Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 11 October 2006 17:55 (PST)اشاعت

حکومت کا غیر ذمہ دارانہ بیان

معظم کاظمی
اردوسروس ڈاٹ نیٹ جرمنی

صدر مشرف کا کہنا ہے کہ میں جو بھی فیصلہ کرتا ہوں میرے نزدیک پاکستان کی بھلائی ہوتی ہے

پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان کہ ، پاکستان سے دہشت گردوں کو پکڑکر امریکہ کے حوالے کرنے سے جو کروڑرں ڈالرز کی رقم وصول کی گئی ہے وہ انفرادی طور پر ملی ہے اور حکومت کا اس رقم سے کوئی تعلق نہیں ہے،

یہ بڑا ہی غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔کیونکہ اس سے نہ صرف حکومت کی نااہلی بلکہ ملکی اداروں اور افسران کی خود سری اور بداعنوانی ظاہر ہوتی ہے


مثلا فیصل آباد سے گرفتار ہونے والے عماد پر دس ملین ڈالر کا انعام تھااور اس طرح ہر دہشت گرد پر بھاری ڈالر انعام ملے۔وہ کہاں گئے؟
کیونکہ ایک اندازے کے مطابق 500 سے600 افراد کو پاکستان سے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ان میں بے شمار بلکہ زیادہ بے گناہ اور معصوم شہری تھے ۔جو اب واپس ؤ رہے ہیں ۔جنہں پاکستانی فوج اور دیگر اداروں نے ڈالر زکے لالچ میں ان کو دہشت کہہ کر ،سی آئی اے، کے حوالے کیا
حکومت کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کے امریکہ سے ملنے والے ملین ڈالرز کا حکومت پاکستان کو کوئی علم نہیں اور یہ فوجی افسرشاہی نے ہڑپ کر لیے
کیا پاکستانی فوج پر صدر کا کوئی اختیار نہیں کیا پاکستانی فوج اور دیگر ادارے ایسے خود مختیار ہیں کہ  حکومت کو بتائے بغیر اپنی مرضی سے جو چاہے کریں  جبکہ کہنے کو آج ایک منتخب قومی اسمبلی ہے اس کا کیا کام ہے ؟ کیو نکہ فوج پارلیمٹ کے کنٹرول میں ہوتی ہے
2۔کیا پاکستانی فوج عوام کی کم اور امریکہ کی زیادہ ہے؟ جو وہ ذاتی طور پر آزادانہ امریکہ کے لیے کام کرتی ہے
3 صدر پرویز مشرف کو حکومت کرنے کا اختیار بھی شائد اسی طریقہ کار کے تحت ہے حالانکہ وہ منتخب صدر نہیں؟ کیا یہ وہی اختیار تو نہیں ہے جو ایوب خان، ضیاالحق،اور اب صدر مشرف نے استعمال کیا؟کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے صرف اپنی شہرت اور دولت کے لیے پاکستان کے قوانین کو دنیا میں رسوا کیا
ایسی ہی تصویر دنیا میں پاکستانی فوج کے بارے سامنے آتی ہے جیسا کہ  عائشہ صدیقہ نے جوالائی کے ماہنامہ نیوزلائن میں لکھا
،پاک فوج آج پاکستان کی بارہ ملین ایکڑاراضی کی مالک ہے،جو پاکستان کی کل زمین کا 12فیصدبنتا ہے۔جس کی مالیت700 ارب روپے بنتی ہے۔یہ تمام زمین جرنلوں کو انعام میں ملی ہے
اور اس طرح پاک فوج کا ایک جرنیل شہری اور زراعی زمین کے حوالے سے 150 سے400 ملین روپے کا ہے
جنرل مشرف کا کراچی میں12000سکوائریارڈرقبے کا پلاٹ ہے۔مورگاہ راولپنڈی میں 1200 مربع گز کا پلاٹ ہے۔جبکہ ایک پلاٹ پشاور میں 900 گز کا ہے۔بہاولپور میں انکے2مربعے ہیں۔ایسڑج میں600 مربع گز کا پلاٹ اور گوادر میں 1200 مربع گز کا پلاٹ ہے
انکے علاوہ جنرل شمیم عالم کو 1994میں 1066مربع گزکا پلاٹ ایف سیون اسلام آباد میں الاٹ ہوا
جنرل کڑ کا کو1200مربع گز کا پلاٹ سیکڑ4۔6 ۔جی میں ،سابق سربراہ پاک فضائیہ فاروق فیروز کو 1033 گز کا پلاٹ12۔7۔ایف میں،سربراہ پاک بحریہ سعید محمد خان اور سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد سیعد وغیرہ کو بھی اسلام آباد میں بڑے بڑے پلاٹ الاٹ ہوے
کیا اس کا بھی حکومت کو کوئی علم نہیں ہے؟
حکومت کو اور آج تک کی تمام حکومتوں کو یہ سب معلوم ہے اگر معلوم نہیں ہے تو وہ عوام کو معلوم نہیں ہے
 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات