|
بیہودگی کے باوجود انسداد دہشت گردی
دستہ یعنی اے ٹی ایس حقائق کی تہہ تک پہنچنے میں ہنوز ناکام ہے
انسداد دہشت گردی دستہ نے اپنی
ناکامی اور خفت کو مٹانے کے لیے جوحرکتیں شروع کی ہیں وہ یقینی طور
پر انتہائی گھنائونی اور انسانیت سوز قرار دی جاسکتی ہےں۔ ممبئی پولس
کی بیہودگی کا ایک انکشاف اس وقت ہوا جب مضافاتی ٹرینوں میں بم
دھماکوں کے ملزمان نے جو اس وقت اسیری کی زندگی گذاررہے ہیں، عدالت
میں یہ شکایت کی کہ انہیں اقبال جرم کے لیے پولس کے سینئر اہلکاروں
نے نہ صرف یہ کہ مجبورکیا بلکہ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انہوں نے جرم
قبول نہیں کیا تو ان کی بیوی اور ماں کی عصمت تارتارکردی جائے گی
بے قصورمسلمانوں کوقصوروارٹھہرانے
کے لیے سینئرپولس انسپکٹر دیشمکھ کی جانب سے دی جانے والی دھمکی سے
عدالت کو ملزمان نے باخبرتو کردیا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ
سب کچھ ایک ایسی ریاست میں ہورہا ہے جہاں ’سیکولر‘ جماعتوں کی
حکمرانی ہے اور ارباب وقت بار باریہ کہتے رہے ہیں کہ تفتیشی امو ر
میں کسی قسم کی جانب داری نہیں برتی جارہی ہے
جہاں ایک طرف انسداد دہشت گردی دستہ 11جولائی کے سلسلے واربم دھماکوں
کے حوالوں سے اب تک تقریباً 20 افراد کو گرفتارکرچکا ہے وہیں دوسری
جانب مالیگائوں میں ہونے والے بم دھماکوںکے تعلق سے بھی مسلمان ہی
حراست میں لیے جارہے ہیں اوران دونوں واقعات کے مابین مصنوعی رشتہ
استوارکرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔11جولائی کے دھماکوںکے تعلق
سے گرفتار کیے جانے والے افراد پراقبال جرم کے لیے انسانیت سوز دبائو
کے درمیان اعلیٰ اہل کاروں کی یہ دھمکی کہ اگر جرم قبول نہیں کیا تو
تمہاری ماں اور بیوی کی عصمت لوٹ لی جائے گی اورتمہیں مالیگائوں
واقعہ میں ملزم بنادیا جائے گ
انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔
لیکن دلخراش سچائی یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی سیکولر کہلانے والے ان
سیاستدانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہے جن کے قبضے میں زمام
اقتدار ہے
11جولائی کے واقعہ میں انسداد دہشت گردی دستہ کی لاکھ کوششوں کے
باوجود جب حقائق کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہوگیا تو اب مالیگائوں سانحہ
کو اس سلسلے کی کڑی قرار دینے کی منظم سازش تو رچی ہی جارہی ہے۔ ساتھ
ہی ساتھ ان دونوں واقعات کے مابین تعلق جوڑتے ہوئے مہاراشٹر کے
مسلمانوں کو جس طرح ہراساں کیا جارہا ہے اس سے یہ بات کھل کرعیاں
ہوچکی ہے کہ ارباب اقتدار قولاً جو کچھ کہہ لےں عملاً ان کا منہاج
یہی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے ان دونوں واقعات میں مسلمانوںکو
قصوروار گردانا جائے
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ممبئی کے
سلسلے وار دھماکوںکے فوراً بعد بلا تحقیق مسلمانوں کی گرفتاریاں عمل
میں لائی جانے لگیں اور ہزاروں کی تعداد میں مسلم شہریوں کوغیر
قانونی طور سے حراست میں لیا جانے لگا، ان پرظلم وزیادتی کا کوئی
حربہ ایسا نہیں رہاجو چھوڑ دیا گیا ہو
گویا انسداد دہشت گردی دستہ کا
تفتیشی طریقہ کچھ ایسا رہا جو اس بات کو ظاہرکررہا تھا کہ قبل سے ہی
تفتیش کار یہ مان کر چل رہے ہوںکہ اس ذیل میں مسلمانوںکو ہی قصور
وارٹھہرانا ہے۔ نتیجہ یہ رہا کہ ہزاروں کی تعداد میں مسلم نوجوانوںکی
گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور اس کی بنیاد یہ تلاش کی گئی کہ ہروہ
شخص پس زنداں ہو،جس نے کبھی خلیجی ممالک کے اسفار کیے ہوں یاپاکستان
گیا ہو
یہی نہیں بلکہ ایسے افرادبھی
دوران تفتیش غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیے گئے جن کے موبائل سے
پاکستان یا خلیج کے کسی ملک سے باتیں ہوئی تھیں۔سوچنے کا مقام یہ ہے
کہ جب لاکھوں ہندوستانی خلیجی ممالک میں روزگار کی تلاش میں قیام
پذیر ہیں اور دوسری جانب تقسیم ہند کے نتیجے میں لاکھوں کنبے سرحدی
حصاربندی کے شکارہوئے ہیں تو ایسی صورت میں گرفتاری کی اس بنیادکو کس
حد تک بامعنی قرار دیا جاسکتاہے۔ہزاروں ہی نہیں لاکھوں ہندوستانی
مسلمانوںکی رشتہ داریاں سرحد پار یعنی پاکستان میں مقیم لوگوں سے
ہیں۔ چنانچہ یہ بنیاد بناتے ہوئے کہ فلاں شحص فلاں سن میں پاکستان کے
