|
رکھنے
والے عسکریت
پسند
نماز جمعہ کے لیے جمع تھے- نماز جمعہ کے دوران ہی اسرائیلی فوج نے
بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں اور بھاری تعداد میں فوج نے غزہ کے شمالی
شہر بیت حانون کی جامع مسجد النصر کا چاروں اطراف سے محاصرہ کرلیا-
اس کارروائی میں تقریباً ایک ہزار اسرائیلی فوجیوں اور سیکورٹی
اہلکاروں نے حصہ لیا
مقامی
خواتین اور
عکسریت پسندوں
کے خاندانوں کو جب اسرائیلی فوج کے محاصرے کی اطلاع ملی تو انہوں نے
عسکریت
پسندوں
کو ہر قیمت پر بچانے کا فیصلہ کیا- چنانچہ بیت حانون سے تعلق رکھنے
والی بعض سرکردہ خواتین نے فوری طور پر ایک دوسرے سے رابطہ کیا
مرکزاطلاعات
فلسطین کے مطابق
ان میں
رکن اسمبلی جمیلہ شنطی، ام عیسی، ام اباد اور ام ایمن شامل تھیں- ان
خواتین نے فوری طور پر تقریباًدو سو خواتین کو اکھٹا کر کے جامع مسجد
النصر کی جانب مارچ شروع کیا، تقریباً ایک گھنٹے تک اسرائیلی فوج کے
ساتھ کشمکش جاری رہنے کے بعد خواتین
عسکریت پسندوں کو
مسجد سے نکلانے میں کامیاب ہوگئیں
جھڑپوں کے دوران خواتین نے خود کو
عسکریت پسندوں
کی ڈھال کے طور پر استعمال کیا- اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین
خواتین
اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک
گئیں
اور ایک درجن کے قریب خواتین زخمی ہوئیں- ذیل میں واقع کی تفصیلات کے
حوالے سے خواتین کے تاثرات پیش کیے جارہے ہیں-
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے پلیٹ فارم سے منتخب رکن قومی اسمبلی
محترمہ جمیلہ شنطی کہتی ہیں:
’’ہمیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے صہیونی فوج کے حصار میں آجانے کی
جیسے ہی اطلاع ملی، ہم نے ہر قیمت پر مجاہدین کو بچانے کا فیصلہ کیا-
خواتین اس سرعت کے ساتھ جمع ہوئیں جس کا ہمیں اندازہ نہ تھا- میں نے
بعض سرکردہ خواتین سے رابطہ کیا تو ان کو خود سے زیادہ بے قرار پایا
چنانچہ ہم نے اجتماعی شکل میں جامع مسجد النصر کی جانب مارچ شروع
کیا- ہمیں اسرائیلی فوج کی جارحیت کا اندازہ تھا لیکن ہمارا عزم اس
قدر بلند تھا کہ ہمیں اسرائیلی مزاحمت کا احساس تک نہ ہوا- خواتین
مسجد کے اردگرد پھیل گئیں- اس وقت نماز جمعہ ادا کی جاچکی تھی اور لگ
بھگ ایک ہزار کے قریب اسرائیلی فوجی مسجد کا محاصرہ کیے ہوئے تھے- وہ
سب کے سب بھاری ہتھیاروں سے مسلح تھے- پہلے اسرائیلی فوجیوں نے ہمیں
زبانی مسجد کے قریب سے ہٹ جانے کی ہدایت کی اور عمل درآمد نہ کرنے پر
سخت نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی
جب
فوجیوں نے دیکھا کہ ہم پر زبانی بات کا اثر نہیں ہوا تو جبراً ہٹانے
کے لیے فائرنگ شروع کردی، اچانک میری نظر مسجد کے عقب کی طرف اٹھی
جہاں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک لڑکی زخمی حالت میں تڑپ رہی تھی
اور کچھ خواتین اسے اٹھانے کے لیے آگے آرہی تھیں
یہ
خواتین کے لیے ایک کڑی آزمائش تھی لیکن ہماری خواتین مسجد کے اندر
بھی داخل ہو چکی تھیں- اب اسرائیلی فوج مکمل طور پر جارحیت پر اتر
آئی تھی- یکے بعد دیگرے دو اور خواتین بھی اپنے بھائیوں کے تحفظ کے
لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی تھیں-
اسرائیلی فوج کی طرف سے خواتین پر لاٹھی چارج کا سلسلہ جاری تھا اور
تقریباً ایک سو خواتین مجاہدین کو مسجد سے نکال کر اپنے حصار میں لیے
نکلنے کی کوشش کررہی تھیں- اسرائیلی فوج اندھا دھند فائرنگ کیے جارہی
تھی- اس دوران ہم نے تین زوردار دھماکے سنے اور فضاء دھوئیں اور
گردسے سے گھر گئی
یہ
جامع مسجد النصر پر داغے گئے بموں کی آواز تھی- گرد ہٹنے تک خواتین
مجاہدین کو لے کر محفوظ ٹھکانوں تک جاچکی تھیں- دوسری جانب مسجد
النصر شہید ہو چکی تھی-‘‘
ام عیسی یوں احوال بیان کرتی ہیں:
’’ہم ویسے بھی ہر وقت حالت جنگ میں رہتے ہیں- مجاہدین کے محصور ہو
جانے کی خبر ہمارے لیے کوئی نئی نہ تھی- جب محترمہ جمیلہ نے مجھ سے
مجاہدین کو بچانے کے لیے کوشش کرنے کی بات کی تو گویا انہوں نے میرے
دل کے فیصلے کی تائید کی- میں نے فوری طور پر ان کے فیصلے کی تائید
کی چنانچہ ہم دو سو کے لگ بھگ خواتین محترمہ جمیلہ شنطی کی قیادت میں
جامع مسجد کی طرف روانہ ہوئیں
اسرائیلی فوج سے جھڑپوں میں میرے بازو میں ایک گولی لگی لیکن اس کے
باوجود میں مجاہدین کو بچانے کے لیے خواتین کے حلقہ حصار میں شامل
رہی- ‘‘
معرکے میں شامل ام ایاد کے الفاظ:
’’ہم اللہ سے فتح و نصرت کی دعا کر کے النصر مسجد کی طرف روانہ ہوئے
راستے میں ہمارے ساتھ اور خواتین بھی شامل ہوتی رہیں- جن میں سے
اکثریت نوجوان لڑکیوں کی تھی- شہید ہونے والی صفیہ میری کزن ہے- اس
کا بھائی بھی محصورین میں شامل تھا- اپنے بھائی کو بچانے والی صفیہ
نے میرے ہاتھ سے پرچم لے لیا اور آگے بڑھ کر نعرے لگاتی ہوئی مسجد کے
قریب پہنچ گئی
ایک
اسرائیلی
فوجی نے اپنے افسر کے حکم پر صفیہ پر گولی چلائی - سر، گردن اور سینے
میں گولیاں لگنے سے وہ موقع پر دم توڑ گئی
صفیہ کے زمین پر گرتے ہی ایک دوسری لڑکی نے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے
پرچم تھام لیا- اسی اثناء میں خواتین مسجد پر حملہ کر کے مسجد کے
اندر داخل ہوگئیں، ہم سب کی زبانوں پر اللہ اکبر کے نعرے تھے اور
اسرائیلی فوجی اپنے تمام تر اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کے کے ساتھ
مایوس ہو چکے تھے-‘‘ |