایت و مخالفت کی بلندہوتی صدا اب ایوان نمائندگان میں بھی اسی طرح شدت کے ساتھ اٹھ۔ اہل سیاست کی سیاسی نعرے بازی کے درمیان حقیقی طور پر مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے کچھ کرنے کا معاملہ ان نعروں تلے دب کر گم ہوچکا ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات