|
ڈیولپمنٹ پروگرامUNDPکے ذریعہ
تیار کی گئی سالانہ انسانی ترقیاتی رپورٹ تھی جسے ہندوستان میںوزیر
برائے آبی وسائل سیف الدین سوز نے جاری کی۔ان دونوں ہی رپورٹوں میں
ہندوستان کے تعلق سے جو باتیں کہی گئیںہیں اس پر بہت سے لوگ خوش فہمی
کے شکار ہیں ۔حالانکہ ایمانداری کی بات یہ ہے ان رپورٹوں میں
ہندوستان کے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے اس میں ایساکچھ بھی نہیں
ہے جس پر خوشیاں منائی جائیں بلکہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لئے
ان رپورٹوں میں جو باتیں کہی گئیں ہیں وہ ہر سال کی طرح اس سال بھی
شرمناک ہی ہے
پہلے چونکہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل
کی بات آئی اس لئے پہلے اسی کی بات کرتے ہیں۔دنیا بھر کے ملکوں میں
ہونے والی بدعنوانی پر نظر رکھنے والی اس تنظیم نے کہا ہے کہ بے
ایمان یا بدعنوان ملکوں کی فہرست میں ہندوستان 70ویں نمبر پر ہے۔اس
سال کل ملا کر 163ممالک کی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ہندوستان میں اس بات
کو لیکر خوشی منائی جا رہی ہے کہ گزشتہ سال جب 159ممالک کی رپورٹ پیش
کی گئی تھی تو ہندوستان 88ویں نمبر پر تھا
ہم میں یہ پرانی عادت ہے کہ ہم اپنے
گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں اور یہی وجہ
ہے اس بار ہم جہاں یہ سوچ کر خوش ہو رہے ہیں کہ اپنے ملک میں بد
عنوانی پر کچھ حد تک قابو پایا گیا ہے وہیں ہمارے خوش ہونے کی ایک
بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس رپورٹ میں ہمارے پڑوسی ممالک پاکستان ،سری
لنکا اور بنگلہ دیش کو ہم سے زیادہ بے ایمان بتایا گیا ہے
سری لنکا جہاں اس رپورٹ میں 84ویں
نمبر پر ہے وہیں پاکستان کی پوزیشن 142ویں ہے۔بدعنوانی کے معاملے میں
بنگلہ دیش کا نمبر 156واں ہے۔ہیتی دنیا کا سب سے بے ایمان ملک ہے
جبکہ بے ایمانی میں میانمار،عراق اور گینی دوسرے نمبر پر ہیں۔بنگلہ
دیش میں بد عنوانی کا بول بالا ہے اور وہ اس معاملے میں چاڈ،کونگو
اور سوڈان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ایک طرف جہاں یہ ملک بدعنوان ہیں
وہیں فن لینڈ،آئیس لینڈ اور نیوزی لینڈ دنیا کے سب سے ایماندار ملک
ہیں۔اب جہاں تک اپنے ملک ہندوستان کا سوال ہے تو کیا اس کا اس بات کو
لیکر خوش ہونا مناسب ہے کہ ہم سے زیادہ بے ایمان ملک ہمارے پڑوسی ہیں
یا پھر دنیا کے اور دوسرے ملک ہیں
ایمانداری تو اسی میں ہے کہ ہم یہ
دیکھیں کہ ہم کتنے بے ایمان ہیں۔ہمارے ملک میں کون سا ایسا محکمہ ہے
جو بے ایمان نہیں ہے۔یہ صحیح ہے کہ Right to Information Act کے آنے
کے بعد میں ملک میں کچھ حد تک بے ایمانی میں کمی آئی ہے۔مگر یہ کمی
ایسی نہیں ہے کہ اس پر خوشی منائی جائے۔ہندوستان میں کوئی بھی ایسا
صوبہ نہیں ہے یا کوئی بھی ایسا سرکاری محکمہ نہیں جو سینہ ٹھونک کر
اور فخر کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ ہمارے یہاں بدعنوانی نہیں ہے۔ہندوستان
میں سب سے زیادہ بے ایمانی بہار میں ہے جبکہ جموں کشمیر دوسرے اور
مدھ پردیش تیسرے نمبر پر ہے
مختلف محکموں کی بات کریں تو سب سے
زیادہ بے ایمانی اوربدعنوانی اس محکمے میں ہے جس کا کام بے ایمانی
روکنا ہے۔ہندوستان میں بدعنوانی کے معاملے میں پولس پہلے نمبر پر
ہے۔اس کے بعد عدلیہ،ٹرانسپورٹ،ہیلتھ اور تعلیم کا نمبر آتا ہے۔پولس
اپنے کو عوام کا دوست بتاتی ہے مگر عوام کی اس وہ سب سے بڑی دشمن
ہے۔پولس کے بارے میں تو یہ عام ہے کہ نہ تو اس سے زیادہ دوستی بہتر
ہے اور نہ اس سے دشمنی ۔مالی فائدے کے لئے پولس کب، کسے، کہاں اور کس
جرم میں پھنسا دے کہا نہیں جا سکتا
پولس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے
کہ وہ کوئی بھی کام بغیر رشوت کے نہیں کرتی۔عدلیہ کا بھی یہی حال
ہے۔غریب بغیر قصور کے سالوں جیلوں میں بند رہتے ہیں جبکہ مالدار لوگ
پیسے کے بل پر کئی قتل کر کے بھی بے قصور ثابت ہو جاتے ہیں۔تعلیم کے
شعبے میں بھی بدعنوانی کا بول بالا ہے۔معمولی اسکول سے لیکر بڑے بڑے
کالج اور یونی ورسٹیوں میں بدعنوانی ہے۔غریب بچے تیز اور ہونہار ہونے
کے باوجود کہیں داخلہ نہیں لے پاتے جبکہ مالدار کے بچے پیسوں کے
سہارے جس کالج میں چاہیں داخلہ حاصل کر لیتے ہیں
تعلیم کے میدان میں رشوت ڈونیشن کے
نام سے مشہور ہے۔
اب بات کریں دوسری رپورٹ کی۔انسانی ترقیات کے تعلق سے یہ رپورٹ ہر
سال یو این ڈی پی کی طرف سے جاری کی جاتی ہے۔اس بار 177ممالک کی جو
رپورٹ جاری کی گئی ہے اس میں ہندوستان 126ویں نمبر پر ہے۔گزشتہ سال
کے مقابلے اس سال ہندوستان کو ایک مقام کا فائدہ ہوا ہے۔گزشتہ سال
جاری ہوئی رپورٹ میں ہندوستان 127ویں نمبر ہے۔بہت سے لوگوں کو اس بات
کو لے کر خوشی ہو رہی ہے کہ اس نئی رپورٹ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ
اپنے ملک میں انسانیت کا چہرا سدھرا ہے
صرف ایک مقام کے فرق کو لے کر
خوشیاں منانا کہاں تک جائز ہے۔خوشی منانے کی ایک وجہ اور بھی ہے اور
وہ یہ ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ،ہمارا پڑوسی پاکستان ہم سے زیادہ بری
حالت میں ہے۔مگر ہم یہ بھول رہے ہیں کہ جنوبی ایشیاء کے کئی دوسرے
ممالک کی حالت ہم سے زیادہ بہتر ہے۔اس معاملے میں سری لنکا جہاں ہم
سے بہتر یعنی 93ویں پوزیشن پر ہے وہیں مالدیپ بھی 98ویں مقام پر رہ
کر ہم سے اچھی پوزیشن میں ہے
انسانی ترقی کے معاملے میں شروع کی
تین پوزیشن ناروے،آئیس لینڈ اور آسٹریلیا کو حاصل ہے۔انسانی ترقیاتی
رپورٹ کے نام سے یو این ڈی پی کے ذریعہ ہر سال جو رپورٹ جاری کی جاتی
ہے اس میں صرف فی شخص آمدنی کو بنیاد نہیں بنایا جاتا بلکہ اس ملک کی
تعلیمی اور سماجی حالت بھی دیکھی جاتی ہے۔ اگر مجموعی گھریلو پیداوار
کی بات کریں تو اس معاملے میں اس بار ہندوستان 114ویں نمبر پر،بالغوں
میں خواندگی کی شرح کے بنیاد پر 107ویں نمبر پر اور اسکولوں میں طالب
علموں کے رجسٹریشن کی بنیاد پر دنیا میں 127ویں نمبر پر ہے
ہندوستان میں عام لوگوں کے فلاح و
بہبود کے لئے اسکیموں کی کمی نہیں ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہندوستان
میں غریبوں کے فلاح و بہبود کے لئے دو سو سے زائد اسکیمیں ہیں۔ان میں
