|
دوسرا چھ دینی جماعتوں کے اتحاد میں
رخنہ پڑ گیا تاہم یہ الگ بات ہے کہ ایم ایم اے اس کا اعتراف نہیں کر
رہی ہے
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایم ایم
اے تین سیاسی ارکان نے استعفے دینے کا تاحال اعلان کیا ہے جن میں
حافظ حسین احمد ، دوسرے حنیف عباسی اور تیسری ہیں ڈاکٹر فریدہ احمد
صدیقی
لیکن ایم ایم اے کا اصرار ہے کہ ان
کے اتحاد میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے
حافظ حسین احمد نے موجودہ قائد حزب
اختلاف کو اپنا استعفی پیش کرکے کہا کہ اگر آپ اسے منظور نہیں کرینگے
تو وہ اپنا استعفی اسپیکر کو پیش کردینگے
حنیف عباسی نے حقوق نسواں بل کیخلاف
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے گذشتہ روز کہا کہ اب ایمان کا
تقاضا ہے کہ استعفی دے دیا جائے
لیکن استعفے نہ دیئے جانے کے اعلان
میں کیا شے حائل ہے ؟
استعفوں کے اعلان میں سب سے بڑی
رکاوٹ خود مولانا فضل الرحمان ہیں جو خود اور ان کی جماعت بلوچستان
حکومت سے علیحدگی نہیں چاہتی
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جمعرات کو
اسلام آباد میں اتحاد کی سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد کہا کہ صوبہ
سرھد اور بلوچستان کی حکومتوں سے ابھی علیحدگی کا پروگرام نہیں ہے
صرف دسمبر میں اسمبلیوں سے استعفے دیئے جائیں گے
ایک جانب جہاں چند اراکین نے
استعفوں کا اعلان کردیا ہے وہیں کچھ ارکان بلوچستان حکومت سے علیحدگی
پر رضامند نہیں ہیں
تاہم پاکستان کا سنجیدہ حلقہ جن میں
کالم نگار بھی شامل ہیں ایم ایم اے کو قرآن کے حوالے دی کر یاد دلا
رہے ہیں ’ اپنے وعدوں کو پورا کیا جانا چاہیئے ‘
سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم ایم
اے نے برملا اور واضع الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ اگر حدود کا ترمیمی
بل پاس ہوتا ہے تو ایم ایم اے فوری طور پر سرحد اور بلوچستان کی
حکومت سے علیحدگی علاہ قومی اسمبلیوں سے بھی مستعفی ہوجائینگے
لیکن سیاست اور دین کا شائد معاملا
دو الگ صورتیں ہیں
صدر مشرف پر وردی نہ اتارنے والے اب
خود کہہ رہے ہیں کہ ’ ہمیں مرحلہ وار کام کرنے دیا جائے ‘ یعنی پہلے
دسمبر میں استعفے دینے کا اعلان ہوگا پھر استعفے دینے کی تاریخ کے
بارے سپریم کونسل کا اجلاس ہوگا اور اس کے بعد استعفے دینے کی تاریخ
کا اعلان ہوگا
تاہم سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں
سے علیحدگی کا اعلان شائد ان اعلانات میں شامل نہ ہو
|