|
قوانین میں تبدیلی یا اس کا
خاتمہ برداشت نہیں کرینگے اور حکومت کیخلاف ملک گیر تحریک چلائی
جائیگی
ایم ایم اے کے لیاقت بلوچ
نے’اردو سروس ڈاٹ نیٹ ‘ کو اپنے نشری انٹرویو میں کہا تھا کہ
حدود بل کی مخالفت میں ہم بہت آگے تک جا سکتے ہیں
تاہم قومی اسمبلی سے حدود
قوانین کا ترمیمی بل جسے اب حقوق نسواں کا نام دیا گیا کی منظوری
کے ساتھ مذہبی سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ وہ استعفے دے دینگے
لیکن بل جوں ہی سینیٹ سے پاس ہوا جمیعت علمائے پاکستان یعنی
مولانا فضل الرحمان گروپ نے استعفے دینے کے بارے اپنے خیالات میں
تبدیلی پیدا کرلی اس طرح قاضی حسین احمد حکومت مخالفت میں اکیلے
ہوگئے
یہ متحدہ مجلس عمل کا حدود
قوانین پر پہلا نفاق تھا
متحدہ مجلس عمل کا دوسرا نفاق
اس وقت سامنے آیا جب متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل نے فیصلہ کیا
کہ استعفے سات دسمبر کو دے دیئے جائینگے اس سے قبل متحدہ مجلس
عمل کا کہنا تھا کہ اگر صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتیں بھی
چھوڑنی پڑیں تو چھوڑ دی جائینگی تاہم بعد میں اس پر بھی اتحاد نہ
ہوسکا اور مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومتیں نہیں چھوڑی
جائینگی بلکہ حقوق نسواں بل دونوں صوبوں میں نافذ نہیں کرنے دیا
جائیگا
تیسری مرتبہ متحدہ مجلس عمل
میں غیر اتحادی مظاہرہ اس وقت جمعہ کے روز سامنے آیا جب متحدہ
مجلس عمل نے چوہدری شجاعت حسین کے مستعفی ہونے اور استعفے دینے
کےلیئے لاہور سے گجرات کےلیئے احتجاجی ریلی نکالی
اس احتجاجی ریلی میں مولانا فضل
الرحمان گروپ کا کوئی اہم رکن شامل نہیں تھا
مولانا فضل الرحمان اس احتجاجی
ریلی کیخلاف تھے
ادھر صدر مشرف نے کہا ہے کہ بل
ہر صورت میں قانون بنایا جائیگا اور اس کو ملک میں نافذ کیا
جائیگا
صدر مشرف نے جمعرات کو بل پر
دستخط کر دیئے اور حقوق نسواں کا بل جمعہ کے روز ایک قانون کی
شکل میں ملک بھر میں نافذ ہو گیا
اس طرح مذہبی سیاسی جماعتوں میں
اتحاد کے فقدان کی وجہ سے حکومت مخالف کوئی تحریک نہیں چلائی جا
سکی
اب قاضی حسین احمد اور تحریک
انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک ملاقات کی ہے جس میں دونوں
رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر صدر مشرف کی موجودگی میں
انتخابات میں حصہ نہ لینے کا عہد کیا ہے اور ایک دوسرے کے شانہ
بشانہ حکومت مخالف تحریک چلانے کا عندیہ دیا ہے
تاہم ایسا لگتا ہے کہ صدر مشرف
کو مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی کمزور رگوں کے بارے میں مکمل
معلومات حاصل ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے ان کا ہر فیصلہ پایہ تکمیل
کو پہنچ رہا ہے ، اس طرح حدود اللہ قانون حقوق نسواں بن کر ملک
بھر میں نافذ ہو چکا ہے |