بہت سی اسکیمیں تو ایسی ہیں جو صرف کاغذوں پر ہیں،بہت سی اسکیمیں
ایسی ہیں جن کے بارے میں ان کو ہی پتہ نہیں جن کے لئے یہ اسکیمیں
تیار کی گئیں ہیں۔جن اسکیموں پر عمل ہوتا بھی ہے اس میں بدعنوانی کا
بول بالا رہتا ہے۔اسکیم چاہے مرکزی سرکار کی طرف سے ہو یا پھر ریاستی
سرکار کی طرف سے اس میں سے لوٹ کھسوٹ بڑے پیمانے پر ہوتی ہے
سابق وزیر آعظم راجیو گاندھی نے بھی
یہ بات مانی تھی کہ مرکز سے غریبوں کے لئے جو پیسا چلتا ہے اس کا بہت
تھوڑا حصہ ہی ان تک پہنچ پاتا ہے جن کے لئے یہ پیسہ مختص کیا گیا
تھا۔ہندوستان کی زیادہ تر آبادی زراعت پر منحصر ہے۔غریب کسانوں کی
محنت کی وجہ سے ہی امیروں کے بچے پلتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ کہ آج
اس ملک کا کسان سب سے زیادہ پریشان ہے۔کسانوں کی محنت سے دوسرے عیش
کر رہے ہیں مگر بے چارے کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں
حالانکہ سرکار بھی مانتی ہے کسان
خودکشی کر رہے ہیں مگر خودکشی کرنے والے کسانوں کی جو تعداد بتاتی ہے
اس سے کئی گنا زیادہ کسان اپنی جان گنوا چکے ہیں اور آئے دن گنواتے
رہتے ہیں۔آزادی کے اتنے سال گزر جانے کے بعد غریبوں کی حالت بہتر
نہیں ہوئی ہے۔کئی رپورٹوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ملک میں غریبی
میں کمی تو آ رہی ہے مگر غریبی جس رفتار سے کم ہو رہی ہے اس سے تو
یہی کہا جا سکتا ہے آنے والے کئی سالوں تک ہندوستان کی حالت بہتر
نہیں ہوگی۔یہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو روزانہ بھوکے
سوتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں ایسے گائوں ہیں
جہاں پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔بڑوں کی حالت تو خراب ہے ہی بچوں کو
بھی مناسب عذا نہیں مل پا رہی ہے۔اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان
میں تین سال سے کم عمر کے 47فیصد بچے ایسے ہیں جنہیں مناسب غذا نہیں
مل پارہی ہے۔45فیصد بچے ایسے ہیں جو ان مناسب غذا کی کمی سے نہ صرف
قد میں چھوٹے ہیں بلکہ مختلف خطرناک بیماریوں کے شکار ہیں۔اعداد و
شمار بتا تے ہیں کہ مناسب غذا نہیں ملنے کی وجہ کر ایک ہزار میں سے
لگ بھگ دو سو بچے اپنی پانچویں سال گرہ نہیں منا پاتے
غریبوں کے بچے اگر ادھر ادھر سے کچھ
کھا پی کر بچپن میں ہی اگر مرنے سے بچ جاتے ہیں تو انہیں بچہ مزدور
کے طور پر کام کرنا پرتا ہے۔دس اکتوبر سے ملک میں بچوں سے کسی بھی
طرح کی مزدوری کرانے پر پابندی لگا دی گئی ہے مگر ملک میں موجود اور
دوسرے قوانین کی طرح اس کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے
ملک میں خواتین کی حالت بھی بہتر
نہیں ہے۔انہیں جتنی کیلوری کی ضرورت ہوتی ہے اس کا نصف بھی ان کو
نصیب نہیں ہوتا۔سرکار دعوی کرتی ہے کہ ملک میں خواندگی کی شرح بڑھ
رھی ہے مگر ایمانداری کی بات یہ ہے کہ ملک میں ناخواندگی کی شرح اب
بھی شرمناک ہے۔ کل ملا کر ملک کی ترقی اور ملک میں پھیلی بدعنوانی
،ان دونوں کاآپس میں گہرا رشتہ ہے۔ بدعنوانی کے خاتمے یا پھر اس میں
بہت حد تک کمی کئے بغیر ملک کی ترقی کی امید لگانا بے معنی ہے۔ |