Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 21 November 2006 09:58 (PST)اشاعت

چین بھارت تعلقات میں قربتیں پیدا ہو رہی ہیں

اسفر فریدی

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

چین اقتصادی ترقی ہی نہیں بلکہ جدید اور آئی ٹیک اسلحے میں بھی ترقی کی جانب گامزن ہے

ہندوستان اور چین دنیا کے دو ایسے بڑے ممالک ہیں جن کے بارے مےں یہ پیش گوئیاں کی جارہی  ہیں کہ اکیسویں صدی کے ساتھ ساتھ آنے والی کئی صدیوں تک عالمی سطح پر ان ہی دونوں ملکوں کا سکہ چلے گا۔ چین اقتصادی میدان میں  جس تیزی سے

 ترقی کررہا ہے اور ہندوستان کے پاس ترقی کرنے کے جو امکانات ہیں  ان کے پیش نظر اس طرح کی پیش گوئیاں بے جا بھی نہیں معلوم ہوتی ہیں۔لیکن ان وسائل کا اگر درست استعمال نہیں کیاگیا تویہی  وسائل ان ملکوسں کی ترقی کی راہ میں  رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ہندوستان اور چین انسانی وسائل اور نفری قوت کے اعتبار سے یکساں ہیں

 چین کی اقتصادی ترقی کی شرح 10فی صد سے زیادہ ہے جبکہ ہندوستان فی الحال 8 فی صد کو ہی برقرار رکھنے کی تگ و دو کررہا ہے۔ اقتصادی اور تجارتی لحاظ سے چین کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ ہندوستان میں موجود بنیادی سہولیات پر اکثر سوالیہ نشان اٹھایا جاتا ہے۔ہندوستان امریکہ کے ساتھ قربت کا خواہاں ہے اور چین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا رخ امریکہ مخالف سمت میں ہے لیکن امریکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا حصہ چین ہی جاتا ہے

چین میں سرمایہ کاری کرنے والے امریکی اور دیگر مغربی تجارتی ادارے وہاں دستیاب بنیادی سہولیات اور افسرشاہی سے چھٹکارا کی دہائی دیتے ہیں۔ ہندوستان میں  اس کا سب کچھ الٹا ہوتاہے۔ بنیادی سہولیات نہیں کے برابر ہیں ۔ اگر کہیں ہیں بھی تو وہ عوام کی سہولیات کے لیے غالباً نہیں بنے تھے بلکہ حکومت پر قابض سیاستدانوں اور افسرشاہوں نے اپنے اپنے عزیز واقارب کو فائدہ پہنچانے کے لیے کچھ منصوبوں پر عمل درآمد کیا ۔ کیونکہ ان کا مقصد عوامی مفاد نہیں تھا اسی لیے ان بنیادی سہولتوں کا حشر بہت جلد لوگوں کے سامنے آگیا

بنیادی سہولتوں میں سب سے اہم سڑک کو قرار دیا جانا چاہیے ۔ یہاں مرغی پہلے یا انڈا پہلے کی بحث سے قطع نظر یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ مطلوبہ جگہ پر ترقی کے وسائل اور امکانات کو بہم پہنچانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے سڑکوں کی ہی ضرورت پڑتی ہے، اس پر بیل، بھینس یا گھوڑا گاڑی کے بجائے موٹر ٹرک کا استعمال کیا جائے گا وہ بعد کی بات ہے۔ بہرحال سچائی یہ ہے کہ بہتر سڑکوں کی عدم موجودگی کے سبب ہم ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں

رفتار کے اعتبار سے بھی ہم فی گھنٹہ صرف 30سے 40کلومیٹرکی دوری طے کرپاتے ہیں  دنیا کے دوسرے ممالک بالخصوص ترقی پذیر مغربی ملکوں کی رفتار بھی 100اور 150کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ اب اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان اوران ملکوں کی ترقی میں صرف اسی بنیاد پر ہفتہ اور مہینہ کے اندر ہی کتنا بڑا فرق پڑجائے گ

۔رہی چین کی بات تو وہاں بنیادی سہولتیں ہندوستان کے مقابلے میں بہتر ہیں۔عوام کا ایک  حد تک خیال رکھا جاتا ہے۔ انہیں تعلیم سے لے کر طبی سہولیات تک مہیا کرائی جاتی ہیں۔ہندوستان کی حالت مختلف ہے۔ تعلیم کے نام پر بھان متی کا کنبہ جیسی پالیسی ہے۔ سب کو تعلیم دینے کی بات کی جاتی ہے ، روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر زمینی حقیقت بالکل برعکس ہے۔یہاں نہ یکساں نصاب تعلیم ہے اور نہ نظام تعلیم ہی ایک ہے۔ سب اپنی ڈفلی اپنا راگ کے حساب سے بجانا اور گانا جاری رکھے ہوئے ہیں

طبی سہولیات کی حقیقت بھی سب پر عیاں ہے۔ ڈینگو کے مرض نے سب کی کھٹیا کھڑی کردی۔ راجدھانی دلی میں آبادی کے لحاظ سے طبی سہولیات کو کم نہیں کہا جاسکتا ہے مگر چند دنوں کے اندر ہی جب ایک ہی بیماری مےں سیکڑوں کی تعداد میں  لوگ مبتلا ہونے لگے تو 2021تک سپر پاور بننے کا خواب دیکھنےوالے ہندوستان کے ارباب اقتدار کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ایسا سب کچھ اس لیے ہوا کیونکہ ہماری حکومتوں اور سیاستدانوں کے یہاں  عوامی خدمات کے جذبہ کا فقدان ہے۔سب کچھ بے ایمانی کے بھروسے کرنے کی عادت سی پڑ گئی ہے

دوسروں کی نظر میں سرخرو بننے کے لیے غریبی ہٹانے کا نعرہ دینے کے بعد ہمیں غریبوں کو ہٹانا ہی اچھا لگتا ہے۔دہلی اور دوسری ریاستوں کی حالیہ صورت حال سے بھی ےہی واضح ہے۔مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ جاری تھا ہی کہ دلتوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ۔ حکومت نے انہیں انصاف دلانے کی بجائے چند روپوں کے عوض معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ بھلا ہو گاوں اور علاقہ والوں کا کہ انہوں نے چند سکوں کے عوض اپنے حق کی لڑائی سے دستبردار ہونا تسلیم نہیں کیا

ہندوستان کا مسئلہ صرف ےہی نہیں ہے۔غریبوں اور اقلیتی طبقہ کو بھی روز بروز پیچھے کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ مسلمانوں کی اقتصادی اور سماجی کمر توڑی جارہی ہے تو نئی اقتصادی پالیسی کے تحت صرف امیروں کو فائدہ پہنچاکر غریبوں کو مزید غریب بنانے کا سلسلہ جاری ہے

چین کی معاشرتی اور اقتصادی ترقی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ملک اس طرح کی بیماریوں سے تقریباً پاک ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چین میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور ہندوستان صرف غلط کاریوں کے دلدل مےں پھنسا ہوا ہے۔چین میں ترقی کی رفتار اگر ہندوستان سے بہتر ہے تو وہ کچھ ہی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔فی الحال وہاں کھانے والے کم اور کام کرنے والے زیادہ ہیں ۔ کچھ عرصہ کے بعدصورت حال بدلے گی۔ کھانے والے زیادہ ہوں گے جبکہ کام کرنے والوں کو دن میں  بھی چراغ کی مدد سے ڈھونڈنے کی نوبت آنے والی ہے

اس بات کا خطرہ صرف اس وجہ سے ہے کہ وہاں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے بہت سے فعال ہاتھ موجود ہیںجبکہ چند سالوں بعد صورت حال بالکل برعکس ہوگی۔ایک جوان کندھے پر کئی بڑے بوڑھوں کی پرورش کی ذمہ داری آن پڑے گی اور ایسا اس وقت ہوگا جب بچوں کے اپنے انہیں بیگانے نظرآنے لگیں گے کیونکہ چین ابھی تہذیب کے اس دوراہے پر ہے جہاں مغربی دنیا کی چمک دمک کا خوب خوب استقبال کیا جارہا ہے

