|
آرڈر دے دیتا ہوں
تھوڑی دیر میں چائے میرے سامنے رکھ
دی جاتی ہے ۔ریسٹورنٹ کی دیوارپر لگی ہوئی گھڑی کی چھوٹی سوئی 8 کے
ہندسہ پر اور بڑی سوئی12پر پہنچتی ہے ۔ اتنے میں ٹی وی پرٹی وی
انونسر نمودار ہوتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ ناظرین اب صدر پاکستان
کا قوم کے نام خطاب پیش کیا جائے گا اس کے ساتھ ہی پاکستان کا قومی
ترانہ بجایاجاتا ہے اورترانے کے ختم ہوتے ہی سکرین پر جنرل پرویز
مشرف نظر آتے ہیں اور فرماتے ہیں:
’’بسم اللہ الرحمن الرحےم
میرے عزیز ہم وطنو، اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
دہشت گردوں کے خلاف میں نے اقوام متحدہ کا تبلیغی نصاب مکمل کرکے اس
کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ چنانچہ مجھے اقوام متحدہ نے اپنے ادارہ کے
ساتھ امن کے سفیر کی حیثیت سے کام کرنے کا ڈیمانڈ لیٹر بھیج دیا ہے
اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی زندگی کا باقی حصہ اسی ادارہ کے
ساتھ امن مشن کے سفیر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے گزار دوں
میرے عزیز ہم وطنو# جیسا کہ عوام
اورملک کے سیاستدانوں کا مطالبہ تھا کہ میں ملک میں جمہوری عمل
کوفروغ دوں اور اپنی وردی اتار دوں۔ آج میں ساری قوم کے سامنے اپنی
وردی اتاردیتا ہوں ۔ ریسٹورنٹ میں موجود لوگ نعرے لگانا شروع کر دیتے
ہیں، حاجی پرویز مشرف زندہ باد، امیر المومنین پرویز مشرف زندہ باد،
جنرل پرویز مشرف زندہ باد....
صدر پاکستان جناب جنرل پرویز مشرف ناظرین کے سامنے اب جناح ٹوپی کے
ساتھ کالی شیروانی میں دوبارہ نمودار ہوتے ہیں۔ریسٹورنٹ میںموجود
نعرے لگانے والے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ صدر
پاکستان کا خطاب سننے میں دوبارہ مگن ہو جاتے ہیں۔
صدر پاکستان جناب جنرل پرویز مشرف فرماتے ہیں: میرے عزیز ہم وطنو
میں اس اہم فیصلہ کے ساتھ ایک اور
اعلان بھی کرنا چاہتا ہوں کہ میں سب سیاستدانوںکے لئے عام معافی کا
اعلان کر تا ہوںاور دعوت دیتا ہوں کہ ملک کے تینوں لیڈر جو ملک سے
باہر ہیں واپس آکر ملک کی سیاست کو سنبھال لیں، ان کے خلاف جتنے بھی
مقدمات ہیں ان سب کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور ان تینوں لیڈروں
کو اس کا کلیرنس حکومت کی طرف سے آج بھیج دیا جائے گ
مجھے اس بات کی پوری امید ہے
کہ میرے اس اعلان کے ساتھ ہی ملک سے انتقامی سیاست کا کاتمہ ہو جائے
گا۔ میںموجودہ تمام اسمبلیوں کو ختم کرتا ہوں اور عام انتخابات کا
اعلان کر تا ہوں۔ریسٹورنٹ میں موجود لوگ پھر نعرے لگانا شروع کر دیتے
ہیں، حاجی پرویز مشرف زندہ باد، امیر المومنین پرویز مشرف زندہ باد،
جنرل پرویز مشرف زندہ باد....
صدر پاکستان جناب جنرل پرویز مبشرپھر فرماتے ہیں میرے عزیز ہم وطنو
ریسٹورنٹ میںموجود نعرے لگانے والے خاموش ہو جاتے ہیں اور پہلے جیسی
خاموشی کے ساتھ صدر پاکستان کا دوبارہ خطاب سننے میں مگن ہو جاتے ہیں
میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف#
محترم جناب عبدالستار ایدھی کو نگران وزیراعظم مقرر کرتا ہوں۔ میری
نظرمیں ان سے بہتراور مخلص آدمی ڈھونڈنا بہت مشکل ہے،،ریسٹورنٹ میں
موجود لوگ پھر نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں، حاجی پرویز مشرف زندہ
باد، امیر المومنین پرویز مشرف زندہ باد، جنرل پرویز مشرف زندہ
باد....
صدر پاکستان جناب جنرل پرویز مشرف پھر فرماتے ہیں میرے عزیز ہم وطنو#
ریسٹورنٹ میںموجود نعرے لگانے والے خاموش ہو جاتے ہیں اور خاموشی کے
ساتھ صدر پاکستان کا دوبارہ خطاب سننے میں مگن ہو جاتے ہیں
میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف #
پاکستان کے عوام کو مبارک باد پیش کر تا ہوںکہ ان کو یہ جمہوری سفر
مبارک ہو۔اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد، قائد
اعظم پائندہ باد‘‘۔
پاکستان کا قومی ترانہ دوبارہ بجایا جاتا ہے، ترانہ کے ختم ہونے کے
بعد ریسٹورنٹ میں موجود لوگ پھر نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں، حاجی
پرویز مشرف زندہ باد، امیر المومنین پرویز مشرف زندہ باد، جنرل پرویز
مشرف زندہ باد....
لوگ اب آہستہ آہستہ ریسٹورنٹ سے
باہر نکلنا شروع کر دیتے ہیں ساتھ میں نعرے لگا رہے ہیں’’حاجی پرویز
مشرف زندہ باد، امیر المومنین پرویز مشرف زندہ باد، جنرل پرویز مشرف
زندہ باد..‘‘..لوگ جب مین روڈ پر آتے ہیں ہر طرف سے لوگ نعرے لگاتے
ہوئے ایک جلوس کی شکل میںچلنا شروع کر دیتے ہیں۔ مختلف دوسرے روڈوں
سے بھی لوگ اس جلوس میں آ کر مل رہے ہیں
جھنڈے ہی جھنڈے ہر طرف نظر آ رہے
ہیں جن میںاکثریت پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے جھنڈوں کی
ہے۔آج اس تاریخی جلوس میں کوئی بھی نعرہ مردہ باد کا نہیں ہے۔ ہر
کوئی ایک ہی نعرہ لگا رہا ہے، ،حاجی پرویز مشرف زندہ باد، امیر
المومنین پرویز مشرف زندہ باد، جنرل پرویز مشرف زندہ باد۔۔۔۔۔۔
امیر المومنین حاجی جنرل پرویز مشرف
کی نگرانی میں جمہوری عمل چل نکلتا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی
محترمہ بے نظیر بھٹو، پاکستان مسلم لیگ کے میاں محمدنواز شریف اور
قائدِقومی موومنٹ جناب الطاف حسین پاکستان آ جاتے ہیں۔ اپنی اپنی
پارٹی کی قیادت فرماتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ کے میاں نواز شریف اور
قائدِقومی موومنٹ جناب الطاف حسین الیکشن میں حصہ نہیں لیتے اور
دونوں ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹوکے لئے مکمل
سیاسی راستہ کھول دیتے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی محترمہ بے
نظیر بھٹوبھاری اکژیت سے کامیاب ہو جاتی ہیں۔وہ پاکستان مسلم لیگ
اورقومی موومنٹ کے ساتھ مل کر اپنی حکومت بناتی ہیںاورپاکستان کی
تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہو جاتی ہیں۔گزرے ہوئے اچھے دنوں کو یاد
کر کے مولانا فضل الرحمن کو اپنا نائب وزیر اعظم منتخب کر لیتی ہیں
اور ایم ایم اے والوں کے دل جیت لیتی ہیں
منتخب پارلیمنٹ میاں محمدنواز شریف
کو اسلامی جمہوری پاکستا ن کا صدر منتخب کر لیتی ہے، پاکستان کی سینٹ
بھاری اکثریت سے قائدِقومی موومنٹ جناب الطاف حسین کو سینیٹر منتخب
کرنے کے بعد ان کو بلا مقابلہ چیئرمین سینٹ منتخب کر لیتی ہے
پاکستان کی نو منتخب وزیر اعظم قوم
سے خطاب کرکے اپنی کیبنٹ کے وزراء اور ان کے محکموں کے متعلق عوام کو
اعتماد میں لیتی ہیں۔وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو ٹی وی پر
قوم کو خطاب فر تی ہیں، عوام نے مجھے تیسری بار اس ملک کی وزیر اعظم
منتخب کیا ہے ، میں آپ کا اس پر شکریہ ادا کرتی ہوں اور ساتھ میں اس
بات کا بھی یقین دلاتی ہوں کہ مردِ اول میرے مجازی خدا آصف ذرداری کا
کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ان کو ایسے ہی دشمنوں نے جو اب میری پارٹی
کے سجن بن چکے ہیں انہوں نے ایسے خواہ مخواہ اس بات کواڑا دیا
تھا۔مسٹرزارداری کو صر ف ہاتھوں سے نوٹ گننے کا شوق ہے اور ان کے اس
شوق کو دیکھتے ہوئے اور ان پر جو کرپشن کے داغ تھے ان کو صاف کر نے
کے لئے میں نے ان کو سٹیٹ بنک کا گورنرنامزد کیا ہے تاکہ وہ خود ہی
ان نوٹوں کو اپنے ہاتھوںسے گن گن کر رکھیںاوران ہی کے پاس اس کا حساب
رہے اوروہی اس کے جواب دہ ہوںگے۔ میں یہاں یہ کہنا بھی چاہوں گی۔
Listen My Son Bilawal I am your Mom. You must proud of your Mom.
