|
بغاوت سے پیدا ہونے والی ناامیدی کے
درمیان چراغ امید روشن کیا
بلاشبہ مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ کے
حوالے سے سرسید ہمیشہ یادکئے جاتے رہیںگے لیکن سرسید کی روح آج اپنے
شیدائیوں کے ذریعہ ہر سال یوم پیدائش کے موقع پر انہیں اس طرح یاد
کرنے سے خوش نہیں ہے بلکہ عالم اضطراب میں ہے۔سرسید کی روح عالم
ارواح سے دنیا والوں کے ان تماشوں کو دیکھ کر کڑھن محسوس کر رہی ہے
تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے سرسید کو رول ماڈل تصور کرتے ہوئے
اپنے قوم کی بدحالی دور کرنے کے حوالے سے کوئی ایسی کوشش نہیں کی جس
سے ہمارے درمیان کوئی سرسید ثانی پیدا ہو
سرسید اور ان کی اس تحریک کو ہر سال
یاد کرلینا کیا قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے کافی ہے،یا پھر ہر برس ان
کی قبر پرمیلے لگا نا قوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ضروری ہے؟یہ اور اس
طرح کے دیگر سوالات لئے سرسید کی روح اپنے شیدائیوں سے اگر جواب کی
طالب بنی ہے تو اس میں بے جا کیا ہے۔یوں بھی ہم ہندوستانیوں کا ضمیر
اور خمیر اس نقطہ نگاہ سے انتہائی مردہ صفت واقع ہوا ہے کہ ہم مُردوں
کی توصیف میں تو رطب اللسان ہو جاتے ہیں لیکن زندہ انسان اپنی خدمات
عالیہ میں دوسروں کا دست تعاون مانگتے ہوئے بے موت مرجاتا ہے مگر اسے
مدد دینا ہمیں گوارا نہیں ہوتا
بانی علی گڑھ سرسید کے ساتھ بھی
تقریباًیہی المیہ رونما ہواتھا۔تاریخ شاہد ہے کہ اس مجدد وقت کوکس کس
طرح سے اذیتیں دی گئیں،کیسے کیسے فقرے کسے گئے،اور کن کن الزامات سے
اسے دوچار ہونا پڑا ، مگر اس مرد آہن کے آہنی عزم کو داد دیجئے کہ
غداری کے الزامات کا طوق بھی گلے لگانے سے گریز نہیںکیا اورچراغ علم
کو مسلسل روشن کرنازندگی کا نصب العین بنایا۔ آج سرسید کی روح اگر
ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان سرسید ثانی کی تلاش میں روگرداں ہے تو
اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ سرسید ثانی دور دور
تک دکھائی نہیں دے رہا ہے
حالانکہ آج سرسید کی فکر کو عام
کرنے والے افراد کی کمی نہیں ہے ، کمی ہے تو مضبوط قوت ارادی کی اور
عزم مصمم کا جس کی عدم فراہمی کی وجہ سے آج ملت اسلامیہ کوابتلا سے
دو چارہونا پڑرہا ہے
اللہ معاف کرے ان علمائے کرام کو
جنہوں نے سرسید علیہ الرحمہ پر کفرکا فتویٰ صادر کرنے میں نہ صرف یہ
کہ عجلت سے کام لیا بلکہ اس عظیم المرتبت شخصیت کو داغ دار کرتے ہوئے
قوم مسلمین کے درمیان سرسید کے حوالے سے بدگمانی کو راہ دینے میں
کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی۔ یہ موقع نہ تو سرسید کی توصیف میں قصیدے
پڑھنے کا ہے اور نہ ہی ان کی کج کلاہی کو سامنے لانے کا۔ سچ یہ ہے کہ
سرسیدکے آہنی عزم سے حوصلہ پاتے ہوئے عزم جاودانی پیداکرنا ہم سبھوں
کا نصب العین ہونا چاہئے تاکہ قوم کو ترقی کے اعلیٰ مواقع فراہم
کرائے جاسکیں، مگریہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ فکری سطح پرسرسید
کی بصیرت وبصارت کوبروئے کارنہ لایا جائے
کہنے کا ماحصل یہ ہے کہ ذاتی
اغراض و مقاصد جب تک قومی مفادات پرحاوی بنے رہیں گے اس وقت تک قوم
کی تقدیر کو بدلنے کا خواب بھی دیکھنا بے معنی ہی ہوگا۔سرسید کی روح
کا شکوہ درحقیقت یہی ہے جو وہ ان دنوں اپنے شیدائیوں کی کریہہ صورت
کو دیکھتے ہوئے کررہی ہے۔ قحط الرجال کے اس دور میں سرسید ثانی وہی
ہوسکتاہے جو سرسید کی طرح زمانے کے طعن و تشنیع سے بے پروا ہوکر قوم
وملت کی حقیقی تصویربدلنے کا قصد کرے |