|
لیکن جلد ہی اس تنظیم نے پر پرزے
نکالنے شروع کردےے اور اس کی سرگرمیوں میںفدویانہ شکوے شکایات کے
بجائے سیاست کا رنگ غالب ہونا شروع ہوگیا جو اس کے تاسیسی اغراض و
مقاصد کے منافی تھی۔ ایک بے ضرر اور گشتی سمپوزیم کے طور پر جس کا
سالانہ اجلاس باری باری سے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں منعقد کیا
جاتا تھا، کانگریس کے قیام کا کریڈٹ ایلن اوکٹاوین ہیوم نام کے ایک
انگریز سول سرونٹ کو دیا جاتا ہے
لیکن واقعہ ےہ ہے کہ ہیوم کو ایسی
کسی تنظیم کے قیام کی ضرورت کا خیال بر صغیر میں مسلم نشاۃ ثانیہ کے
محرک سر سید احمد خاں کی تصنیف ’’ رسالہ اسباب بغاوت ہند‘‘ کا
انگریزی ترجمہ پڑھنے کے بعد آیا تھا۔ بایں ہمہ سر سید اور ہیوم کے
باہمی تعلقات بعد میں اتنے کشیدہ رہے کہ وہ سرکاری اور نیم سرکاری
تقریبات میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے تک کے روادار نہیں تھے۔
در اصل سر سید کی نگاہ دور بین دیکھ رہی تھی کہ کانگریس اپنی روح کے
اعتبار سے آج اینگلو ہندو الائنس کی نمائندہ تنظیم ہے جسے1857 کی
ناکام تحریک آزادی کے بعد مغلیہ سلطنت کے کھنڈرات پر ملک کو جلد یا
بدیر ایک متبادل حکومتی ڈھانچہ دینے کی غرض سے کھڑا کیا گیا ہے
چنانچہ اس پر جلد یا بدیر فرقہ پرور
ا حیا پسند ہندو طاقتوں کا غالب آنا ایک لازمی امر تھا۔ سر سید بوجوہ
ان طاقتوں پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور انہیں مسلمانوں
کو تعلیمی طور سے ہندو اکثریت کے برابر لانے کے لئے ایک جدا گانہ
پلیٹ فارم قائم کرنے کی ضرورت بھی اسی لئے پیش آئی تھی۔ یہی وجہ ہے
کہ وہ تمام عمر مسلمانوں کے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے سختی
کے ساتھ مخالف رہے چنانچہ ان کے اس موقف کے بر خلاف جو بھی مسلمان
کانگریس میں گیا سر سید اس کو ہندو سر کس میں اچھل اچھل کر تالیاں
پیٹنے والا عاقبت نا اندیش تماش بین گردانتے تھے
سر سید نے یہی بات کانگریس کے پہلے
مسلمان صدر بدر الدین طیب جی کے نام اپنے ایک خط میں بھی تحریر کی
تھی۔ کانگریس کے قیام کو آج120 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے اور
کون کہہ سکتا ہے کہ اس تنظیم کے بارے میں مسلم ہندوستان کے اس بطل
جلیل کی یہ رائے غلط تھی۔ نفسیات کی زبان میں کانگریس روز اول سے ہی
ایک دوہری شخصیت[L: 40]split personality[L: 41] کی حامل تنظیم رہی
ہے۔ چنانچہ ہم تاریخ کے مختلف ادوار میں یہاں کرشن گوپال کو کھلے کے
مقابل بال گنگا دھر تلک، موہن داس کرم چند گاندھی کے مقابل سردار
بلبھ بھائی پٹیل اور جواہر لال نہرو کے مقابل پر شوتم داس ٹنڈن کو
کھڑا پاتے ہیں
تاہم مسلمان اپنی موجودہ سیاسی اور
اقتصادی زبوں حالی کے لئے جو بڑی حد تک کانگریس کی سیاست کاریوں کی
دین ہے، تلک، پٹیل یا ٹنڈن جےسے کانگریسیوں کو کم ہی ذمہ دار ٹھہراتے
ہیں اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس طبقہ نے اپنے سرتاپا احیا پرستانہ
ہندو ایجنڈے کے بارے میں بر صغیر کے مسلمانوں کو کبھی اندھےرے میں
نہیں رکھا
لہٰذا مسلمانوں کا اصل شکوہ کانگریس
کے ان بلند قامت قائدین سے ہے جو اپنے سیکولر دعاوی کے باوجود بر
صغیر کی حالیہ تاریخ کے بڑے فیصلہ کن موقعوں پر اپنے اپنے انداز میں
اسی احیا پرستانہ ہندو ایجنڈہ کی پاسداری کرتے دکھائی دےے۔ تقسیم ہند
کا بڑا سبب بھی کانگریس کی سیکولر قیادت کے قول و فعل کا یہی تضاد
تھا اور یہی قیادت آزاد ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور فتنہ
پروری کی سیاست کی بھی بانی مبانی ہے۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے
تو کانگریس کے حق میں سرسید کی پیش گوئی حرفاً حرفاً درست ثابت
ہوئی۔وہ 1947سے پہلے ہی کانگریس کے اس لا مذہبی تھیئٹر میں کود کود
کر بلا مقصد ٹوپیاں اچھالنے اور سیٹیاں بجانے والے ایکسڑا اداکاروں
کا ایک ٹولہ معلوم ہونے لگے تھے
ان میں سب سے زیادہ قابل رحم حالت
سات سال تک کانگریس کے ’’راشٹر پتی‘‘ بننے والے مولانا آزاد کی تھی۔
