|
پسند تنظمیں کی کاروائیاں،سامراجی
جنگیں،آج کے عالمی منظر نامے کوبڑا خونی بنا رہی ہیں
موجودہ حالات میں آج انسانی تاریخ اپنے پر انتشار ترین دور سے گزررہی
ہے اور موجودہ عالمی نظام اس تباہی اورخون ریزی کے پیش منظر کو اور
زیادہ گھناونا ،اذیت ناک بنا رہا ہے
آج کے زیادہ تر لکھاری اور دانشوران حالات کو تہذیبوں کا تصادم قرار
دے رہے ہیں۔مسلم اور غیر مسلم کی لڑائی بنا رہے ہیں۔جس کے لیے وہ
عراق اور افغانستان پر امریکہ کے حملے اوراسرائیل کی لبنان کے خلاف
جنگ،ایران،شام اور پاکستان کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کو جواز کے طور
پر پیش کرتے ہیں کہ آج غیرمسلم ، مسلمانوں کو طاقت سے ختم کرنا چاہتے
ہیں۔جس وجہ سے آج کئی اسلامی انتہا پسندتنظیمں ردعمل میں سرگرم ہوگی
ہیں
میں سمجھتا ہوں کے کے صرف یہ بیان اور پروپیگنڈہ آج کے عالمی تناظر
اور دنیا کو درپیش مسائل کا نامکمل نقشہ ہے اورکسی حد تک حقیقت کی
پردہ پوشی ہے۔جبکہ ہمیں آج کے عالمی معاشی،سماجی۔سیاسی ٹھوس حالات کی
جانچ کر کے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کے ہوا کے دوش پر باتیں کرنے
کی
کیونکہ آج کا یہ تمام شور زادہ پروپیگنڈہ سامراج اور انکے ایجنٹوں کا
پھیلایا ہوا ہے۔جو آج کے اصل اور حقیقی مسائل کو چھپا کر اس تعصبی
لڑائی میں اپنا مالیاتی استحصال جاری رکھنا چاہتے ہیں
اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کے ہر لڑائی کے پیچھے ایک بھوک ہوتی
ہے۔اور یہ آج کا رجعتی تصادم بھی ایک عالمی بڑھتی بھوک میں طبقاتی
تحریک کی عدم موجودگی سے بڑھاہے۔جو عالمی مالیاتی نظام میں بحران در
بحران سے دنیا کا ترقی نہ کرنا،طبقات میں وسیع خلیج اور حکمرانوں کے
اپنے شدید ترین تضادات کا واضح اظہار ہے
ٓٓسرمایہ داری کے فرانس میں سترہ سو انانوے کے آخری معرکہ کے بعد
منڈی کی معشیت نے یورپی معاشروں کو ترقی کی نئی اور جدید منازل سے ھم
کنار کیا۔اور یہ سرمایہ داری کا انقلاب کلیسااور پوپ کی حکمرانی کی
تباہی اور خاتمہ کے بعد ہی تعمیر اور مکمل ہوسکا تھا۔جس نے انیس سو
اڑتالیس سے انیس سو تیہتر کے دوران آج تک انسانی تاریخ میں عظیم ترین
ترقی کی۔اور انیس سو تیہتر ،چوہتیر کے تیل کے بحران کے بعد سماجی
ارتقاء میں اس کا وقت بھی ماضی کے نظاموں کی طرح پورا ہو گیا
وقت نئے نظریے اور انقلاب کا تقاضہ
کرنے لگا۔سرمایہ داری نے جب عالمی منڈی کے پھیلاو میں اپنی تمام تر
ترقی کے بعد تاریخ میں رجعت پرستی اور پسماندگی کے کردار کی حامل ہو
گئی۔معاشرتی ترقی دینےکی اہلیت اور صلاحیت کے خاتمے نے ماضی کے گھڑے
مردے دوبارہ زندہ کردیئے۔یہی وہ ٹھوس مادی حالات تھے کہ جس بنیاد
پرستی کو سرمایہ داری اپنی جوانی کے دور میں ختم کر چکی ہے آج اپنے
اپاہیج پن کی وجہ سے اسے ہی پھر اپنی زندگی کے لیے بیساکھیاں بنا لیا
ہے
سرد جنگ کے دوران تمام دنیا میں تمام بنیاد پرستی اوررجعت پرستی کی
تعمیروترقی کس نے کی؟صدام کو قوم کا باپ کس نے کہا؟امریکہ نے ۔اور
ایرانی انقلاب کا قائد کہاں سے آیا تھا؟فرانس سے
ؑسرمایہ داری خود پسماندہ ہونے کی وجہ سے آج بنیاد پرستی کا اٹوٹ حصہ
بن چکی ہے۔اور یہ دونوں الگ کوئی چیز نہیں رہے
فرسودہ اور رجعتی نظریات،اورتنظیمں نظام جدید معاشرہ میں عمل پذیز نہ
ہوسکنے کی وجہ سے یہ ہمیشہ جبرکی بنیاد پر عوامی تحریک کے ٹھہراو اور
عدم استحکام کے دور میں ہی قائم رہ سکتا ہے۔اس وجہ سے آج دونوں کو
جنگ یا جنگی کیفیت اور عدم استحکام کی ضرورت ہے
مذہبی اشتعال انگیزی کی سرپرستی جیسے پوپ کا بیان یا کارٹون کو
ریاستوں کی مکمل حمائت حاصل ہے
ان تمام بنیاد پرستوں اور سامراجیوں کے اپنے وجود اور بقا کے تمام
جواز اور دلائل ختم ہو چکے ہیںی صرف ایک دوسرے کو استعمال کر کے ہی
فروہی اور عارضی طور پر زندہ ہیں اور عالمی عوام کا استحصال کررہے
ہیں
فاشزم کا لفظ جنونیت کو خونی کر رہا ہے۔اور شائد یہ چاہتا بھی یہی ہے کیونکہ
یہی آج کے نظام کی زندگی کی واحد ضمانت رہ گی ہے
روس کے خاتمہ کے بعد جو دنیا میں عدم توازن پیدا ہوگیا تھا یہ اسی کا
نتیجہ ہے۔
لیکن فطرت کبھی لمبا عرصہ غیر متوازن نہیں رہ سکتی وہ اسی تخریب میں
اپنی تعمیر کر ے گئی جو شائد وینوزویلا سے شروع ہو چکی ہے
تہذیب انسانی بقا کی حاصلات کا نام ہے۔جو بنیادی ضرویات زندگی کو
پورا کرنے والے زرایع پیداوار کے با ہمی تعلقات کی نوعیت کا اظہار ہے
مسلمان آج امریکہ کی بھیانک یلغار کا صرف سائنس اور ٹیکنولوجی اور
اپنے طبقاتی شعورکو عالمی بناکر ہی کر سکتے ہیں اور ویسے بھی آج صرف
چندافراداور تنظیموں کی انتہا پسندی کو تمام مسلمانوں کے سر نہیں
تھوپا جا سکتا۔جو آج اپنی دوکانداری کے لیے مذہب کو سیاست کا رنگ دے
رہے ہیں
امریکہ اور سامراج آج صرف تہذیبوں کے تصادم کا ہی نہیں بلکہ ہر تصادم
جو غیر انسانی اور خونی ہے اس کا ذمہ دار اور سرپرست ہے۔جبکہ میڈیا
کے پروپیگنڈے میں آج صرف جھوٹ اور منافقت ہے
لبنان اسرائیل کی جنگ میں حزب اللہ کی عوامی حمائت جو جنگ سے پہلے
تائس فیصد تھی جنگ کے دوران بیاسی فیصد ہو گی۔القاعدہ جو پہلے صرف
افغانستان میں تھی اب پوری دنیا میں ہے۔حماس آج نہ صرف اقتدار میں ہے
بلکہ اسکی سپورٹ بڑھ رہی ہے
تاریخ اور وقت آج ٹھہرا سا محسوس ہوتا ہے۔اس میں ایک خلا آ گیا ہے۔
کیا انسانیت آج ایک انقلاب کے دھانے پر اور اس کے انتظار میں ہے؟جو
انسان کا مقدر بدل دے گی؟اور انسان اپنے تسخیر کائنات کے مقصد کی طرف
بڑھے گا
لازم ہے ہم بھی دیکھیں گئے وہ دن۔
|