چین ایک طرف کمیونسٹ نظریات کے حصار مےں محصور ہے تو دوسری جانب مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام مےں بھی اس کی دلچسپی کچھ کم نہیں ہے بلکہ سچ تو ےہی ہے کہ اس نے اقتصادی میدان مےں مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کو ہندوستان سے پہلے اور اس کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر اپنایا ہے۔سرمایہ کاروں کی جڑیں چین میں اب اتنی مضبوط ہوچکی ہیں کہ جب بھی کوئی سرمایہ کار اپنے سرمایہ کو باہری ملکوں میں  لگانے کے بارے میں  سوچتا ہے تو اس کی نظر انتخاب سب سے پہلے چین پر ہی پڑتی ہے

چین میں سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی بھی کمیونسٹ نظریات کے حامل اس ملک کی دو رخی پالیسی کے ساتھ ساتھ مغرب کے سرمایہ کاروں کی دوغلی پالیسی کی بھی قلعی کھول دیتی ہے۔کمیونسٹوں کے ساتھ سرمایہ داروں کے اس اشتراک سے ےہی بات واضح ہوتی ہے کہ امیری اور امارت کے حصول کے لیے انہیں جو راستہ بھی ملتا ہے وہ اسے اپنانے سے گریز نہیں کرتے۔چین کو سرمایہ کاراپنے سرمایہ کے لیے سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں

اس کا سبب اس کے مرکزی کمیونسٹ نظام کوقرار دیا جاتا ہے۔لیکن یہی نظام چین کے لیے آنے والے دنوں مےں سب سے بڑا خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے

سوویت یونین نے اپنے عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا۔ وہ امریکہ کے مقابلے میں ایک دوسرا سپر پاور تو تھا لیکن اس کی طاقت اور ترقی کا پوراسرچشمہ روس اور دیگر غیرمسلم خطوں تک ہی محدود رہا تھا۔ کمیونسٹ نظام کا حامی و علمبردار ہونے کے باوجود سوویت یونین کے حکمرانوں نے وسط ایشیا کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا تھا چین بھی اسی راستے پر گامزن ہے

اس کی شمال مشرقی ریاست مسلم اکثریتی ہے۔ان کی آبادی کروڑوں میں ہے۔چین میں مسلمانوں کی آمد دور نبوت میں  ہی شروع ہوگئی تھی۔ آج بھی حضرت سعد بن وقاص  کی قبر عام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حضرت سعد بن وقاص اسلام کی دعوت لے کر بطور سفیر چین پہنچے تھے

آج کے چین میں مسلمانوں اور مقامی لوگوں میں اتنا زیادہ اختلاط ہوا کہ دونوں کے درمیان رنگ و نسل اور تہذیب و ثقافت کا فرق مٹ گیا۔ اس کے باوجود چینی حکمراں آج بھی شنکیانگ کے مسلم باشندوں کے خلاف متعصبانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی حالت تبت کی ہے، بلکہ سچ تو یہ  ہے کہ تبت اور بھی برے حال میں  ہے۔ چین نے ایک ملک پر قبضہ کرکے اپنی فوجی قوت کی بدولت اسے اپنا زیرنگیں بنالیا۔ تبت کے باشندوں کی بے چینی اظہرمن الشمس ہے۔ چین کے صدر ہوجنتاو کی ہندوستان آمد سے قبل دنیا بھر میں تبتیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرکے یہ بتا دیا ہے کہ ان کی تحریک آزادی اب بھی جاری ہے

ان سب کے باوجود چین  اور ہندوستان ایک دوسرے کی ترقی میں  معاون و مددگار ہوسکتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازعات کا حل بھی غیرممکن نہیں ہے۔ ان کے داخلی مسائل کا بھی حل بہر حال ممکن ہے۔پڑوسی ہونے کی وجہ سے چین اور ہندوستان ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کے لیے وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جسے انجام دینےکے لیے دونوں ملکوں کے دورافتادہ دوست ممالک خواب تک نہیں دیکھ سکتے

ضرورت صرف نیک نیتی کی ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف معرکہ آرائی اور مقابلہ بازی کے بجائے اگر اپنے اپنے وسائل کو اپنی اور اپنے پڑوس کی مدد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں  تو وہ سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی ملک، خطہ یا آبادی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات