Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 10 November 2006 21:37 (PST)اشاعت

ہم نے عراقیوں کو امن اور جمہوریت دی ہے ، بش ، بلیئر

صدر بش اور ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراق میں جمہوریت قائم کی ہے

مارچ 2003ء میں عراق پر امریکہ کے تسلط قائم کرلینے کے بعد ملک کو جہاں بد امنی اور انتشار نے اپنی لپیٹ میں لیا وہیں غربت اور بے روزگاری نے بھی ڈیر ے ڈالے- بین الاقوامی رفاعی اداروں نے تعمیر نو کے بہانے عراق میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا

کئی این جی اوز محض دکھاوے کے لئے رفاعی کام کرتی ہیں جبکہ ان کے عزائم اور مقاصد کچھ اور ہیں

یہ این جی اوز شہریوں خصوصاً خواتین کی غربت اور بے روزگاری سے فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرنے اور پھران کی عصمتوں کو تاراج کرنے کا مرتکب ہوتے ہیں- حال ہی میں خواتین حقوق کی ایک عالمی تنظیم ’’انٹرنیشنل ویمن رائٹ ‘‘نے عراق میں ایسی این جی اوز کی سرگرمیوں اور خواتین کی عصمت دری کے واقعات پر مبنی ایک دستاویزی رپورٹ جاری کی ہے

یہ رپورٹ اگرچہ اس طرح کی تنظیموں اور این جی اوز کی پشت پناہی کرنے والے ممالک اور طاقتو ں کو ناگوار گزری تاہم اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ کے انسانی حقوق کے تحفظ کے کھوکھلے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے- رپورٹ کے مطابق عراق میں کام کرنے والی این جی اوز عراق دوشیزاؤں کو پرکشش معاوضوں کے لالچ میں اپنے ساتھ کام کرنے کی پیش کش کرتے ہیں- بعد ازاں این جی اوز اہلکار انہیں مشرق وسطی کے دیگر ممالک میں منتقل کردیتے ہیں- جہاں ان سے عصمت فروشی کے علاوہ انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے

ان خواتین کی عریاں فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر جاری کی جاتی ہیں- عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 35سو ایسی دوشیزائیں لاپتہ ہوچکی ہیں جو کسی نہ کسی این جی اوز کے ساتھ کام کرتی تھیں- رپورٹ کے مطابق بعض خاندان اور والدین اپنی جوان بیٹیوں کو پرکشش معاوضے کی صورت میں این جی اوز کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں اور پھر این جی اوز اہلکار اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے استعمال کرتے ہیں - رپورٹ میں ایک 16سالہ مریم نامی لڑکی کی مثال پیش کی گئی ہے - جسے اس کے والدین نے 6ہزار ڈالر کے عوض ایک غیر ملکی این جی اوز کے حوالے کردیا تھا

این جی اوز کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں کہا گیاتھا کہ مریم کو ایک سال کے لئے دوبئی میں گھروں میں صفائی کے کام پر مامور رکھا جائے گا اور ایک سال کے بعد اسے واپس عراق منتقل کردیا جائے گا - لیکن اب تین سال ہوچکے ہیں- مریم کو دوبئی کے ایک ہوٹل کے مالک کے حوالے کردیا گیاجس نے مریم کو بتایا کہ وہ محض اس کی جنسی تسکین کے لئے لائی گئی ہے اور یہ کہ وہ ہوٹل کا مالک اسے مزید معاوضہ بھی دے گا

ہوٹل میں کام کرنے والی دوسری لڑکیوں نے مریم کو بتایا کہ اگر وہ کام کرنے سے انکارکردے گی تو ہوٹل کا مالک اسے قتل کردے گا- لہذا وہ ہر لحاظ سے مجبور تھی لیکن فرار کے لئے موقع کی تلاش میں تھی- بعد ازاں وہ رات کے پچھلے پہر ہوٹل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی اور بغداد واپسی  گئی-

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بین الاقوامی این جی اوز باقاعدہ خواتین اسمگلنگ کا دھندہ کرتی ہیں، عراقی خواتین کو بہلا پھسلا کر اور انہیں ملازمت فراہم کرنے کے بہانے  دوسرے ممالک ایسے عناصر کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں جو ان سے باقاعدہ جنسی دھندے کے طور پر کام کرواتے ہیں

بیشتر خواتین کو عراق سے اسرائیل ،روس ، حتی کہ افریقہ تک لے جایا جاتا ہے  

 رپورٹ کے مطابق یورپ سے تعلق رکھنے والی این جی اوز خوبصورت عراقی لڑکیوں کی تلاش میں رہتی ہیں- دوشیزائوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے مرد اہلکاروں کے ساتھ شب بینی پر مجبور کرتی اور اس طرح کے امور کے لئے اضافی معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے- انکار کرنے پر قتل اور ملازمت سے فارغ کردینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں

بیشتر خواتین اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں- اعداد و شمار کے مطابق عراق میں گزشتہ تین برس میں این جی اوز کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد اڑھائی ہزارتک پہنچ چکی ہے - عالمی تنظیم کے مطابق دوبئی خواتین کی عصمت فروشی کا بین الاقوامی اڈہ ہے جہاں افریقہ ، عرب دنیا ، ایشیا،یورپ اور مشرق وسطی کے ممالک کی خواتین عصمت فروشی اور جنسی ضروریات کے لئے لائی جاتی ہیں

رپورٹ کے مطابق ایک مکمل اور منظم لابی غریب اور جنگ زدہ علاقوں میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے سرگرداں رہتی ہے اور زیادہ تر کامیابی بھی ایسے ہی ممالک میں ہوتی  ہے

دوبئی جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر میں قائم ہوٹلوں میں کام کرنے والی خواتین میں سے بیشتر جنسی دھندے کا کا م لیا جاتا ہے - ہوٹلوں میں قیام کرنے والوں کو دوشیزاؤں کو ان کی خدمت میں پیش کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے اور جس کے بدلے میں ہوٹل مالکان کرایہ داروں سے اضافی چارجز وصول کرتے ہیں- عراق پر امریکی جنگ کے بعد دوبئی ہوٹلوں میں عراقی خواتین ورکروں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات