|
کسی انتباہ اور اشتعال کے
بغیر ایک حملے میں مارے گئے جس پر نہ صرف ہر امریکی بلکہ ہر اس عقیدے
اور قوم کا فرد کانپ اٹھا ہے جسے انسانی زندگی کی قدروقیمت کا احساس
ہے ۔‘‘انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’’ہمارے ساتھ جو غیرانسانی سلوک
کیا گیا ہم اس پر ناراض ہیں ، مگر جوابی کارروائی کرتے
ہوئے ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں اور منصفانہ رویہ اختیار کئے
ہوئے ہیں ‘‘(روزنامہ جنگ دسمبر 2001 ئ)
جب کہ ماہ اگست 2006 ء میں ’’ سالٹ لیک سٹی ‘‘میں ایک جلسے سے
خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’’ہماری جنگ آج فوجی
تصادم سے کہیں زیادہ ہے ،یہ 21ویں صدی کی فیصلہ کن نظریاتی جنگ
ہے
ہمارے موجودہ دشمن فسطائیوں ،
نازیوں اور کیمونسٹوں کے جانشین ہیں تاریخ بتائے گی کہ
ان کا حشر کیا ہوگا ،یہ جنگ مشکل اور طویل ہوگی اور دہشت گردوں کی
شکست پر ختم ہوگی ‘‘۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ 11 ستمبر 2001 ء امریکی تاریخ کا
ناقابل ِ فراموش موڑ ثابت ہوا ہے اوریہ دن امریکی پالیسیوں میں جوہری
تبدیلی کا اہم ترین سبب ہے ،جس طرح 1929ء میں امریکی
حصص مارکیٹ کے اچانک بیٹھجانے سے اور تقریباَ65 برس پہلے ’’پرل ہاربر
‘‘ پر جاپانی حملے سے (جس میں تقریباَ ڈھائی ہزار امریکی ہلاک ہوئے
تھے ) امریکی معشیت کو ناقابل تلافی نقصا ن پہنچا تھا بالکل اسی طرح
11 ستمبرکے سانحے نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو
ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے نہایت ہی نمایاں اورسب سے زیادہ
اثرات مسلم ممالک پر بھی مرتب ہوئے ہیں
ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں
میناروں کے انہدام کو امریکی صدر نے ’’اکیسویں صدی کی پہلی جنگ
‘‘کہا ہے ،110 منزلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر27 برس قبل ایکارب ڈالر کی لاگت
سے 16 ایکڑ اراضی پر قائم ہوا تھا ، ورلڈ ٹریڈ سنٹر ، نیویارک
کی شناخت بن چکا تھا ،اس میں تقریباَ ً پچاس ہزار افراد کام کرتے تھے
اس کاسالانہ کرایہ تین ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا تھا ،اسی طرح
واشنگٹن میں وزارت دفاع (پینٹاگون ) کی عمارت میں 24 ہزار افراد کام
کرتے تھے ،لیکن دونوں عمارتیں ایک گھنٹے کے دورانئے میں تین
ہائی جیک شدہ امریکی طیاروں کی زد میں آ گئیں
[’ 11’ ستمبر ، امریکی رد عمل ‘‘
11 ستمبرکے اس دردناک سانحے بعد امریکی انتظامیہ کا رد عمل
توقع کے عین مطابق تھا اور ڈاکٹر ہنری کسنجر نے مشورہ دیا کہ ’’اگر
دوسرے ممالک اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیں تو
امریکہ کو یہ اقدام تن تنہا ہی کرڈالنا چاہئے اور کسی اتفاق رائے کا
انتظار نہیں کرنا چاہئے ۔‘‘امریکی صحافی ’’رچ لوری‘‘ نے واشنگٹن پوسٹ
کی 13 ستمبر 2001 ء کی اشاعت میں شائع شدہ اپنے مضمون لکھا کہ
’’اگر ہم دمشق یا تہران یا جو کچھ بھی ہو ،اس کا ایک حصہ ملیا
میٹ کر دیں تو یہ بھی حل کا ایک جزو ہے ‘‘مذکورہ صحافی نے اپریل 2002
ء میں اپنے ایک مضمون میں یہ مشورہ دیا کہ