This is the third Time I am selected as a Prime Minister of
Pakistan. Ask your friends. Do they have Mom like me]
میں یہاں نامزد گورنر اسٹیٹ بنک کو حکم دیتی ہوں کہ وہ ایک لاکھ روپے
کا نوٹ بھی جاری کریں جس پر میرے ڈیڈ کی فوٹو بھی ہو۔ اس سے لوگوں کو
نوٹ کیری کرنا آسان ہوں گے اور مسٹر زرداری کو گننے میں بھی آسانی ہو
گی۔جیساکہ آپ کو معلوم ہے کہ مجھ سے پہلے اس ملک کے وزیر اعظم جناب
شوکت عزیز اس بات پر ناراض تھے اور وہ ملک سے باہرچلے گئے ہیںکہ ان
کی حکومت کو وقت سے پہلے کیوں ختم کیا گیا ہے
جناب شوکت عزیز صاحب کو درلڈ
بنک میںملازمت مل گئی ہے اور انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ اس
بنک میں رہ کر بھی قوم و ملت کی خدمت کرتے رہیں گے اور جب بھی ملک کو
قرضہ کی ضرورت ہو گی وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ منظور کر وادیں بے
شک وہ کس قیمت پر ہی کیوں نہ ملے۔جیسا کہ ہم سب نے اس بات کا قوم سے
وعدہ کیا ہے کہ ہم کسی قسم کی انتقامی سیاست کو ملک میں پنپنے نہیں
دیں گے
میں پارلیمنٹ کے نو منتخب حزب
اختلاف جناب چوھدری شجاعت حسین کو اپنی طرف سے اور اپنے منتخب ممبران
قومی اسمبلی کے تعاون کا مکمل ےقین دلاتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ
وہ بھی میرے خلاف ایوان میں عدم تعاون کی تحریک پیش نہیں کریں گے۔
جمہوریت کی ملک میں بحالی کی خوشی میں میں دو دن کی تعطیل کا اعلان
کرتی ہوں۔Please enjoy the Democracy System in this Country.
میرے عزیز ہم وطنو، آپ کو جمہوریت مبارک ہو۔عوام زندہ باد ، فخر
جمہوریت زندہ باد، پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد۔
اسلامی جمہوری پاکستان کے نئے صدر میاں محمدنواز شریف قوم سے اپنے
پہلے خطاب میں فرماتے ہیں : ’’جیسا کہ آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ
میں اس سے پہلے دو دفعہ وزیر اعظم بن اس ملک کی خدمت کر چکا ہوں اور
اس بار اسلامی جمہوری پاکستان کے صدرکی حیثیت سے قوم کی خدمت کرنے
کیلئے میں آپ کی سامنے میں حاضر ہوا ہوں
جیساکہ ملک میں اس وقت جو مسائل ہیں
ان میں سب سے بڑا مسئلہ زراعت کے نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں اپنی
پارٹی ورکروں کو ھدایت کر تا ہوں کہ وہ کاشت اور زراعت کی طرف توجہ
دیں تاکہ ہمارا ملک اپنی ملکی ضرورت کو بھی پورا کرے اوراس کو ہم
دوسرے ملکوں میں بھی برآمد کر سکیں۔ میری پارٹی کا نعرہ ہے کہ ’’دب
کے واہ بیلیاتے رج کے کھا بیلیا‘‘۔ لہذا اب میری ساری پارٹی اسی نعرہ
کے تحت ملک کی خدمت کرے گی‘‘
سینٹ کے نو منتخب چیئرمین جناب الطاف حسین سینٹ کواپنے پہلے خطاب میں
فرماتے ہیں’’جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہماری پارٹی پرہمارے مخالفین
کے بہت سارے الزامات ہیں۔جن میں ایک یہ ہے ہمارے پارٹی ورکر مخالفین
کے ورکروں پر ڈرل مشین استعمال کرتے ہیں،میں پارلیمنٹ سے سفارش کرتا
ہوں کہ ملک میں یہ قانون پاس کیا جائے کہ ملک کا کوئی شہری لائسنس کے
بغیر ڈرل مشین نہیں رکھ سکتا
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے
پارٹی ورکرز پارٹی فنڈ اکھٹا کر نے میں کافی مہارت رکھتے ہیں
میںپارلیمنٹ سے سفارش کرتا ہوں کہ ہمارے پارٹی ورکرز کو زکوۃ فنڈ
اکھٹا کرنے کے لئے ملک بھر میں ناظم زکوۃ مقرر کیا جائے
ملک میں جمہوریت بحال ہو گئی تھی،
آج ملک کے سابق امیر المومنین حاجی جنرل (ر)جناب پرویز مشرف صاحب کو
اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے ا قوام متحدہ نیویارک روانہ
ہونا تھا۔ لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ ایئر پورٹ کی طرف پیدل، سائیکلوں
پر، موٹر سائیکلوںپر ، بسوں اور کاروں پر رواں دواں نظر آ رہے تھے
ایئر پورٹ پر پہلے ہی تل دھرنے کو
جگہ نہ تھی۔ ایئر پورٹ پرپہلے سے ہی اسلامی جمہوری پاکستان کے نئے
سینٹ کے نو منتخب چیئرمین جناب الطاف حسین صاحب، اسلامی جمہوری
پاکستان کے نئے صدر میاں محمدنواز شریف صاحب اور اسلامی جمہوری
پاکستان کی نئی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹواپنی کیبنٹ کے
ساتھ ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے لئے امن کے سفیر جناب حاجی جنرل
(ر)جناب پرویز مشرف صاحب کو الوداع کرنے کے لئے موجود ہیں
اچانک سیکورٹی سائیرن کے ساتھ
گاڑیوں کا قافلہ ائیرپورٹ میں داخل ہوتا ہے۔امن کے سفیر جناب حاجی
جنرل (ر)جناب پرویز مشرف صاحب ایک کالے رنگ کی مرسیڈیس سے اپنی بیگم
کے ساتھ گاڑی سے باہر تشریف لاتے ہیں
اسلامی جمہوری پاکستان کے سینٹ کے چیئرمین جناب الطاف حسین صاحب،
اسلامی جمہوری پاکستان کے صدر میاں محمدنواز شریف صاحب اور اسلامی
جمہوری پاکستان کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹوصاحبہ باری
باری امن کے سفیر جناب حاجی جنرل (ر)جناب پرویز مشرف صاحب ا ور ان کی
بیگم کو اپنے گلدستے پیش کر تے ہیں
پورا ائیرپورٹ عوام کے نعروں
کے ساتھ گونج اٹھتا ہے،’’امن کے سفیر جناب حاجی جنرل (ر)جناب پرویز
مشرف زندہ باد،،امن کے سفیر جناب حاجی جنرل (ر)جناب پرویز مشرف
پائندہ باد۔۔۔‘‘
امن کے سفیر جناب حاجی جنرل (ر)جناب پرویز مشرف صاحب اپنی بیگم کے
ساتھ طیارے میں داخل ہو جاتے ہیں، عوام مسلسل ہاتھ ہلا تے اور نعرے
لگا تے جا رہے ہیں
تھوڑی دیر میں طیارہ آنکھوں
سے اوجھل ہو کر فضاوں میں گم ہو جاتاہے اور لوگ واپسی کی رہ لیتے
ہیں۔ میں بھی واپسی کی رہ لیتا ہوں اور ایک بس میں سوار ہو نے کی
کوشش کر تا ہوں رش بہت تھا اور لوگ بھی ایک دوسرے کی پرواہ کئے ایک
دوسرے کو کھینچ رہے تھے کہ وہ پہلے سوار ہو جائیں۔میرا بازو بھی ایک
محترمہ نے زور سے کھینچنا شروع کیا
مجھے پہلے جانے دیں، مجھے پہلے جانے
دیں میں نے پوری کوشش سے محترمہ سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی کہ
وہ میرا بازو چھوڑ دیں۔ لگ رہا تھا کہ اب کوئی مجھے جھنجوڑ رہا ہے کہ
اچانک میری آنکھ کھل گئی میری بیوی میرے بازو کو پکڑ کر جھنجوڑ رہی
تھی کہ آج آپ اتنی گہری نیند سو رہے تھے کتنی دیر سے آپ کو جگا رہی
تھی آج کیا آفس نہیں جانا۔ میں ہوش میں آتے ہی بیڈ پر سیدھا ہو کر
بیٹھ گیا
اس نے کچھ اور کہنا شروع کر دیا۔ آج
کل آپ رات بھر بیٹھ کر کالم لکھتے رہتے ہیں اور خواہ مخواہ اپنی نیند
کو برباد کرتے ہیں۔ آپ اپنے ذہن سے یہ خبث نکالیں اور کالم لکھنے کا
شوق چھوڑیں۔ اپنی صحت کا خیال کیا کریں اور وقت پر سو جایا کریں۔
دفتر کی طرف گاڑی چلاتے ہوئے دل میں خیال آ رہا تھا کہ اگرموجودہ
حکومت نے خوابوں پرچیک لگا دیا تو میں فورا۔ ً دھر لیا جاوں گا
میری توبہ آج سے میں وقت پر سو جایا
کروںگا اور خبردار اس کے بعد اگرکوئی ایسی خواب دوبارہ دیکھی تو۔۔ |