|
حاصل ہورہی ہے کہ مستقبل قریب میں
سعودی عرب سے ہمارے تعلقات نہ صرف یہ کہ مزیدگہرے ہوں گے بلکہ دونوں
ممالک کے عوام کے مابین روابط بھی وسیع پیمانے پر بڑھیں گے
یہ گمان اس لیے گذرتا ہے کیونکہ پےر
کے دن نئی دہلی میں دونوں ممالک کے وزرائے تعلیم نے باہمی تعاون کو
فروغ دینے کے حوالے سے جو معاہدہ کیاہے اس کے تحت آئندہ پانچ برسوں
تک ہند-سعودی عرب تعلےمی مےدان میں اےک دوسرے سے استفادہ کے لےے آپس
میں ماہرین تعلیم کا تبادلہ کرسکیں گے
سائنس وتکنالوجی اوراعلیٰ تعلیم کے
شعبہ میںماہرین کے تبادلے سے یقینی طور پر تحقیق کے میدان میں ایک
نیا تنوع حاصل ہوسکے گا اور یہ کہنا بیجا نہیں کہ اس سے دونوں ممالک
نئی تاریخ درج کرانے میں بھی کامیاب ہوں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ اشتراک
کے معاہدے میں دونوں ممالک نے آئی ٹی کے شعبے کو بھی شامل کیا ہے۔
چنانچہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہندوستان میں آئی ٹی کے شعبے میںبرپا
ہونے والے انقلاب سے عالمی سطح پر اونچا ہونے والے ہمارے قد کو نہ
صرف یہ کہ دنیا ماننے پر مجبورہوئی ہے بلکہ سعودیہ عرب جیسے ہو ش مند
ملک نے اس سے بیش از بیش استفادے کے لیے امکانات کی تلاش میں
ہندوستان کے ساتھ معاہدہ کیا ہ
گویا یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ
آئی ٹی کے میدان میں سعودی عرب کو امکانات کی تلاش کے لیے ہندوستان
سے رجوع کرنے کی ضرورت یوں ہی درپیش نہیں ہوئی بلکہ اس ذیل میں
ہندوستان کی حالیہ پیش رفت کا سعودی عرب نے بغور جائزہ لینے کے بعدہی
معاہدے پرسنجیدگی دکھائی۔
اس امر پرہرکسی کا اتفاق ہے کہ ہندوستان نے حالیہ دنوںمیں جن شعبہ
ہائے حیات میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اورجو شعبے سب سے زیادہ ترقی
کے حامل ٹھہرائے گئے ہیں ان میں انفارمیشن تکنالوجی کی حیثیت کلیدی
ہے۔ چنانچہ اس میدان میںتحقیق کے نئے درکا وا ہونا خود ہندوستان کے
حق میں بھی مفید سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ تحقیق وتلاش اورجستجوکسی بھی
شعبہ زندگی کی ترقی کی راہ میںمعراج کا درجہ رکھتی ہے
ظاہرہے سعودی عرب سے ان
امورمیں راہ ورسم کا بڑھنا ہندوستان کے لیے شگون نیک کا درجہ رکھے گا
کیونکہ عالمی سطح پر تغیر وتبدل کوذہن میں رکھتے ہوئے سعودی عرب کو
آئی ٹی کے شعبہ میںانقلابی تبدیلی سے ہم آہنگ کرانے کے دوران امکانات
کے جوکشادہ راستے کھلیں گے وہ خودہندوستان کے لےے بھی لازمی طورپر
تکنالوجی کووسعت بخشنے کا حامل قرار پائیں گے
ہند ، سعودی عرب معاہدے کے تحت
مشترکہ تحقیق کا جو نکتہ شامل ہے اسے بھی ہندوستان کے لیے ایک بہتر
پیش رفت کا آئینہ دار قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ہندوستانی محققین کو
مختلف شعبوں میں ریسرچ کے لیے سعودی عرب کے مستقل اسفار کا موقعہ
