|
’’بنکر
برباد‘‘ بموں کے ذریعہ نیست و نابود کرنے کی کوشش کی گئی- جنگ کے
آخری تین دنوں میں لبنان پر چھوٹے بڑے بموں کی اس طرح بوچھاڑ کی گئی
کہ جنگ گزرنے کے طویل عرصے کے بعد بھی ان
bomblets
سے ہر ہفتے کئی لبنانی ہلاک ہو رہے ہیں
جنگ
کے شروع کے دنوں میں اسرائیل نے مہلک اور خطرناک اسلحے کے استعمال کی
صاف تردید کردی تھی لیکن اسرائیل نے کھلم کھلا فاسفورس بم اور وہ
ہتھیار استعمال کیے جو جنیوا کنونشن کے تیسرے پروٹوکول کی سراسر خلاف
ورزی ہے- اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس پروٹوکول پر دستخط نہیں کیے
ہیں
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق
خیام اور الطیری ایسے علاقے ہیں کہ جو جولائی اور اگست کے دوران
بدترین اسرائیلی عسکری جارحیت کا نشانہ بنے- اس علاقے سے بارودی مواد
اکٹھا کیے جانے کے دوران بموں کے ایسے خول ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا
ہے کہ اسرائیل نے یورینیم ساختہ اسلحہ بھی اپنے ہتھیاروں میں شامل
کررکھا ہے- نیز یہ کہ انہیں لبنان میں استعمال کیا گیا
یورپین کمیٹی برائے تابکاری خطرات کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کرس برسی کے
مطابق زمین سے دو ایسے نمونے ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل
نے گائیڈڈ میزائیل کے ذریعے سارے علاقے میں تابکاری کی شرح میں اضافہ
کردیا- وزارت دفاع نے زمین سے حاصل کیے گئے ان نسخوں کو آکسفورڈ
شائیر کی کیمیائی میں تجزیے کے لیے بھیج دیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ
اس علاقے میں ممنوعہ اسلحہ اور گولہ بارود کے استعمال نے شدید مسائل
پیدا کردیے ہیں
ڈاکٹر
بس بی کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس علاقے کی زمین کے
خراب ہوجانے کی دو وجوہات ممکن ہوسکتی ہیں- پہلی وجہ
Nuclear Fission Device
کا استعمال ہوسکتا ہے اور دوسرا سبب اکسیڈیشن فلیش پر مبنیThermobaric
اسلحے کا استعمال ہوسکتا ہے- یورینیم ایک ہوسکتی ہے کہ یہ بارود
روایتی Uranium
Penetrator
ہو جس میں افزودوہ ایلومینیم استعمال کیا جاتا ہے- فوٹو گراف میں
پہلے بم کے چلنے کے بعد سیاہ دھوئیں کے بادل نظر آئے ہیں جس کے سبب
یورینیم کا جلنا ہوتا ہے
افزودہ
یورینیم، قدرتی یورینیم کی دھات سے تیار کیا جاتا ہے اور جوہری ری
ایکٹروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے- افزودہ یورینیم
کی ایک اور زائد پیداوار
depleted uranium
ہے اور اسے فوجی بکتر بند گاڑی کو تباہ کرنے کے لیے اینٹی ٹینک
میزائیل میں استعمال کیا جاتا ہے-
Depleted
یورینیم، افزودہ یورینیم سے کم خطرناک ہے- افزودہ یورینیم سے بہت
زیادہ تابکار شعاعیں نکلتی ہیں
اسرائیل نے لبنان میں جو اسلحہ استعمال کیا ہے، اس کے بارے میں یہ
بات معروف ہے کہ اس نے معلومات سے فراہم کرتے ہوئے صاف گوئی سے کام
نہیں لیا- اسرائیل نے 1982ء
میں نہتے شہریوں کے خلاف فاسفورس اسلحہ استعمال کرنے کی تردید کی
تھی، لیکن صحافیوں نے دنیا کے سامنے ایسے زخمی پیش کیے کہ جن کے
زخموں کو ہوا لگتی تھی تو اس میں آگ پیدا ہوجاتی تھی
یہاں تک کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرجاتے تھے- میں نے بذات خود مغربی بیروت
میں دیکھا کہ اسرائیل نے شہر کا گھیرائو کررکھا تھا- دو بچے اس حالت
میں مردہ خانے لائے گئے کہ جن کے زخموں سے مسلسل آگ بن رہی تھی- دنیا
بھر کے صحافیوں نے اس کی تصاویر بنائیں-
اس
کے بعد اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ فاسفورس بم استعمال کیے جارہے ہیں-
گورنمنٹ پارلیمان تعلقات کے اسرائیلی وزیر جیکب ایڈری نے بھی تصدیق
کی کہ یہ اسلحہ حزب اللہ کے خلاف براہ راست استعمال ہوا ہے-
برطانوی اخبار انڈیپنڈینٹ کے نمائندے نے اسرائیلی فوج کے ترجمان سے
سوال کیا کہ کیا ان کی فوج ایسا خطرناک اسلحہ استعمال کررہی ہے؟
اس
کے جواب میں اسرائیل کے وزیر نے کہا تھا کہ ’’ہم کوئی ایسا اسلحہ
استعمال نہیں کررہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک اور اہم سوال بھی پیدا