سفر پر گیا تھا ، گرفتارکرنا کیا معنی رکھتا ہے
تفتیش کے اس طریقہ کار سے نتیجہ یہی
نکالا جاسکتا ہے کہ ہر وہ ہندوستانی حکومت اورانتظامیہ کی نگاہ میں
دہشت گرد ہے جس کی رشتہ داریاں پاکستان سے ہوں۔خلیجی ممالک سے رقوم
کاہندوستان آنا کون سی نئی بات ہے۔ جو لوگ وہاں برسرروزگار ہیں وہ
مختلف ذرائع سے اپنی گاڑھی کمائی اپنے گھر بھیجتے ہی رہتے ہیں
۔چنانچہ یہ سارے نکتے گرفتاری کا قانونی جواز قطعی نہیں بنتے لیکن
ممبئی دھماکوں کے بعدکی جانے والی گرفتاریوں کا سچ یہی ہے ۔انسداد
دہشت گردی دستہ کی جانب سے ہزاروں افراد کو انہی اسباب وعلل کی بنیاد
پر گرفتار کیا گیا اورانہیں اقبال جرم کے لیے مجبورکرنے کی خاطر
مختلف انسانیت سوز حرکتیں کی گئیں
اس ذیل میں جب دہشت گردی مخالف دستے
کوکامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور تفتیش کاروں کی جمعیت کی حالت بے سمت
کے راہی کی سی بن گئی تو حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لیے ظلم
وزیادتی کے دائرے کومزید بڑھایا جانے لگا۔
مالیگائوں کے مسلمانوں کا یہ کہنا کہ اگردھماکہ خیز اشیا ہندوئوں کے
گھر سے برآمد ہوتی ہے تو پولس اسے یہ کہہ کر بری کردیتی ہے کہ وہ تو
پٹاخہ بنانے یا چٹانیں اڑانے کے لیے استعمال کیا جارہاتھا لیکن اگر
وہی اشیا کسی مسلم کے گھر سے برآمد ہوتی ہے تو پولس فوراً اسے دہشت
گرد قرار دے دیتی ہے، پولس اہل کاروں کی جانب داری کی واضح دلیلہے
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جولائی
سے لے کر اب تک مالیگائوں ، ناسک، ناگپور، امرائوتی، اورنگ آباد
اورجلگائوںکے علاقوں میں مسلمانوںکی کس قدر گرفتاریاںعمل میںآئی
ہیں۔ اول اول سلسلے وارٹرین دھماکوں کو بنیاد کر مسلم گھروں سے
نوجوانوں کو گھسیٹ ؑگھسیٹ کرتھانے لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا
اور اب تو مالیگائوں سانحے کارشتہبھی مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا اور اس
حوالے سے بھی یہی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے کہ مسلم نوجوانوںکو
پکڑکر تھانے لے آو اوران پرظلم وزیادتی کرو اورکسی طوراقبال جرم
کرائو
پولس مظالم کی اس کہانی سے ارباب
اقتدارپوری طرح واقف ہےں کیونکہ اس سلسلے کی خبر میڈیا کے ذریعہ عام
ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود سیکولر جماعتوں کے کسی بھی رہنما کی طرف
سے اس دلخراش صورت حال پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے
سمجھا جاسکتاہے کہ’ سیکولر‘
جماعتوں کی یہ ’سیکولر نوازی‘جب اقلیتوں سے ہمدردی کے دو بول بھی بو
لنے کی جرأت نہیںرکھتی اور مظالم کی حدیں عبور ہوجانے کے باوجود غیر
اخلاقی حرکات وسکنات کی مذمت نہیں کی جاسکتی تو آنے والے دنوں میں یہ
کیسے توقع کی جائے کہ یہ قوتیں مسلمانوں کے مستقبل کے تعلق سے کبھی
کسی سنجیدہ پیش رفت کاحوصلہ کریںگی۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کے سینئر
سیاست دانوں کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ لوگ
قولاً مسلمانوں کی اشک سوئی تو کرتے رہے ہیں لیکن عملاً ان کا طریق
پوری طرح مسلم مخالف رویہ کو مہمیز دیتا رہا ہے
غیروں کی تو بات چھوڑ دی جائے، ان
اپنوں نے بھی اسی طرح مسلمانوں کو مایوس کیا ہے جواپنا دھرم و ایمان
سب کچھ گروی رکھ کر کانگریس سے رشتہ استوار کیے ہوئے ہیں اوربہ عوض
خاموشی اعلیٰ مناصب پاتے رہے ہیں
اقلیتوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے
جائیں اور اقلیتی امور کا شعبہ منہ میں تالہ جڑے رہے، قوم کی مائوں
اور بہنوں کی عصمت لوٹنے کی دھمکیاں بھی اس خاموشی کو نہ توڑ سکیں تو
اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے
ظلم و استبداد کی یہ کوئی نئی کہانی
نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ چھ دہائیوں سے مسلمانوں پرعرصۂ
حیات تنگ کرنے کی کوششیں قسطوں میں کی جاتی رہی ہیں۔ ہاں فرق یہ رہا
تھا کہ کل تک دوسروں کو آلہ کار کے طور پراستعمال کرنے کی روش ان
’سیکولر نوازوں‘ نے اختیارکررکھی تھی لیکن اب بربریت کے ننگے ناچ کے
لیے کسی کووسیلہ بنانے کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے اور حکمراں طبقہ
یہ کام اب اپنی انتظامیہ سے لے رہا ہے |