حاصل ہوسکے گا اور دوسری جانب سعودی عرب کے تحقیق کار ہندوستان آکر
یہاں امکانات کی تلاش کو یقینی بناسکیں گے۔اب تک مشترکہ تحقیق کے
حوالے سے ہندوستان نے فراخ دلی کا جذبہ نہیں دکھایا تھا
چنانچہ یہ کہتے ہوئے کسی مبالغے کا
شبہ نہیںکہ تغیر پذیر عالمی صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہندوستان
نے مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا
ہے۔معاہدے کے تحت مشترکہ تحقیق کے دوران ایک دوسرے کے مسودے سے دونوں
ممالک یکساں طور پر فیضیاب ہوںگے لیکن ساتھ ہی ساتھ دونوں ہی دوست
ممالک کا اس بات پرمتفق ہوناکہ کوئی تیسرا فریق دستاویزات کے تبادلوں
سے کوئی مثبت نتیجہ نہ اخذ کرے ،ہند سعودی عرب رفاقت کا اندازہ
لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے پرکس قدربھروسہ ہے
ہند ، سعودی عرب کے مابین خوشگوارتعلقات کو نئی جہت ملنے کا امکان
اسی وقت ظاہرکیا جارہا تھا جب گذشتہ دنوں فروغ انسانی وسائل کے مرکزی
وزیر ارجن سنگھ ایک نمائندہ وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پرگئے
تھے۔اس وقت ہندوستانی رہنما کا سعودی عرب میں جس طرح والہانہ استقبال
کیاگیا اور سعودی ارباب وقت نے تعلیمی امورمیں اشتراک وتعاون کا جو
اشارہ دیا اس سے یہ تاثر پیدا ہوگیا تھا کہ مستقبل قریب میں دونوں
ممالک کسی اہم معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں اور آخر کار سعودی
وزیرتعلیم خالد بن محمد کی نئی دہلی آمد شگون نیک قرار پائی اور
دونوں ممالک نے اہم معاہدے پر دستخط ثبت کردیے
حالانکہ سعودی عرب سے ہندوستان کی
دیرینہ دوستی تمام تر شکوک وشبہات سے بالا تررہی ہے اور ماضی میں بھی
دونوں ممالک نے نیک نیتی کے جذبے کے تحت مختلف شعبوںمیں تعاون کے
معاہدے کیے ہیں،لیکن حال کے دنوں میں ہندوستان کے بعض متنازعہ رول کی
وجہ سے سعودی عر ب سمیت پورے عالم اسلام سے کھنچائو کا ایک ایسا
ماحول پیدا ہوگیا تھا جسے ہند، عالم اسلام بُعد کا نتیجہ قرار
دیا جارہا تھا۔غالباً اسی دوری کا نتیجہ تھا کہ خلیجی ممالک میں
روزگارکے امکانات کی تلاش میں قیام پذیر لاکھوں ہندوستانیوں کا
مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دے رہا تھا ۔حالانکہ یہ بھی صحیح ہے کہ نہ
تو ہندوستان نے اس خلیج کوبڑھانے کی کوشش کی اور نہ ہی خلیجی ممالک
نے ہندوستان سے دیرینہ تعلقات کوخراب کرنے کی زحمت کی
گویاعالم اسلام نے تواعتدال پسندی
کو راہ دینالازمی جانا ہی، اظہاراطمینان اس بات کا ہے کہ ہندوستانی
ارباب وقت نے بھی اس اندیشے کے پیش نظر اسلامی ممالک سے اپنے پرانے
تعلقات کوتوڑنے سے گریز کیاکہ اس سے ہندوستان کی سیکولر شبیہ نہ صرف
یہ کہ داغدارہوگی بلکہ عالم گیر سطح پرمسلمانوںکے حوالے سے ہندوستانی
ارباب وقت کی کج روی طشت از بام ہوجائے گی۔ ظاہر ہے ایک خلیج کا حائل
ہوجانااور اس کے بعداز سرنوتعلقات کو خوشگوارنوعیت میں تبدیل کرنا
ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار پاسکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا
ماننا ہے کہ سعودی عرب سے ہندوستان کی دوستی کی یہ تجدید یقینی
طورپرمستقبل میںدونوں ممالک کے لیے ثمر بار ثابت ہوگی
دونوں ممالک نے حالانکہ اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم
کے شعبہ میں تعاون کے جذبے کو فروغ دینے کے درمیان طلبا ایک دوسرے
ممالک کی یونیورسٹیوں سے بھی استفادہ کرسکیں گے۔ہر چند کہ اس سے
ہندوستانی طلبا کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہونے کو نہیں ہے کیونکہ
سعودی تعلیم گاہوںمیں ہندوستانی طلبا کو جدید علوم سے بہرہ مندی کی
سہولتیں شایددستیاب نہ ہوں لیکن قدیم علوم بالخصوص سعودی ثقافت،
تہذیب اورتمدن سے آگاہی حاصل کرنے والوں کو سنہرا موقع حاصل ہوسکے
گا۔ چنانچہ ہندوستان کے ان طالب علموںکے لیے یہ معاہدہ منفعت کا حامل
قرار پاسکتا ہے جوعلوم قدیم سے استفادہ کرتے ہوئے جدید دور میں اس
حوالے سے کچھ کرگذرنے کا جذبہ رکھتے ہیں
استغراقی کیفیت میں مبتلا طالب علموں سے ہندوستانی دانش گاہیں خالی
نہیں ہیں۔ایسے طلبا کو اگرملک سے باہرمواقع فراہم کرائے جائیں
توظاہرہے کہ ان کی تلاش وجستجوایک نیا راستہ تلاش کرے گی اورنئی
ڈگردونوں ممالک کے لیے نئی روشنی فراہم کرانے کاذریعہ بنے گی۔ہند
سعودی عرب کے درمیان دوستی کے اس سفر کوابھی اور بھی آگے جانا ہے
کیونکہ دونوں ممالک کے لیے باہمی اشتراک کا یہ سفروسیع ترامکانات
رکھتاہے
افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں دوست
ممالک قربت بڑھانے میں آخر کیوں کرست روی کے شکار ہوئے اور اےک لمبا
عرصہ ہندوستان اور عالم اسلام کے درمےان خلاء کی نذر کیوں ہوا؟ ےوں
تو دوستی بجائے خود اس بات کی متقاضی ہے کہ اس سے فےضےابی کی راہ
کھلے لےکن حالےہ دنوں میں ہندوستان کی ناقص خاجہ پالےسی پرانی دوستی
کو دشمنی کی بھےنٹ چڑھاتی رہی تھی۔ یہ بات دیگرہے کہ سعودی عرب سے
دوستی کی اس تجدےد کو خارجہ پالےسی کی کامےابی کم اور فروغ انسانی
وسائل کی وزارت کی حصولیابی زیادہ قرار دیا جاسکتاہے۔کیونکہ اس ذیل
میں بظاہروزارت خارجہ کا بہت زیادہ مثبت رول دکھائی نہےں دے رہا ہے
بلکہ ےوں کہنا زےادہ مناسب ہوگا کہ انسانی وسائل کے وزیرارجن سنگھ کی
ذاتی دلچسپی اشتراک وتعاون کے جذبے کو فروغ دینے کا محرک بنی ہے
خارجہ پالیسی اگر واقعی انگڑائی
لیتی تو ہندوستان کا ایک پچھڑا ساتھی شاید اسے دوبارہ مل گیا ہوتا۔
میری مراد ایران سے ہے ، جس کے خلاف احمقانہ طریقہ سے ہندوستان نے
مخاصمت دکھلائی اورمحض امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایران سے
دیرینہ تعلقات کو قربان کردیاگیا۔کہنا مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں
ہندوستان اپنے ان کھوئے ہوئے دوستوں کوپاسکے گایا نہیں |