’’مسلمانوں کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ خانہ کعبہ پر اےٹم بم گرادیاجائے
‘‘
امریکی صدر بش نے مبینہ دہشت
گردی کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد کہا کہ ’’لوگ اکثر مجھ سے یہ پوچھتے
ہیں کہ یہ سلسلہ کتنا طویل ہوگا ؟ یہ محاذ جنگ اس وقت تک قائم
رہے گا جب تک القائدہ کو کیفر کردار تک نہیں پہنچادیاجاتا ،یہ
کل بھی ہوسکتا ہے اورہوسکتا ہے کہ اس میں آج سے ایک مہینہ بھی لگ
جائے اور ہوسکتا ہے کہ سال یا دو سال لگیں ، مگر غالب ہم ہی
ہوں گے ۔‘‘(روزنامہ جنگ دسمبر 2001 ئ)
واحد عالمی قوت کی معاشی اور فوجی طاقتوں کے مراکز پر حملوں کے
بعدپورے امریکہ پر ہیجانی کیفیت طاری تھی اور عرب دنیا و دیگر
مسلم ممالک پر حملوں کے خدشات خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے ، جب کہ
تمام ہی مسلم ممالک کی طرف سے اس حادثے پر مذمتی بیانات جاری ہو چکے
تھے اور دنیا بھر میں کام کرنے والی اسلامی تحاریک کے سو سے زائد
قائدین ،عالم اسلام کے علما ء اور مفکرین نے حادثے کے ایک
دن بعد ہی اس کارروائی کی مذمت کردی تھی اور مسلم امہ کا واضح اور
مثبت موقف امریکی حکام اور دنیا تک پہنچایا
[’’امریکی نظام جاسوسی و حصول اہم معلومات ‘‘
یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جرم کا ارتکا ب کرنے والے جو کوئی
بھی تھے لیکن امریکہ کے اپنے نظام حکومت سے وابستہ افراد
، دفاعی و جاسوسی کے نہایت منظم اور مربوط ادارے ،کیوں اس عظیم سازش
سے بے بہرہ رہے ؟جب کہ امریکہ کا جاسوسی کا نظام دنیا کا سب سے
بڑا اور خطیررقم کے بجٹ کا حامل ہے ،صرف سی آئی اے (CIA )کا سالانہ
بجٹ 30 ارب ڈالر (18 کھرب روپے ) ہے اور دنیا بھر میں CIA کے
ایک لاکھ سے زائد ہمہ وقتی کارکن مصروف ِ کار ہےں،ایفبی اآی (FBI
)داخلی سلامتی کا امریکی ادارہ ہے اور ایف بی آئی کا سالانہ بجٹ 3
ارب ڈالر ہے ،ایف بی آئی کے امریکہ بھر میں 55 سے زائد مراکز
اور 27 ہزار 8 سو ارکان ہیں ،ان دو اہم ترین اداروں کے
علاوہ ایک اور ادارہ NationaL Reconnaissance Office بھی ہے جو
جاسوسی سیارچوں (Spy Satellites )کی مدد سے ہمہ پہلو اور اور ہمہ
وقتی نگرانی کے فرائض انجام دیتا ہے ،اس ادارے کا سالانہ بجٹ 6 ارب
20 کروڑ ڈالر ہے
،ایک اور ادارہ ’’نیشنل سیکورٹی
اتھارٹی ‘‘ (NSA ) بھی ہمہ وقت مصروف کار رہتا ہے جس سے تقریباَ 21
ہزار افرادوابستہ ہیں اس ادارے میں دنیا کی ہر اہم زبان کے
ماہرین موجود ہیں ،ایک اور ادارہ ’’نیشنل امیجری اینڈ
میپنگ ایجنسی ‘‘ کے نام سے کام کررہا ہے ،جب کہ نو مزید ایجنسیاں
اپنے اپنے دائروں میں مسلسل اور مربوط انداز میں مصروف کار ہیں
جن میں سے ہر ایک کا بجٹ کم از کم ایک ارب ڈالر سالانہ ہوتا ہے
۔اس طرح بحثیت مجموعی امریکہ کے نظام جاسوسی و نگرانی پر
سالانہ 77 ارب ڈالر (46کھرب 20 ارب روپے )سے زائد کی رقم خرچ کی جاتی
ہے ۔( ہفت روزہ گارڈین،20 تا 26 ستمبر 2001ئ)
امریکی سرزمین ، امریکی عوام اور امریکی مفادات کے حق
میں کام کرنے والے دنیا کے عظیم ترین ، منظم ترین، نہایت
طاقت ور اور جدید ترین نظام ہائے جاسوسی و نگرانی کی موجودگی میں
کسی کو کوئی سن گن تک محسوس نہ ہوسکی جب کہ بقول امریکی ترجمان’’ اس
پوری کارروائی میں مبینہ طور پر 19 خود کش ہائی جیکر شامل
تھے،جنہوں نے دو مختلف ہوائی اڈوں سے کارروائی کا آغاز کیا‘‘۔اس
کارروائی کے بعد امریکی نظام جاسوسی اور دوسری اہم معلومات کے حصول
کے لئے کام کرنے والے اداروں اور افرادکے واضح احتساب کی کوئی مثال
اب تک سامنے نہیں آ سکی جن کی غفلت اور غیرذمہ داری کے باعث یہ سانحہ
وقوع پذیر ہوا۔
[’’ ملز م کون ؟ ‘‘
حادثے کے بعد ساری قوت ایک فرد کو مجرم ثابت کرنے پر صرف کردی گئی
اور ایک فرد اسامہ بن لادن جو دس سالہ خانہ بدوشی کی زندگی گذار رہا
تھا، مجرم قرار پایا ،جب کہ اسامہ بن لادن کے طریقہ کار کو مسلم دنیا
کے سوادِاعظم میں اب تک پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ،
’’اسامہ‘‘ کو ایک ایسے ملک نے پنا ہ دی تھی کہ جو نہ جدید ٹیکنالوجی
سے لیستھا اور نہ ہی دنیا میں اس کا کوئی دوست ۔حادثے کے صرف
آد ھے گھنٹے بعد ہی ’’ہنری کسنجر ‘‘ نے اسامہ بن لادن کا نام لیا ،جب
کہ 11 ستمبر کی تباہی جس مربوط ، منظم اور حیران کن حد تک ٹیکنا لوجی
کے استعمال سے کی گئی ہے وہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ کسی بیرونی
گروہ کا کام نہیں ہوسکتا ،اس پوری کارروائی کی کامیابی اسی وقت ممکن
تھی کہ جب امریکی نظام ِ دفاع ، جاسوسی و نگرانی کے رازداں اپنی
خدمات دہشت گرد گروہوں کو پےش کردیں ۔سوچنے کا ایک پہلو یہ
بھی ہے کہ آخر اس کار روائی کا فائدہ کن عناصر کو ہوسکتا ہے ؟
جب کہ مسلم امہ کو11 ستمبرکے دن
ہونے والی دہشت گردی کی ان کارروائیوں کا ذرہ برابر بھی فائدہ
محسوس ہوتا نظر نہیں آیااوریہ ایک حقیقت ہے کہ دونوں ٹاورز کا ملبہ
مسلم ممالک پر ہی گرا ہے،اس لئے یہ کارروائی کسی مسلم گروپ کی محسوس
نہےں ہوتی، بالفرض ہے بھی تو یہ ہر گز مسلم امہ کے ساتھ بھلائی نہیں
تھی،اس ساری صورت حال میں ایک معنی خیز پہلو یہ بھی ہے کہ ’’انٹر
نیشنل ہیرالڈ ٹربیون‘‘ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں جن 46 ممالک کے لوگوں
کی ہلاکت کی خبر دی ہے ،ان میں اسرائیل کا کوئی ایک شہری
یا یہودی شامل نہیں ہے ، جب کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں 4 ہزار سے
زائد یہودی کام کرتے تھے
’’مبینہ دہشت گردی کے اسباب اور زمینی حقائق ‘‘
یورپ میں ’’ناٹو ‘‘ کی افواج کے سابق کمانڈر جنرل کلارک نے BBC
کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ ’’اصل مسئلہ اسلام
کی ’’تعبیر‘‘ کا ہے اور طے یہ کرنا ہے کہ اسلام کی کون سی تعبیر درست
ہے ،یہکہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے ہا یہ کہ وہ ایسا مذہب ہے کہ
جو اپنے ماننے والوں کو تشد د ( یا جہاد ) پر اکساتا ہے ‘‘؟
9/11 کے بعدپیدا ہونے والے عالمی حالات نے از سرِ علاقائی و عالمی
حکمت ِ عملی کو ترتیب دینےکی اہمیت اجاگر کی ہے اور یہ ہر ملک و قو
م کے لئے سوچ و بچا ر کے نئے دریچے وا کرنے کا بھی سبب ہے ،آ ج کی
دنیا میں ’’دہشت گردی ‘‘ کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہونے لگا ہے
،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ’’دہشت گردی ‘‘کی تعریف وضح کی جائے اور
یہ عین ممکن ہے کہ’’دہشت گردی ‘‘ کی جو تعریف امرےکہ و مغربی ممالک کے
زیر استعمال ہے مسلم ممالک اور لاطینی امریکہ کے بعض ممالک اس سے
قطعی طور پر متفق نہ ہوں
خاص طور پر مسلم ممالک میں
9/11 کے بعد اختیار کی جانے والی امریکی پالیسی پر شدید رد عمل پایاجاتا ہے اس
سلسلے میں اگر ہم عالم اسلام کے ساتھ روا رکھے جانے والے امریکی سلوک
پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیئے تو صورت حال کو سمجھنے میں مد د مل سکتی
ہے۔
مسلم نوجوانوں میں امریکی و مغربی پالیسیوں کے خلاف سخت اور شدیدردعمل
میں اسرائیل کی بے جا سرپرستی کا بھی اہم کردار ہے ،سعودی عرب
کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ایک بار کہا تھا کہ ’’امریکہ جس
طرح اسرائیل کی حمایتکرتا ہے وہ کسی بھی معقول شخص کو دیوانہ بنانے
کے لئے کافی ہے ‘‘۔ مرکز اطلاعات فلسطین کی ایک تازہترین رپورٹ میں
بتایا گیا ہے کہ 28
ستمبر 2000 ء سے لے کر 30 جون 2006 ء تک صیہونیی افواج کے ہاتھوں 4[
44]464 فلسطینی ہلاک کئے جاچکے ہیں ،اس مدت میں 47[ 44]440
فلسطینی زخمی ہوئے ،ہلاک ہونے 826 افرادایسے تھے جن
کی عمریں 18 سال سے کم تھیں ،اس دوران 289 خواتین بھی ہلاک کی گئیں،جب
کہ 36 میڈیکل اسٹاف ،9میڈیا ورکرز اور اسپورٹس سے تعلق رکھنے والے
220افراد ہلاک کئے گئے
رپورٹ کے مطابق اس وقت 9800 فلسطینی ،اسرائیلی
فوج کی قید میں ہیں ،ان قیدیوں میں سے ایک ہزار مہلک بیماریوں میں
مبتلا ہیں ۔اسرائیلیافواج نے 1599 طلبہ کو جن کا تعلق اسکول اور
یونیورسٹی سے ہے حراست میں لے رکھا ہے ان میںسے 450 طلبہ کی
عمریں
18 سال سے کم ہیں جب کہ6طالبات بھی ان میں شامل ہےں ،اس مدت
میں 645
سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایاگیا ،7628 گھروں کو اسرائیلی افواج نے
مکمل طور پر مسمار کردیاجب کہ 71470 گھروں کو جزوی طور پر نقصان
پہنچایاگیا اس موقع پر 1982 ء کے سانحے کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے
کہ جس میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاؑ ایریل شیرون کی قیادت
میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں بیروت میں واقع ’’صابرہ و شتیلا ‘‘ کے مہاجر
کیمپوں میں 3000 سے زائد فلسطینی قتل کر دیئے گئے تھے ،ان
میں سےسینکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔جب کہ ماہ جولائی 2006 ءمیں غزہ
فلسطین پر اسرائیلی حملوں سے ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہے
۔
امریکہ اور یورپ نے جب پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر عراق کے خلاف
اقتصادی پابندیاں عائد کیں تودس سال میں تقریباَ ایک ملین عراقی جن
میں 5 لاکھ بچے بھی شامل تھے،محض دواوں اور غذائی قلت سے ہلاک ہوگئے
مگر اس کے بارے میں امرکہ کی سابق وزیر خارجہ
البرائٹ نے صرف اتنا کہا کہ It is acceptable and worth is...... ۔یہ
ایک زمینی حقیقت ہے کہ گذشتہ 20 سال کے دوران دنیا بھر میں 36 لاکھ سے زائد
مسلمانوں کو قتل کیا گیااور ان تما م کاروائیوں میں مغربی ممالک
،امریکہ ، اسرائیل ، بھارت ، روس اور سربیاکی افواج براہ راست ملوث
رہی ہیں ان تمام مواقع پر عالمی طاقت کی حثیت سے امریکہ کا جو کردار
ہونا چاہئے تھا وہ نظر نہ آسکا جب کہ امریکی شان بے نیازی مسلم
ممالک میں اشتعال پیدا کرنے کا سبب ثابت ہوئی اور مسلح جدوجہد کے
نظریئے کوتقویت حاصل ہوتی گئی ۔اس سلسلے میں مغربی میڈیا کے
پیش کردہ چند اہم اعدادشمار پر نگا ہ ڈال لی جائے تو کافی ہوگا
خلیج کی پہلی جنگ کے موقع پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بمباری سے
ایک ہفتے کے دوران 60 ہزار عراقی ہلاک ہوئے جب کہ جنگ کے اختتام پر
یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی
امریکی افواج ہی کے ترجمان کے مطابق حالیہ افغان جنگ کے دوران
ابتدائی چار سالوں میں 15 سے 20 ہزار طالبان کو ہلاک کیا گیا جب کہ
جب کہ عام شہری جو جنگ کی زدمیں آکر ہلاک ہوئے ان کی تعداد 75 تا 80
ہزار ہے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کی ہلاکت کی
تصدیق خود
بھارت کرتا ہے جب کہ غیر جانب دار اداروں کی طرف سے دیئے اعدادو
شمار یہ تعد اد ڈیڑھ لاکھ تک بتاتے ہیں ۔فلسطےن کی جدوجہد میں اب تک
تقریباَ 2 لاکھ سے زائد افراد کام میں آ چکے ہیں ،چیچنیا میں
بھی چیچین ذرائع کے مطابق اب تک 2 لاکھ سے زائد چیچین باشندے روسی افواج کی
فائرنگ اورگولہ باری کی نظر ہوچکے ہیں بوسنیا ہرزیگونا میں سرب
اور کرواشیائی باشندے و افواج ساڑھے تین سال تک مسلم عوام کا قتل
عام کرتے رہے اور اس دوران بوسنیا ہرزیگوناکے تقریباً3 لاکھ سے
زائد عام شہری اور فوجی مارے گئے ۔جب کہ اراکان برما ، تھائی لینڈ اورلبنان
میں ہونے والی ہلاکتیں اور بھارت میں ہونے والے مسلم کش
فسادات کے اعداد وشمار ان کے علاوہ ہیں
ان تمام مختصر اعداد شمار کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے
خطرے سے صرف مغربی ممالک اور امریکہ کو خدشات لاحق نہیں بلکہ
دنیا بھر کے مسلمان دہشت گردی سے ،پہلے ہی دوچار ہیں ۔دہشت گردی بلاشبہ
ایک سنگین جرم ہے لیکن اس کی آڑ میں زاد ممالک کی خود مختاری پر
حملہ بھی اس سے کم دہشت گردی قرارنہیں دیا جاسکتا ،محض شبہ کی
بنیاد
پر کئی ممالک پر حملے اور بعض ممالک کو واضح دھمکیاں بھی انسانیت کے
خلاف جرم کا درجہ رکھتی ہیں ۔مبینہ دہشت گردی کا خاتمہ نہایت ضروری
ہے لیکن اس کی وجوہات اور اسباب پر غور کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے
۔امریکہ اور مغربی اقوام کی، مبینہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیو
ں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن عالمی سطح پر ان پالیسیوں اور طریقہ کار
کے خلاف جو فضا تیزی کے ساتھ رونما ہوتی نظر آرہی ہے اور جو
نیا
نقشہ ابھر رہا ہے وہ اپنے دامن میں دنیا بھر کے لئے بھرپور خطرات لئے
ہوئے ہے ،اگر دہشت گردی کے خاتمے کی آڑ میں کی جانے والی ان کوششوں
کا بروقت ادراک نہ کیا گیا اور دنیابھر کی مفتوح ، غلام اورمظلوم
اقوام کے جذبات و احساسات کو اسی طرح نظر انداز کےا جاتا رہا تو یہ
صورت حال صرف مسلمان ممالک کے لئے تباہ کن نہ ہوگی بلکہ ان کے مضر
اثرات سے ترقی یافتہ ممالک بھی بڑے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں |