Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 09 November 2006 19:18 (PST)اشاعت

اسرائیل لبنان پر یورینیم ساختہ بم استعمال کیئے

لبنان پر حملوں میں سات سو بچوں سمیت تیرہ سوشہری ہلاک ہوئے

اس برس اسرائیل کی جنوبی لبنان پر 34 روزہ جارحیت میں تیرہ سو فوجی و شہری ہلاک ہوئے لیکن اس جنگ کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل نے یورینیم ساختہ ہتھیار بھی استعمال کئے- حزب اللہ کے بیروت میں قائم ٹھکانوں کو امریکی ساختہ

 ’’بنکر برباد‘‘ بموں کے ذریعہ نیست و نابود کرنے کی کوشش کی گئی- جنگ کے آخری تین دنوں میں لبنان پر چھوٹے بڑے بموں کی اس طرح بوچھاڑ کی گئی کہ جنگ گزرنے کے طویل عرصے کے بعد بھی ان bomblets سے ہر ہفتے کئی لبنانی ہلاک ہو رہے ہیں

جنگ کے شروع کے دنوں میں اسرائیل نے مہلک اور خطرناک اسلحے کے استعمال کی صاف تردید کردی تھی لیکن اسرائیل نے کھلم کھلا فاسفورس بم اور وہ ہتھیار استعمال کیے جو جنیوا کنونشن کے تیسرے پروٹوکول کی سراسر خلاف ورزی ہے- اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس پروٹوکول پر دستخط نہیں کیے ہیں

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق خیام اور الطیری ایسے علاقے ہیں کہ جو جولائی اور اگست کے دوران بدترین اسرائیلی عسکری جارحیت کا نشانہ بنے- اس علاقے سے بارودی مواد اکٹھا کیے جانے کے دوران بموں کے ایسے خول ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل نے یورینیم ساختہ اسلحہ بھی اپنے ہتھیاروں میں شامل کررکھا ہے- نیز یہ کہ انہیں لبنان میں استعمال کیا گیا

یورپین کمیٹی برائے تابکاری خطرات کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کرس برسی کے مطابق زمین سے دو ایسے نمونے ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل نے گائیڈڈ میزائیل کے ذریعے سارے علاقے میں تابکاری کی شرح میں اضافہ کردیا- وزارت دفاع نے زمین سے حاصل کیے گئے ان نسخوں کو آکسفورڈ شائیر کی کیمیائی میں تجزیے کے لیے بھیج دیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اس علاقے میں ممنوعہ اسلحہ اور گولہ بارود کے استعمال نے شدید مسائل پیدا کردیے ہیں

ڈاکٹر بس بی کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس علاقے کی زمین کے خراب ہوجانے کی دو وجوہات ممکن ہوسکتی ہیں- پہلی وجہ Nuclear Fission Device کا استعمال ہوسکتا ہے اور دوسرا سبب اکسیڈیشن فلیش پر مبنیThermobaric  اسلحے کا استعمال ہوسکتا ہے- یورینیم ایک ہوسکتی ہے کہ یہ بارود روایتی Uranium Penetrator ہو جس میں افزودوہ ایلومینیم استعمال کیا جاتا ہے- فوٹو گراف میں پہلے بم کے چلنے کے بعد سیاہ دھوئیں کے بادل نظر آئے ہیں جس کے سبب یورینیم کا جلنا ہوتا ہے

افزودہ یورینیم، قدرتی یورینیم کی دھات سے تیار کیا جاتا ہے اور جوہری ری ایکٹروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے- افزودہ یورینیم کی ایک اور زائد پیداوار depleted uranium ہے اور اسے فوجی بکتر بند گاڑی کو تباہ کرنے کے لیے اینٹی ٹینک میزائیل میں استعمال کیا جاتا ہے- Depleted یورینیم، افزودہ یورینیم سے کم خطرناک ہے- افزودہ یورینیم سے بہت زیادہ تابکار شعاعیں نکلتی ہیں

اسرائیل نے لبنان میں جو اسلحہ استعمال کیا ہے، اس کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ اس نے معلومات سے فراہم کرتے ہوئے صاف گوئی سے کام نہیں لیا- اسرائیل نے 1982ء میں نہتے شہریوں کے خلاف فاسفورس اسلحہ استعمال کرنے کی تردید کی تھی، لیکن صحافیوں نے دنیا کے سامنے ایسے زخمی پیش کیے کہ جن کے زخموں کو ہوا لگتی تھی تو اس میں آگ پیدا ہوجاتی تھی

یہاں تک کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرجاتے تھے- میں نے بذات خود مغربی بیروت میں دیکھا کہ اسرائیل نے شہر کا گھیرائو کررکھا تھا- دو بچے اس حالت میں مردہ خانے لائے گئے کہ جن کے زخموں سے مسلسل آگ بن رہی تھی- دنیا بھر کے صحافیوں نے اس کی تصاویر بنائیں-

اس کے بعد اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ فاسفورس بم استعمال کیے جارہے ہیں- گورنمنٹ پارلیمان تعلقات کے اسرائیلی وزیر جیکب ایڈری نے بھی تصدیق کی کہ یہ اسلحہ حزب اللہ کے خلاف براہ راست استعمال ہوا ہے- برطانوی اخبار انڈیپنڈینٹ کے نمائندے نے اسرائیلی فوج کے ترجمان سے سوال کیا کہ کیا ان کی فوج ایسا خطرناک اسلحہ استعمال کررہی ہے؟

اس کے جواب میں اسرائیل کے وزیر نے کہا تھا کہ ’’ہم کوئی ایسا اسلحہ استعمال نہیں کررہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے جدید ہتھیار ہم آج استعمال کررہے ہیں کہ جو کنونشن کے منظور ہونے کے وقت موجود ہی نہیں تھے اور مغربی حکومتیں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس قسم کے جوہری ہتھیار اور اسلحے کے استعمال سے ہزاروں لوگوں کی جان تباہ ہوسکتی ہے

امریکی اور برطانوی فوجوں نے عراق میں 1991ء میں depleted  یورینیم کے لاکھوں شیل استعمال کیے- ان کو جوہری اسلحہ خانوں کے فضلے سے تیار کیا گیا تھا، جن عراقی علاقوں میں یہ بم گرائے گئے تھے، وہاں پانچ برس بعد سارے علاقے میں سرطان کا مرض پھیل گیا- امریکی فوج نے شروع شروع میں خبردار کیا تھا کہ اگر توپخانے کے خلاف اس کو استعمال کیا گیا تو عوامی صحت پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں

لیکن امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے بعد ازاں ان دعوئوں کو چھوٹا اور معمولی بنا کر پیش کرنا شروع کردیا- لیکن اس کے باوجود بوسنیا سے رپورٹ آئی کہ وہاں بھی یہی اسلحہ استعمال کیا گیا تھا اور وہاں نئی طرز کا کینسر پھوٹ پڑا ہے وہاں نیٹو کی افواج نے ڈیپلیٹڈ یورینیم استعمال کیا تھا- سال 2003ء میں یہ اسلحہ دوبارہ عراق کے خلاف استعمال ہوا لیکن اس بار یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کتنی انسانی جانوں کا اتلاف ہوا-

ڈاکٹر بس بی کا کہنا ہے کہ جب یورینیم بارود استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے منتشر اجزاء طویل عرصے تک فضاء میں موجود رہتے ہیں اور دور دور تک بکھر جاتے ہیں، یہ ہوا کے ذریعہ سانس کی نالیوں میں چلے جاتے ہیں- محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ طویل عرصے تک اجزاء پھیلے رہتے ہیں

خیام کا علاقہ اسرائیلی سرحد سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے- پہلی جنگ عظیم میں ایسا ہی ہوا تھا کہ گیس اس قدر پھیل گئی اور ذرات اس قدر منتشر ہوگئے کہ اس کے چلانے والے بھی اس کی زد میں آگئے

کرینفیلڈ یونیورسٹی میں فوجی سائنس اور ڈاکٹرائن کے پروفیسر کریس بلیوے کا کہنا ہے کہ یہ نیو کلئیر فضلے کے استعمال کی بھر پور کوشش ہے اور اس کو تجرباتی طور پر استعمال کیا گیا

خیام کے علاقے سے مٹی کے نمونے لیے گئے ہیں- یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں ایک بدنام جیل موجود ہے- جب 1978ء اور 2000ء کے درمیان اسرائیل نے جنوبی لبنان پر قبضہ کیے رکھا تھا- دھماکے کی وجہ سے یہ ساری زمین سرخ ہوچکی ہے- یہاں پر آئی سوٹویس کی شرح 108 تھی، جو اس چیز کی علامت ہوتی ہے کہ یہاں آفزودہ یورینیم استعمال کیا گیا تھا

بیرس بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورینیم آکسائیڈ کے وسیع پیمانے پر استعمال کے بعد ارد گرد کی انسانی حیات پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں ہم تجویز دیتے ہیں کہ اس علاقے کی جوہری فضلے سے صفائی کا بندوبست نہیں ہے اور بقیہ علاقوں کو بھی چیک کیا جائے

اس برس لبنان میں جنگ اس وقت چھڑی جب حزب اللہ کے جنگجو اسرائیل کے اندر داخل ہوگئے- دو اسرائیلی سپاہیوں کو گرفتار کرلیا اور تین کو مار ڈالا- اس کے جواب میں اسرائیل نے وسیع پیمانے پر لبنانی شہروں، دیہاتوں، قصبوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور شہری انفراسٹرکچر تباہ و برباد کر کے رکھ دیا

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شہریوں کو نشانہ بنا کر انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی- حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے کیے، کلسٹر بم گرائے اور اپنے راکٹوں کو کلسٹر بموں جیسا مؤثر بنالیا

لبنانیوں کی اکثریت ابھی بھی یہ یقین رکھتی ہے کہ لبنان جنگ امریکی اسلحہ اور ایرانی اسلحہ کی ٹیٹنگ کے لیے تھی، جو اسرائیل اور حزب اللہ کی سرپرستی کرتے ہیں

 اسرائیل نے امریکہ کے تیار شدہ میزائیل حملوں میں استعمال کیے- یورینیم ہتھیاروں کا یہ استعمال کب تک انسانی جانوں کا اتلاف کرتا رہے گا- اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا؟

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات