|
نیٹ‘‘ کے ساتھ ایک گفتگو کے
دوران کہے
فاروق احمد ڈار ۹۷۹۱کو سرینگر شہر
کے وسطی علاقہ گورو بازار میں پیدا ہوئے بارویں جماعت تک تعلیم حاصل
کرنے کے بعد فاروق احمد نے جرابوں کا کاروبار شروع کیا
اس دوران جموں و کشمیرمیں مسلح
تحریک شروع ہوئی تو فاروق احمد المعروف بٹہ کراٹے لبریشن فرنٹ
میں شامل ہو کر اسکے کمانڈر بن گئے ۔مسلح تحریک کے ساتھ وابستہ ہو نے
کے محض ایک سال بعد یعنی جون ۰۹۹۱ کو بٹہ کراٹے اپنے دو ساتھیوں سمیت
سرینگر کے چھتہ بل علاقے سے گرفتار ہوئے
بٹہ کراٹے اپنے علاقے کے مشہور
کھلاڑی ہو نے کے ساتھ ساتھ مقامی نو جوانوں کو جو ڈو کراٹے سکھاتے
تھے
بٹہ کراٹے سترہ سال تک بھارت کے
مختلف جیلوں میں مقید رہے انہوں نے آگرہ جیل میں ان پر لگا تار پانچ
پبلیک سیفٹی ایکٹ لگانے کے خلاف تقریبًًا ۷۱ ماہ تک بھوک ہڑتال کی جس
دوران انہیں زبردستی کھانا کھلایا جاتا تھا جسکی وجہ سے وہ کئی قسم
کی بیماریوں مبتلا ہوگئے
بٹہ کراٹے کے مطابق وہ اپنے اردگرد
لوگوں کا جم گفیر دیکھ کر خوف محسوس کر رہا ہے ’’ میں تنہا پسند ہو
گیا ہو گیا ہوں کیونکہ میرے زہن سے گھر کا تصور ہی اتر گیا ہے ۔۔۔۔‘‘
اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کے بارے
میں بٹہ کراٹے نے کہا کہ کہ وہ جموں و کشمیر میں جاری ’’ تحریک آزادی
۔‘‘کو لبریشن فرنٹ کے بنر تلے سیاسی طور چلایں گئے ۔جیل کی یادوں کے
بارے میں بٹہ کراٹے نے کہا کہ یہ ماضی کی تلخ یادیں ہیں اور میں ان
تلخ یادوں کو دہرانے کے بجائے بھلانا چاہتا ہوں
بٹہ کراٹے کی والدہ فاطمہ بیگم کہتی ہیں
کہ وہ عنقریب اپنے بیٹے کی شادی کر دے گی اور ا س خواب کو شرمندہ
تعبیر کرئے گی جو ہر ماں اپنے بچے کوجنم دیتے وقت دیکھتی ہے
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سترہ سال کے
دوران اپنے بیٹے کی جدائی میں اسپر کیا بیتی وہ صرف خدا ہی جانتا ہے
۔جس وقت اسکا بیٹا ۷۱ سال کے بعد گھر واپس لوٹا تو اسے ایسا محسوس
ہوا کہ جیسے اسنے اسی وقت بیٹے کو جنم دیا
فاطمہ بیگم کے مطابق اسکا بیٹا کافی
زہین تھا تاہم اسے پڑنے کے بجائے کھیلنے کا زیادہ شوق تھا
بھائی محمد شفیع کہتے ہیں
کہ بھا ئی کے مقید ہونے کے دوران انہوں انکی رہائی کیلئے کافی کوششیں
کی جسمیں وہ کامیاب نہیں ہوئے
’’میں پروفسر بھیم سنگھ
ایڈوکیٹ یوگیش بخشی اور ایڈوکیٹ بی ایل چڑا کا شکریہ ادا کرتا ہو
جنہوں نے انکے بھائی کی رہائی میں اہم رول ادا کیا۔‘‘ محمد شفیع کے
مطابق انکا بھا ئی اب سیاسی طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کام کریں
گے ۔
|