|
کہ تاریخ نے یہ وقت بھی دیکھا
کہ صوبے کے عوام پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں زبردست فوجی آپریشن
کیا گیااور صوبے کے عوام کو مرکز گریز قوت کے طور پر ملک میں
متعارف کرایا گیا سند ھ کا مزاج کیا ہے ؟ لوگ کیا سوچتے ہیں؟ یہ
جاننا نہایت اہم اور ضروری ہے ،اس کے لئے ہم نے سندھ کی ایک بڑی اور
اہم قوم پرست پارٹی ’’ سندھ ترقی پسند پارٹی ‘‘ کی لیڈیز ونگ
’’ ترقی پسند ناری تحریک ‘‘کی سربراہ سیدہ سحر رضوی سے ان کے خیالات
معلوم کئے ۔ان کی رائے اور خیالات ان کی زبانی پڑھتے ہیں ۔
سند ھ کی صورتحال اس وقت ایک نازک دور سے گذر رہی ہے اور حالات
انتہائی نازک اور خراب ہیں ،اگر جنرل مشرف مزید اقتدار میں
رہے تو حالات کی بہتری کی کوئی توقع نہیں ،موجودہ سیاسی صورتحال میں
اردو بولنے والے حکمران حالات خراب کرنے میں ہر اول دستے کا
کردار ادا کررہے ہیں
ایم کیو ایم اس وقت مکمل
اختیارات کے ساتھ اقتدار میں موجود ہے اور جنرل مشرف کے دست
شفقت نے ایم کیو ایم کو سہارا دے رکھا ہے ،جنرل مشرف کی ایم کیو ایم
کو سپورٹ خود ایم کیو ایم کے لئے نقصان دہ ہے اس طرح و ہ سیاسی
پارٹی نہیں رہے گی ،سیاسی پارٹی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی
بنیاد عوام میں ہو اور مصنوعی سہاروں پر قائم رہنے والی سیاسی
پارٹی بالاآخر اپنی ساکھ کھو بیٹھتی ہے ۔جب کہ یہ حقیقت بھی ریکارڈ
پر موجود ہے کہ ایم کیو ایم کی پالیسیاں خود اردو بولنے
والوں کے مفادات کے لئے نقصان دہ ہیں
سندھ کی گورنر شپ اور کراچی ،حیدر
باد کی مقامی حکومتیں ایم کیو ایم کے حوالے کرنے کے بہت منفی
اثرات مرتب ہورہے ہیں اور سندھ کے حالات کو تیزی کے ساتھ
بگاڑ کی طرف لے جایا جارہا ہے ،جب کہ کراچی کے ساحلی علاقوں کے جزائر
کو سندھ کے قدیم اور مستقل باشندوں کی مرضی کے بغیر ملٹی نیشنل
کمپنیوں کے حوالے کیا جارہا ہے
یہ عمل سندھ کے قدیم اور
مستقل باشندوں میں شدید بے چینی اور اضطراب کا سبب بن رہا ہے ۔اگر
حالات اسی نہج پر چلتے رہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ جن کو مظلوم اور اور
بے سہارا سمجھ کر دبایا جارہا ہے وہ اتنا ہی قوت کے ساتھ ابھر کر
سامنے آجائے ،سند ھ کی آمدنی سے لندن قیادت کے اخراجات برداشت
کئے جاتے ہیں اور یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ ایم
کیو ایم کو سندھ کی قیادت ملی
اس وقت ایم کیو ایم جنرل مشرف کے بل
بوتے پر حکومت کر رہی ہے اور فوج کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی
ہے ،جنرل مشرف کے بعد ایم کیو ایم کا کیا ہوگا یہ ان کو
بھی سوچنا چاہئے
یہاں اس پہلو پر بھی غور کرنا نہا یت ضروری ہے کہ جنرل مشرف ایک
سرکاری ملازم ہیں اور اور حکومت کرنا فوج کا کام بھی نہیں
،فوج ملک کے دفاع کے ہوتی ہے جب کہ دنیا بھر میں پاکستان واحد
ملک ہے کہ جو فوج کے لئے بنا ہے ۔حکمرانی عوام کے نمائندوں کا حق ہے
جو عوام کا خادم بن کر کی جاتی ہے ، یہ ایک حقیقت ہے کی جنرل مشرف کی
وردی کے اتر جانے سے کسی بہت بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ممکن ہے کہ
کوئی اور جنرل اقتدار سنبھال لے ،اگر مسلم لیگ اور پپلز پارٹی کو بھی
اقتدار دے دیا جائے تو یہ بھی عارضی ہوگا اور کچھ سال بعد فوج پھر
براہ ِ راست اقتدار میںہوگی ،جب کہ جمہوری دور میں بھی فوج پردے کے
پیچھے سے حکومت کرتی رہی ہے
اب فوج کسی کو بھی حکومت میں
شیئر نہیں دینا چاہتی اور تمام معاملا ت و فوائد اپنے ہاتھ میں
لینا چاہتی ہے ۔موجوہ سیاسی ڈرامے میں بینظر بھٹو پر بھی
اعتماد نہیں کیا جاسکتا ،اکبر بگٹی کی بیہمانہ شہادت پر بینظیر
مجرمانہ طور پر خاموش رہیں اور صرف مخدوم امین فہیم کے بیانات
سے کام لیا گیا ، بینظیرصاحبہ اس وقت متحدہ اپوزیشن کا حصہ نہیں ہیں
یہاں تک کہ وہ ذوالالفقار علی بھٹو کے حوالے سے جنرل مشرف کی کتاب
میں دیئے گئے ریمارکس پر بھی خاموش رہیں جس سے ان کی پالیسی کا
اندازہ لگایاجاسکتا ہے
ملک میں صرف ذوالالفقار علی
بھٹونے عوام کے جذبات و احسات کو زبان دی تھی للیکن بدقسمتی سے
وہ بھی صرف جاگیر داروں اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کا تحفظ
کرتے رہے اور پپلز پارٹی کی موجودہ پالیسی بھی عوام کی
ترجمانی نہیں کرتی ۔
صورتحال کی سنگینی اس سے اور بڑھ جاتی ہے کہ ملک میں اس وقت
لیڈر شپ کا فقدان ہے اور موجودہ قیادت کو لیڈر شپ کا درجہ نہیں دیا
جاسکتا ،صورتحال یہ کہ ایک سرکاری ملازم جنرل مشرف 2025 ء کی
منصوبہ بندی کررہے ہیں یہ اضافی خود اعتمادی کی علامت ہے
ان کی حکومت امریکی حمایت پر قائم
ہے جو کسی بھی وقت آنکلھیں پھیر کر پیچھے ہٹ سکتا ہے ،اگر سیاسی
پارٹیاں اور عوام متحد ہوں اور قوت و اعتماد کا مظاہر ہ کریں تو
امریکیوں کو بھی پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے ،لیکن جنرل مشرف کے
مشیران کو امریکہ کے خوف میں مبتلا کئے ہوئے ہیں اور انہیں غلط
راہنمائی دے رہے ہیں
جنرل مشرف کے بے شتر مشیران
کا تعلق بیرون ملک سے ہے اور وہ پاکستان کے معاشرے اور عوام کے مزاج
کو سمجھنے سے قاصر ہیں یہ بات بالکل درست ہے کہ امریکی حمایت
کے بغیر پاکستان میں کوئی حکومت نہیں چل سکتی اور اگر امریکہ
چاہے تو ملکی سطح پر حالات بدل سکتے ہیں ،امریکی انتظامیہ
افغانستا ن کی صورت حال پر جنرل مشرف سے سخت ناراض تھی اور ان کا
خیال ہے (ممکن ہے ) کہ جنرل مشرف طالبان کو سپورٹ کررہے ہیں ،اگر
امریکیوں کو جنرل مشرف سے زیادہ وفادار جنرل دستیاب ہوگیا تو امریکی
فی الفور قیادت اس کے حوالے کردیں گے
جنرل مشرف سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ
کے دوست ہیں لیکن امریکیجھکا و واضح طور پر بھارت کی جانب ہے
اور وہ امریکہ کا دوست ہے جب کہ پاکستان کی حثیت ایک غلام سے زیادہ
کی نہیں کیونکہ ہم ایک فون کال پرانے والی تمام امریکی ہدایات
پر عمل کرتے ہیں
امریکہ کی نگاہوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کی کتنی
قدروقیمت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ
جانے والے پاکستانیوں کو ائر پورٹ پر تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے
اور وہ جب دل چاہتا ہے ہمارے ملک میں نہ صرف فوج اتاردی جاتی ہے بلکہ
بمباری بھی کردی جاتی ہے ،امریکہ کی نگاہوں میں اقوام متحدہ کی
بھی کوئی حثیت نہیں اور وہ امریکہ کے جوتوں تلے روندی جاچکی ہے
اس وقت ضروت اس بات کی ہے کہ امریکہ
کے مقابلے پر کوئی قوت ابھرنی چاہئے ،جو امریکہ کو جواب دے اور بتائے
کہ تیل کے ذخائر اور دنیا کے وسائل تمہارے نہیں ہیں وینزویلاا
کے سربراہ ہوگوشاویز ایک جرات مند لیڈر ہیں جنہوں نے جارج بش
کے سامنے اسے شیطان کہا اور ہمت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے امریکی اقدامات
کی مذمت کی وینزویلا کے علاوہ شمالی کویا اور ایران کا کردار
بھی قابل ِ تحسین ہے ،ایٹمی ہتھیار کا رکھنا مناسب نہیں لیکن امریکی
مقابلے کے لئے جو بھی اٹھے اور ہمت کا مظاہرہ کرے وہ قابل تحسین اور
لائق تقلید ہے
،شمالی کوریا ہو یا ایران سب
کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کا حق حاصل ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ
کسی بھی ملک کو دھمکیاں دے کر اور حملے کرکے اس کی ایٹمی
صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کرے
امریکی وبرطانوی ہمیشہ اختلاف رائے اور اظہار رائے کرنے والو ں
کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دیتے ہیں لیکن ان کا حل
صرف یہ ہے کہ اپنی قوت کو مجتمع کیا جائے اور جرآ ت و بہادری کا
مظاہرہ کیا جائے |