Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 23 November 2006 12:03 (PST)اشاعت

پاکستان کی 80 فیصد آبادی کا علاج جڑی بوٹیاں ہیں

مختار آزاد

اردو سروس ڈاٹ نیٹ، کراچی

پاکستان میں اسی فیصد لوگوں کا علاج جڑی بوٹیاں ہیں

پاکستان میں ادویاتی نباتات اور جڑی بوٹیوں کی تجارت میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران اضافے کا رجحان  دیکھنے میں آیا ہے اور اس وقت یہ تجارت 130 ملین امریکی ڈالر سالانہ کے مساوی ہے۔ ملک سے یورپی ممالک کے لیے نہ صرف جڑی بوٹیاں برآمد

 کی جارہی ہے بلکہ متعدد قریبی ممالک سے انہیں درآمد بھی کیا جارہا ہے، تاہم ان جڑی بوٹیوں کی متعدد اقسام تیزی سے ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ غربت، علاج و معالجہ کی سہولتوں کی عدم فراہمی کے سبب ملک کی 80 فیصد دیہی آبادی علاج کے لیے جڑی بوٹیوں سے علاج پر انحصار کرتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق ملک میں دو ہزار سے زائد ادویاتی نباتات پائے جاتے ہیں

پاکستانی ادویاتی پودوں کے حوالے سے حال ہی میں ایک تازہ ترین تحقیق سامنے آئی ہے، جسے ملک میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سربراہ اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ برائے کیمیا، کراچی کے ڈائریکٹر و ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمان کی سربراہی میں مکمل کیا گیا ہے۔ تحقیق کا موضوع پاکستان میں پائے جانے والے ادویاتی پودوں کی تجارت، برآمد اور روایتی طریقئہ علاج میں ان کی اہمیت تھا

 ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں پائے جانے والے دو ہزار سے زائد ادویاتی پودوں میں سے چار سو کے لگ بھگ وہ اقسام ہیں کہ جن کا روایتی طب میں استعمال نہایت عام ہے۔ تجارتی بنیادوں پر استعمال کیے جانے والے ان ادویاتی پودوں میں سے زیادہ تر پاکستان کے شمال میں واقع بلند و بالاالپائن پہاڑی سلسلوں کے دامن،گھنے جنگلات ، نیم مرطوب ڈھلوان دار پہاڑی جنگلوں کے علاوہ نیم خشک میدانی علاقوں کی جھاڑی دار زمین پر پائے جاتے ہیں

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ادویاتی نباتات کی باقاعدہ اور محفوظ افزائش و پیداوار کے نظام کی عدم موجودگی، استعمال کے لیے زمین سے علیحدہ کرنے کے غیر دانشمندانہ طریقے، چراگاہوں کے طور پر زمین کے بے دریغ استعمال اور قدرتی ماحول میںبڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ان کا تیزی سے خاتمہ ہورہا ہے۔''

ملک میں ادویاتی پودوں کی پیداوار اور معاشی نکتئہ نظر سے ان پر انحصار کیے جانے کے حوالے سے دلچسپ انکشافات تحقیق میں شامل ہیں۔ تحقیق کا کہنا ہے '' ادویاتی پودوں کی پیداوارکے حوالے سے ملک میں سب سے اہم مقام ہزارہ اور مالاکنڈ کو حاصل ہے، جہاں سے جڑی بوٹیوں

پاکستان میں آج جڑی بوٹیاں ناپید ہو رہی ہیں

 

 کی سالانہ500ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد آزاد جموں و کشمیر ہے ، جہاں سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیوںکی کُل سالانہ مقدار38ٹن ہے۔ شمالی علاقہ جات سے24اور مری کے پہاڑی سلسلے سے لگ بھگ16 ٹن جڑی بوٹیاں اور نباتات حاصل ہوتے ہیں

نباتاتی ادویات کی پیداواراور ان کے حصول کے حوالے سے ملک کے جن علاقوںکا ذکر کیا گیا ہے، وہاں کے مقامی لوگوں کی معیشت زیادہ ترقدرتی وسائل پر ہی انحصار کرتی ہے، اس لیے جڑی بوٹیوں کا اکھٹا کرنا ان کے لیے معاشی طور بھی مددگار ہے، تاہم ایک حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بالعموم سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے روایتی علم کے ذریعے ہی جڑی بوٹیوں میں امتیاز کرپاتے ہیں، لیکن ان ادویاتی پودوں کو ان لوگوں سے بھی خطرہ رہتا ہے جو بطورِ چارہ استعمال ہونے والے عام پودوں اور ادویاتی نباتات میں امتیاز نہیں کر پاتے، نتیجے میں یہ قیمتی پودے مویشیوں کی خوراک بن جاتے ہیں یا پھر پاؤں تلے آکر کچلے جاتے ہیں

