Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 08 November 2006 08:52 (PST)اشاعت

تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے بھروسہ اٹھ گیا

معظم کاظمی
اردوسروس ڈاٹ نیٹ، جرمنی

حدود قانون صدر ضیا الحق نے نافذ کیا تھا جسے صدر مشرف ختم کرنا چاہ رہے ہیں

آج پھر ایم ایم اے تحریک چلانے کی بات کر رہی ہےجبکہ آج تک پاکستانی تاریخ میں انہی مذہبی اور قدامت پسند تنظیموں نے جو آج متحدہ مجلیس عمل میں شامل ہیں نے ہر ظلم اور آمریت کے لیے راہ ہموار کی ہے۔عوام ابھی نہیں بھولے کے پاکستان کے ایک

منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی کس نے دلائی اور پاکستانی تاریح کی سب سے زیادہ بھیانک اور خونی ضیا آمریت کے لانے والے کون تھے یہی نو ستاروں کا قومی اتحاد جو آج ایم ایم اے کے نئے نام سے لیکن وہی رجعتی اور آمرانہ سوچ ہے جو ملک میں ظلم اور جبر کے رواج کوقائم کرتی ہے
 آج یہ مشرف کے خلاف نظر آ رہے ہیں لیکن مشرف آمریت کو لانے اور اس کو مضبوط کرنے میں اسی ایم ایم اے کا مین کردار رہا ہے۔2002 میں انہوں نے ایل ایف او کی ممکل حمایت کر کے مشرف کو آئینی ڈنڈا تھما دیا جس کا وہ آج تک بھرپور استعمال کر رہا ہیں
 اورآج جب مشرف کی حکمرانی کمزور پڑگئی ہے(جس طرح چوہے ڈبتے جہاز کو چھوڑ دیتے ہیں) تو انہوں نے بھی حسب روایت مخالفت شروع کر دی ہے تا کہ مستقبل میں کسی نئے ظلم کی راہ ہموار کی جائے
 جماعت اسلامی ،ایم کیو ایم ، مسلم لیگ اور دوسری مذہبی اور قدامت پسند تنظیموں نے اپنے آپ کو آمریت کے ادوار میں مضبوط کیا اور پروان چڑھایا۔خاص طور پرایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے ضیا آمریت کی سیاہ رات میں آئی ایس آئی،غیر ملکی امداد اور ضیا کی مکمل بھرپور حمایت سے مضبوط اور مسلح کر کے عوام اور محنت کشوں کے خلاف تشدت اور ظلم وجبر میں ضیا کے رائیٹ ہینڈ کا کام کیا


 یحیی خان کی آمریت کے دور میں جماعت اسلامی نے البدر اور الشمس 2 دہشت گرد تنظیمں بنائی اور بنگال میں بے گناہ عوام کا نہایت سفاکی سے قتل وغارت کیا۔اس وقت بھی اس کو یحیی خان کی مکمل سپورٹ حاصل تھی

  آج پھر یہ نئی سازشیں پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف کرنے میں سر گرم ہیں۔
 ان کے پاس عوام کی بہتری، ملکی سیاسی،معاشی،اور سماجی مسائل کا کوئی حل اور پروگرام نہیں ہے
 بلکہ یہ ضیا آمریت کے حدود آرڈنیس کی حمایت کر کے اپنی ظلمانہ سوچ کی عکاسی کر رہے ہیں
 آج پیپلز پارٹی اپنے پروگرام اور منشور سے انحراف کر کے سرمایہ داروں ، جاگیر داروں اور امریکہ پر تکیہ کرنے سے عوام میں اپنی حمایت کمزور کر بیٹھی ہے اور عوام کی مایوسی نے رجعت پرستی کےغبارے میں ہوا بھردی ہے
 اس میں پاکستان کے بائیں بازو کے نظریاتی دیوالیےاور عوام کو ایک انقلابی متبادل نہ دینے کا بھی خاص عمل دخل ہے
 آج پاکستان کی عوام کی مایوسی اور سیاست پر مکمل عدم اعتمادمیں پاکستان کی تمام پارٹیوں اور تنظیموں کی قیادتوں کی عوام سے بار بار دھوکہ دہی،انکی بدعنوانیوں اور جرائم کے کھلے ریکارڈ اور لوٹ مار کی سرے زبان داستانیں سرے بازار ہیں۔(حافظ سلمان بٹ اور پراچہ پر کئی قتل کے کیس ہیں)
 عوام کو آج اپنے زخموں پر مرحم رکھنے والا اور انکا علاج کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔
 پاکستان کی کسی ناسور کی طرح بڑتی بے روزگاری ،نوجوانوں کا اندھیرا مستقبل اور اس سے تنگ آکر خود کشیاں، قومی تحویل میں اداروں کی اونے پونے داموں سیل اور اس میں انتہائی بداعنوانیاں،اور اس سے برطرفیاں اور بےروزگاری کی شرح میں اضافہ۔
 قصاص ودیت۔حدود۔شریعت۔کارہ کاری۔اور عورتوں کے خلاف تمام کالے قوانیں جن میں تبدیلی نہیں بلکہ مکمل خاتمہ انتہائی ضروری اور فوری ہے
 آٹھوین ترمیم سمیت تمام ضیای آمرانہ قوانیں کا خاتمہ 73 کے عوامی آئین کی مکمل بحالی اور اس میں تمام مذہبی اورتعصباتی شقوں کا خاتمہ
 مذہب اور سیا ست کی مکمل علیحدگی تا کہ مذاہب کی رسوائی اور اس کو استعمال کر کے اپنی دوکانوں کو چمکانے اور عوام پر استحصال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے
 تعصب پسند اور فرقہ وارانہ تنظیموں اور پارٹیوں پر مکمل پابندی اور سخت سزا ہو
 قومی اداروں کی واپسی۔بڑی صنعتوں کا قومی تحویل میں لینا اور سرکاری سرمایہ کار کا فروغ۔تمام صوبوں میں مساوی ترقی۔
 ان مسائل کو حل کیے بغیر پاکستان کی ہر ترقی،خوشحالی،خودمختیاری،آزادی،امن،وفاقی سلامتی،عزت اور عظمت کا ہر خواب خواب ہی رہے گا

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات