|
انگریزی اور اردو صحافت میں
بصیرت و بصارت پر عالمانہ دسترس رکھنے والے انبساط احمد علوی کے
بے وقت وصال کی خبر صحافتی حلقے میںکسی بڑے زلزلے سے کم نہیں
کیونکہ ان سے ابھی اردو صحافت کو بہت کچھ امیدیں وابستہ تھیں
ایک لمبی مدت تک برطانیہ میں
انگریزوں کے درمیان نیو یارک ٹائمس اور لندن ٹائمس جیسے معتبر
اخبارات میں انگریزی صحافت کو برتنے والے انبساط احمد علوی
تقریباً 15برسوں تک ریڈیو اقوام متحدہ سے بھی وابستہ رہے
اس دوران انہوں نے صحافت کے
تغیر وتبدل کو نہ صرف یہ کہ قریب سے دیکھا، پرکھا او ر تولا بلکہ
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ1993میں وطن واپسی کے بعد اردو صحافت کو
اسی معیار پرلاکھڑا کرنے کی عملی کوشش بھی کی
انبساط احمد علوی کی صحافتی
اعلیٰ ظرفی کا ہی نتیجہ تھا کہ انہیں آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ
اردو میں بین الاقوامی، قومی اور علاقائی حالات وواقعات پر تبصرہ
لکھنے کے مواقع فراہم کرائے گئے
موصوف نے اردو صحافت کواوج ثریا
پرپہنچانے کے لیے عملی سطح پربہت تھوڑی مدت کے درمیان جو بڑی اور
قابل قدر کوششیں سرانجام دیں انہیںفراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ہفت
روزہ’عالمی سہارا‘ کے سیاسی مدیر کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی
کے دوران موصوف نے اس ہفت روزہ کو بالخصوص بین الاقوامی موضوعات
کے حوالے سے جو شہرت دلائی اسے بھلایا نہیں جاسکتا
روزنامہ ’ہندوستان ایکسپریس ‘
کے معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک انہوں نے ایگزیکٹیو
ایڈیٹرکی حیثیت سے جس خلوص ، محنت شاقہ اورلگن کے ساتھ خدمات
انجام دیں اس سے یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ موصوف اردو صحافت
کوملک گیر پیمانے پر نئے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے کے
تئیں پہلے بڑے خواب دیکھا کرتے اورپھر اسے حقیقت کا روپ دینے کے
لیے عملی دنیا آباد کرنے میں لگ جاتے ۔ بلا کی ذہنیت، بین
الاقوامی امور میںقدرت کاملہ اور صحافتی انشا پردازی کا بہترین
نمونہ پیش کرنے والی اس عظیم شخصیت کو اگراردو صحافت کا
انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو کسی مبالغے کا اندیشہ نہیں ہونا
چاہئے
پل پل بدلتے حالات کا پلک
جھپکتے تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بھرپور انبساط احمد علوی نے
روزنامہ ہندوستان ایکسپریس میں اپنی اس قدرت کا بار بار استعمال
کرتے ہوئے صحافت کی وادی میں ’ہندوستان ایکسپریس‘ کو چار چاند
لگانے میں جو نمایاں کردار نبھایا اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا
انبساط احمد علوی کا ایک خواب
یہ بھی تھا کہ عالمی معیار پرکھرا اترنے والا ایک معیاری ہفت
روزہ منظر عام پر لایا جائے
افسوس ہے کہ اس خواب کو حقیقت
میں بدلنے کی کوششوں کے درمیان ہی موصوف اس عالم فانی سے کوچ
کرگئے۔ موصوف کو مرحوم لکھتے ہوئے بڑے عجیب وغریب احساسات سے
گزرنا پڑرہا ہے ۔قدرت کو یہی منظور تھا ،اللہ انہیں غریق رحمت
کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے
|