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ'' اس وقت ملک کے نیم خشک خطوں سمیت صوبہ سرحد اور ملک کے شمالی علاقوں میں لگ بھگ پانچ ہزار سے زائد غریب خاندان جڑی بوٹیاں اکھٹا کرنے کے کام سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی اکثریت صوبہ سرحد، شمالی علاقہ جات اور آزاد جموں و کشمیر کی وادیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کا یہ کام موسمِ گرماکے مہینوں میں شروع ہوتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ متعدد ادویاتی نباتات کو بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں کے سبب بقا کے خطرات لاحق ہیں۔''

پاکستان کے شہری علاقوں میں اگرچہ ایلو پیتھک ادویات کا استعمال نہایت عام ہے، لیکن غربت زدہ دیہی علاقوں کے باشندوں کی اکثریت کا شفا کے لیے روایتی طبِ یونانی پر انحصار کے سبب اس وقت پاکستان میں27 بڑی دوا ساز کمپنیاں کام کررہی ہیںجو ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کے اجزا سے صدیوں پرانے دیسی نسخوں پر مشتمل دوائیںتجارتی بنیادوں پر تیار کررہی ہیں۔ علاوہ ازیںچار سو کے لگ بھگ کمپنیاں غیر منظم شعبے میں دیسی ادویات سازی سے وابستہ ہیں

تحقیق نے دوا سازی کے شعبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملکی اور کثیرالقومی دوا ساز کمپنیوں میں مقامی ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوںکی سالانہ طلب 20 ہزار ٹن سے زائد ہے۔ تحقیق میں اس حوالے سے نہایت حیران کن اعدا و شمار بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق1989ء سے1990ء کے درمیانی عرصے میں14ہزار ٹن نباتاتی ادویاتی اجزا پاکستان میں کام کرنے والی اِن دواساز کمپنیوں نے درآمد کیے جبکہ اسی مدت کے دوران ملک سے106ٹن نباتاتی ادویاتی اجزا مختلف ملکوں کو برآمد کیے گئے۔ ملک میں پائے جانے والے ادویاتی اور ایسے پودے جن کا استعمال خوشبو اور آرائشی اشیا کی تیاری میں بھی کیا جاتا ہے ،ملک اور بیرونِ ملک بڑی تجارتی منڈی رکھتے ہیں

ایک تخمینے کے مطابق2001ء کے دوران ملک میں ادویاتی اہمیت کے حامل قدرتی نباتات کی سالانہ تجارت کا حجم90ملین امریکی ڈالر تھا، جو گزشتہ ثھ برسوں میں بڑھ کر 130ملین امریکی ڈالر سالانہ سے تجاوز کرچکا ہے۔ پاکستان جرمنی سمیت متعدد ےچرپی ممالک کو نہ  صرف نباتاتی ادویاتی اجزا درآمد کرتا ہے بلکہ چین، بھارت، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ایران اور افغانستان سے ان کی درآمد بھی کی جاتی ہے

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں برآمد کیے جانے والے ادویاتی پودں اور نباتات میں لگ بھگ 60فیصد ایسی اقسام شامل ہیںجو ملک کے شمالی علاقوں میں پائی جاتی ہیں ، لیکن بدقسمتی سے ہم ان کی درآمد پر ہر سال لاکھوں ڈالر کا زرِ مبادلہ خرچ کرڈالتے ہیں مگر اندرونِ ملک موجود اس قدرتی وسیلے کے تحفظ سے لاپرواہی برتتے ہیں۔ ماہرِ نباتات رفیع الحق کا کہنا ہے کہ وہ ادویاتی پودے جن کے بارے میں ہمارا روایتی علم اور جدید سائنسی معلومات موجود ہیں ، ان کی بقا کے لیے جدید خطوط پر استوار منظم اقدامات کیے جائیں

روایتی طریقئہ علاج میں جڑی بوٹیوں اور نباتات کے استعمال کا چلن صدیوں سے موجودہے اور اپنی اثر پذیری کے سبب مختلف امراض میں شفایابی کا زبردست سرچشمہ سمجھے جانے کے علاوہ آرائشی اشیا کی تیاری میں بھی ان کا استعمال تیز تر ہوگیا ہے

پیلو، نیم، پھوگ، رتن جوگ، بریان، بکائن، کہو، جنگلی پودینہ، ملیٹھی، سمبلو، گلاب، جنگلی پیاز، چونگا، اسپغول، ایفیڈرا، موہری، نیر، اجوائنِ خراسانی، چورہ، گلِ بنفشہ، گاؤ زبان، ریٹھا، نیلا دھاری، پنجا، زخم حیات وغیرہ وہ چندجڑی بوٹیاں اور ادویاتی پودے ہیںجو صدیوں سے مشرق میں نہ صرف شفا یابی کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کے خواص کو مغرب کی جدید طب نے بھی تسلیم کیا ہے اور تجارتی بنیادوں پر ان کے اجزا کا ادویات میں استعمال عام ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات