|
سیا ست اور معیشت کی ضروت نہ ہوتی
بلکہ صرف وکیل ہی دنیا کو جنت بنا دیتے
مائی مختاراں کے بعد اس کے مجرموں اور ان جیسے بھیڑیوں کو اپنے تحفظ
اور دفاع کی ضرورت تھی تاکہ آنئدہ انکی رسوائی نہ ہو۔اور ظلم کا شکار
عورتیں اپنے حق کے لیے میڈیا میں اپنی آواز بلند نہ کر سکیں، کیونکہ
پولیس تھانوں میں تو ان کی پہلے ہی چلتی ہے صرف پریس سے خوف تھااب اس
نئے حدود آرڈنیس سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا
اس قانون کی رو سے کوئی روپوٹر یا
پریس زنا کی خبر شائع نہ کر سکے گااور ایسا کرنے پر وہ سزا اور
جرمانے کا مستحق ہو گا۔اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کے یہ قانون کس
کو تحفظ دے گا
اوکاڑہ کی شازیہ جس کی عمر تیرہ برس تھی اس کو قانون نے کیا دیا۔آٹھ
ماہ میں ایک پرچہ بھی درج نہ ہو سکاجبکہ لاہور کے دو ایس پی کو بھی
یہ سب معلوم تھا
ساہیوال میں بدلے کے لیے بیٹی کو ایک گھنٹہ مین بازار میں برہنہ کر
کے بھگایا گیا
جائداد کسی دوسرے کے ھاتھ نہ جائے ہم لڑکیوں کی قرآن پاک سے شادی کر
دیتے ہیں
بدلے میں ہم دوسرے کی ماں، بہین یا بیٹی سے زیادتی کر تے ہیں
شریعت،قصاس دیت۔حدوداور زنا جانے اپنے ظلم کے جواز کہاں کہاں سے تلاش
کر تے ہیں
ویسے آج ہم دنیا کی ساتویں بڑی اٹیمی طاقت کے دعوے دار ہیں۔عزت
وناموس کی حفاظت کے رکھوالے ہیں
آج زنا بالجبر اور اجتماعی زیاتیاں کتنی عام اور سرے بازار ہیں جو ہر
حوالے سے غیر انسانی اور حیوانہ فعل ہے
ٰٰیہ کیوں ہے؟ اور کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ہمیں پہلے پاکستان کے
اندرانکی وجوہات اور بنیادوں کو جانے کی ضرورت اور انکے خاتمہ سے ہی
عورتوں پر ظلم کو روکا جا سکتا ہے
قاضی حسین احمد نے بھی بڑی لاپروائی اور آسانی سے اسے عشق معاشقے کا
نام دے کر بڑی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔اگر سنجیدگی سے غور کیا
جاے کیا تو آج پاکستانی عورتوں پر ظلم اور انکی غلامی اور دن رات بلا
معاوضہ کی لونڈی کے کردار کا تعین ان ہی مذہبی جماعتوں نے کیا ہے اور
یہ نہیں چاہتے کے عورت معاشرے میں ایک عام انسان کی طرح رتبہ حاصل
کرے اور ملک کی ترقی میں اپنا فعل کردار ادا کر کے عزت حاصل کرسکے
آج عورت کی آزادی اور حقوق کے لیے کوئی بھی سنجیدہ اور مخلص نہیں
ہے۔کیونکہ ہمیں سب سے پہلے معاشی اور سماجی تحفظ اور برابری دینا ہو
گی۔اور اسی بنیاد پر قانون سازی کرنا ہو گی۔جس کے لیے سب سے پہلے ہم
اس کا اقرار کریں اور اعتراف کریں کہ عورت بھی ایک انسان ہے اور اس
کو آج درپیش مسائل کے حل میں آگے بڑھیں
سرکاری سروے کے مطابق پاکستان میں سیون ٹی سیون فیصد عورتیں ناخواندہ
ہیں،چوبیس فیصد عورتیں پچاس فیصد مردوں کے مقابلے میں پڑھی لکھی
ہیں۔دیہات میں لڑکیاں صرف پرائمری تک سکول جا پاتی ہیں
ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ عورتیں زچگی کے دوران مر جاتی ہیں
کم سن بچیوں کے ساتھ گینگ ریپ کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گی ہے
سینکڑوں کالج جانے والی لڑکیاں کسی نہ حوالے سے جنسی زیادتی کا
شکار ہوتی ہے
سترسے نوے فیصد خواتین گھریلوں یا خاندانی تشدد کا شکار ہیں
تعلیم کی کمی اور غربت کی وجہ سے اکثر عورتیں لوگوں کے گھروں میں کام
کرنے پر مجبور ہیں جہاں یہ جنسی حوص کا نشانہ بنتی ہیں
زہنی دباو اور پراگندگی کی وجہ سے اکثر نوجوان لڑ کیاں معدے کے السر
اور ہسیڑیا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں
اکثر عورتیں بارہ سے چودہ گھٹنے کام کر کے مردوں کے مقابلے میں نہایت
قلیل اجرت پاتی ہیں
پاکستان میں باون فیصد خواتیں کی آبادی ہے جن کے لیے پارلیمنٹ میں صر
ف چھ سیٹں ہیں
پاکستان میں دیہاتی اور بھٹہ مزدور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں سب
سے زیادہ ہیں اور انکی کوئی رسائی بھی نہیں
پاکستاں میں آج تک جاگیر دار،مذہبی اور فوجی ٹولہ اپنی حکمرانی کے
لیے عورت کے حقوق اور آزادی صلب کرتا آیاہے۔اور صرف محنت کش اور غریب
خواتیں کا استحصال کرتا ہے۔انہوں نے اپنے گھروں اور گریبانوں میں
کبھی جھنکنے کی کوشیش نہیں کی۔اور یہ دوہرے معیار والے کسی کے لیے
کیا سوچیں گئے یہ صرف اپنی چودراہٹ،اور دوکانداری کے لیے ہی قانون
سازی کر سکتے ہیں۔اور کرتے آئے ہیں ، اور یہ نیا حدود کا آرڈنیس بھی
عورت کی محکومی اور ذلت کو کم نہ کر سکے گا
|