نظریہ ضرورت کے تحت دو قومی نظریہ کی منظوری کے بعد گاندھی جی نے صاف
صاف کہہ دیا تھا کہ وہ انہیں اعتماد میں لیئے بغیر قیام پاکستان کی
مخالفت میں کوئی بیان نہ دیں۔ علاوہ ازیں کانگریس کے صدر کے طور پر
بھی ان پر وائسرے سے تنہا ملنے پر عملاً ہمیشہ پابندی عائد رہی۔
آزادی کے بعد انہیں بادل نخواستہ ملک کا وزیر تعلیم بنایا گیا
پٹیل ہندوستان کے نائب وزیر اعظم بن
گئے اور ان کے انتقال کے بعد یہ عہدہ مولانا آزاد کو تفویض کیئےجانے
کے بجائے ختم کردیا گیا بلکہ ایک موقع پر پنڈت نہرو کی ملک سے عدم
موجودگی کے دوران جب مولانا نے اپنے لیئے قائم مقام وزیر اعظم کا
پروٹو کول برتنا چاہا تو ان سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ نہرو
کا بینہ میں ان کی حیثیت محض نمبر دو کی ہے لہٰذا وہ اپنے آپ کو قائم
مقام وزیر اعظم سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ علاوہ ازیں سردار پٹیل آزادی
کے بعد ےہ بات کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے کہ اگر مولانا آزاد
پاکستان چلے جائیں تو انہیں بے حد خوشی ہوگی
انہیں دنوں دار العلوم دیو بند کی
خانہ تلاشی کا واقعہ بھی پیش آیا جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کانگریس
آزاد ہندوستان کی حکمران پارٹی کے طورپر علمائے کرام اور جدو جہد
آزادی میں ان کی خدمات کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔ با الفاظ دیگر
ہندوستان میں مدارس اور انہیں چلانے والے علما کے ساتھ ملک کی خفیہ
ایجنسیاں اس وقت جو سلوک کررہی ہیں اس کا سلسلہ ساٹھ سال قبل کانگریس
کے اولین دور حکومت میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ آج اس میں صرف شدت آئی ہے
بظاہر یہ سب کچھ آر ایس ایس کا
لائحہ عمل معلوم ہوتا ہے لیکن اردو زبان کا قتل عام ہو یا نظام تعلیم
کی زعفران کاری، مسلمانوں کی ’’انڈینائزیشن‘‘ کا ہو یا مدارس اور
مسلم پرسنللا کو اپنے فکر و فلسفہ کے مطابق ڈھالنے کا، کانگریس نے
اپنے دور حکومت میں یہ تمام کام اتنی حکمت کے ساتھ انجام دیئے ہیں کہ
بسا اوقات آر ایس ایس کی قیادت بھی عش عش کر اٹھی ہے۔ اس خاموش آہنگی
پر تعجب ہوتا ہے لیکن ےہ ان کی سادہ لوحی ہے۔ تقسیم ملک کے لئے مجرم
ضمیری میں مبتلا مسلمان در اصل کسی بھی مرحلہ پر کانگریس کے بے لاگ
مشاہد نہیں رہے ورنہ ان کی نظروں سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں رہ سکتی
تھی کہ کانگریس نے گاندھیائی سیاست کے نقطہ عروج پر اس بات کا فیصلہ
کرلیا تھا کہ آر ایس ایس کے کارکن بیک وقت کانگریس کی رکنیت بھی لے
سکتے ہیں
آر ایس ایس کے بارے میں کانگریس کے اس فیصلہ کو اگر چہ آج ریکارڈ سے
حذف کردیا گیا ہے لیکن اس فیصلہ کے کالعدم قرار دیئے جانے کی وجہ کسی
حقیقی نظریاتی اختلاف کے بجائے ان دونوں تنظیموں کی قیادت کی ذاتی
رنجشیں تھیں۔ مگر کانگریس کی صفوں میں وسنت ساٹھے اور نرسمہا راو کے
مزاج کے بے شمار لوگوں کی موجودگی اس حقیقت کو اجاگر کرنے کے لئے
کافی ہے کہ اس تنظیم میں آر ایس ایس کا ماضی رکھنے والے افراد کے
داخلہ پر حقیقی معنوں میں کبھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی
آج کانگریس کی روح رواں مسز سونیا
گاندھی ضرور ایک رومن کیتھولک ہوسکتی ہیں اور ملک کا وزیر اعظم
منموہن سنگھ نام کا ایک ماہر معاشیات ،صدر جمہوریہ کے عہدہ پر پہلے
سے ہی مسلم فرقہ سے تعلق رکھنے والے عبد الکلام فائز چلے آرہے تھے
لیکن ممبئی اور مالیگاوں کے حالات شاہد ہیں کہ کانگریس آٹھ سال کی
سیاسی جلا وطنی کے بعد ایوان اقتدار میں اپنی اسی آر ایس ایس بٹالین
کے ساتھ لوٹی ہے اور ماضی قریب کے حالات اور واقعات سے کوئی سبق
سیکھنے کی مطلق کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ سافٹ ہندوتوا کے اس
ناقابل تبدل ضابطہ عمل کی موجودگی میں کون کہہ سکتا ہے کہ کانگریس
سنگھ پریوار کا ان دیکھا invisible[L: 41])رکن نہیں ہے۔ |