ہوتا ہے کہ بہت سے جدید ہتھیار ہم آج استعمال کررہے ہیں کہ جو کنونشن
کے منظور ہونے کے وقت موجود ہی نہیں تھے اور مغربی حکومتیں ابھی تک
سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس قسم کے جوہری ہتھیار اور اسلحے کے استعمال
سے ہزاروں لوگوں کی جان تباہ ہوسکتی ہے
امریکی
اور برطانوی فوجوں نے عراق میں 1991ء
میں depleted
یورینیم کے لاکھوں شیل استعمال کیے- ان کو جوہری اسلحہ خانوں کے
فضلے سے تیار کیا گیا تھا، جن عراقی علاقوں میں یہ بم گرائے گئے تھے،
وہاں پانچ برس بعد سارے علاقے میں سرطان کا مرض پھیل گیا- امریکی فوج
نے شروع شروع میں خبردار کیا تھا کہ اگر توپخانے کے خلاف اس کو
استعمال کیا گیا تو عوامی صحت پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں
لیکن
امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے بعد ازاں ان دعوئوں کو چھوٹا اور
معمولی بنا کر پیش کرنا شروع کردیا- لیکن اس کے باوجود بوسنیا سے
رپورٹ آئی کہ وہاں بھی یہی اسلحہ استعمال کیا گیا تھا اور وہاں نئی
طرز کا کینسر پھوٹ پڑا ہے وہاں نیٹو کی افواج نے ڈیپلیٹڈ یورینیم
استعمال کیا تھا- سال 2003ء
میں یہ اسلحہ دوبارہ عراق کے خلاف استعمال ہوا لیکن اس بار یہ معلوم
نہ ہو سکا کہ کتنی انسانی جانوں کا اتلاف ہوا-
ڈاکٹر
بس بی کا کہنا ہے کہ جب یورینیم بارود استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے
منتشر اجزاء طویل عرصے تک فضاء میں موجود رہتے ہیں اور دور دور تک
بکھر جاتے ہیں، یہ ہوا کے ذریعہ سانس کی نالیوں میں چلے جاتے ہیں-
محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ طویل
عرصے تک اجزاء پھیلے رہتے ہیں
خیام
کا علاقہ اسرائیلی سرحد سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے- پہلی جنگ
عظیم میں ایسا ہی ہوا تھا کہ گیس اس قدر پھیل گئی اور ذرات اس قدر
منتشر ہوگئے کہ اس کے چلانے والے بھی اس کی زد میں آگئے
کرینفیلڈ یونیورسٹی میں فوجی سائنس اور ڈاکٹرائن کے پروفیسر کریس
بلیوے کا کہنا ہے کہ یہ نیو کلئیر فضلے کے استعمال کی بھر پور کوشش
ہے اور اس کو تجرباتی طور پر استعمال کیا گیا
خیام
کے علاقے سے مٹی کے نمونے لیے گئے ہیں- یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں ایک
بدنام جیل موجود ہے- جب 1978ء
اور 2000ء
کے درمیان اسرائیل نے جنوبی لبنان پر قبضہ کیے رکھا تھا- دھماکے کی
وجہ سے یہ ساری زمین سرخ ہوچکی ہے- یہاں پر آئی سوٹویس کی شرح
108
تھی، جو اس چیز کی علامت ہوتی ہے کہ یہاں آفزودہ یورینیم استعمال کیا
گیا تھا
بیرس
بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورینیم آکسائیڈ کے وسیع پیمانے پر
استعمال کے بعد ارد گرد کی انسانی حیات پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں
ہم تجویز دیتے ہیں کہ اس علاقے کی جوہری فضلے سے صفائی کا بندوبست
نہیں ہے اور بقیہ علاقوں کو بھی چیک کیا جائے
اس برس
لبنان میں جنگ اس وقت چھڑی جب حزب اللہ کے جنگجو اسرائیل کے اندر
داخل ہوگئے- دو اسرائیلی سپاہیوں کو گرفتار کرلیا اور تین کو مار
ڈالا- اس کے جواب میں اسرائیل نے وسیع پیمانے پر لبنانی شہروں،
دیہاتوں، قصبوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور شہری انفراسٹرکچر
تباہ و برباد کر کے رکھ دیا
انسانی
حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شہریوں کو نشانہ بنا کر
انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی- حزب اللہ نے بھی
اسرائیل پر حملے کیے، کلسٹر بم گرائے اور اپنے راکٹوں کو کلسٹر بموں
جیسا مؤثر بنالیا
لبنانیوں کی اکثریت ابھی بھی یہ یقین رکھتی ہے کہ لبنان جنگ امریکی
اسلحہ اور ایرانی اسلحہ کی ٹیٹنگ کے لیے تھی، جو اسرائیل اور حزب
اللہ کی سرپرستی کرتے ہیں
اسرائیل
نے امریکہ کے تیار شدہ میزائیل حملوں میں استعمال کیے- یورینیم
ہتھیاروں کا یہ استعمال کب تک انسانی جانوں کا اتلاف کرتا رہے گا- اس
کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا؟ |