Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 12 October 2006 13:41 (PST)اشاعت

داخلی دہشتگردی سے چشم پوشی

محمد شرافت علی
اردوسروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

بھارتی پولیس پر الزام ہے کہ وہ ایک خاص طبقے کو پریشان کرتی ہے

دہشت گردی کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دینے والی ہماری حکومت خارجی عوامل پر سنجیدہ نگاہ رکھے ہوئے ہے، اس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں لیکن داخلی سطح پراس لعنت سے ملک میں انتشار وخلفشار کی جو صورت حال پیدا ہوکر رہ گئی ہے،

اس پر توجہ دینے کے بجائے انحراف کی کوشش عام ہندوستانیوںکے فہم سے بالا تر ہے۔ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ دہشت گردی کو عالمی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ ان کا ہربیرونی دورہ اسی موضوع کو گرما گرم بحث کا موضوع بناتارہاہے

ابھی کل کی بات ہے جب وہ ناوابستہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوانا جانے والے تھے تو روانگی سے عین قبل بھی انہوںنے اسی طرح اس لعنت کا شوروغوغا بلند کیا،جس طرح اب انہوں نے انگلینڈ اورفن لینڈکے دورہ سے قبل اس موضوع کو اپنی فکر کا محور بنایا ۔ گویا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہندوستانی ارباب اقتدار کے اعصاب پر اس وقت دہشت گردی پوری طرح سوار ہے اورہرایک معاملہ کواسی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ایماندارانہ طرےقے سے ہرگزہرگز نہیں


ممبئی دھماکوںکے بعد مسلسل بدنامیوں کا طوق گلے لگانے والی حکومت دہشت گردی کا منبع پاکستان کو قرار دینے کے لیے تو بے حد بیقرار ہے لیکن دوسری جانب ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ان عوامل کولگام دینے کے معاملے میں ہماری حکومت انتہائی کاہلی کا ثبوت دے رہی ہے جو ہندوستان کی سلامتی ، امن، بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کو تار تار کرنے کی کوششوں میں مستقل مصروف عمل ہےں۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ عالمی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمگیر تقاضوںکو نبھانا ارباب وقت کے لیے ناگزیرہے لیکن یہ بات بہرحال فہم سے بالاتر ہے کہ داخلی سطح پرجاری دہشت گردی کو لگام دینے کے لیے عالمی قوتیں کیا کریں گی؟

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہندو احیا پسند تنظیمیں کس طرح ملک بھرمیں نفرت کی کھیتی کررہی ہیں۔کبھی مالیگائوں میںنقص امن برپا کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو کبھی منگلور میں امام مسجد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ کبھی ’مولانا ملائم‘ کی ریاست میں فرقہ پرست قوتیں دہشت گردی کا ننگا ناچ کرتی ہیں تو کبھی مہاراشٹر کی ’سیکولر نواز‘ حکومت کی ایما پر مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کے لیے طوفان بدتمیزی کا ماحول برپا کیا جاتا ہے۔ لیکن ستم گروں کو یہ داخلی دہشت گردی پتہ نہیں کیوںدکھائی ہی نہیں دیتی یا قصداً اسے نظر اندازکردیاجاتا ہے

سوال یہ ہے کہ خارجی عوامل کو نشانہ بنانے والی موجودہ حکومت اپنے سیکولر مکھوٹے کو بچاتے ہوئے کب تک’ ناگپوری تشدد ‘ کوجائز ٹھہراتی رہے گی؟مہاراشٹر سے لے کر کرناٹک تک اور خود دارالحکومت دہلی سے لے کریوپی اور اترانچل تک نفرت کی آبیاری جس طریقے سے کی جارہی ہے اسے تماش بین کی طرح دیکھتے رہنے کا’فرض‘ نبھانا ہی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ؟ یہ سوال اس وقت ملک کے سیکولر طبقوں کے مابین موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ داخلی محاذ پر ہندو احیا پسند تنظیمیں سلامتی کے نقطہ نگاہ سے سنگین خطرہ بن چکی ہیں اورملک کی وحدت کو توڑنے کی مسلسل کوشش ہورہی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت وقت ان قوتوںکے خلاف ٹھوس اقدام اٹھانے سے گریزاں ہے

 کہتے ہیں کہ ایسا صرف اور صرف اس وجہ سے ہورہا ہے کہ کیونکہ مرکز کی مخلوط حکومت میں کلیدی کردار نبھانے والی سیاسی جماعت کانگریس اپنے اسی رنگ ڈھنگ میں دوبارہ واپس آچکی ہے جس کے تحت بابری مسجد المیہ سے قبل تک وہ دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اقلیتوں کے ووٹ پراجارہ داری اختیارکیے ہوئے تھی۔واقعہ یہ ہے کہ سانحہ بابری مسجد کے بعد جب کانگریس کو ملک کی رائے عامہ بالخصوص مسلمانوں نے یکسر مسترد کردیا تو اسے بطور خاص اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ کس طرح ایک بارپھر ملک کے زمام اقتدار پر قبضہ جمایا جائے۔طویل غور وخوض کے بعدکانگریس کے پالیسی سازوں نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ بابری مسجد سانحہ کے لیے ’فراخ دلی ‘ کے ساتھ مسلم امہ سے معافی مانگی جائے تاکہ مسلمانوں کے مابین عدم اعتماد کی جو کیفیت پائی جارہی ہے اسے دور کیا جاسکے اور دوبارہ اقتدار میں واپسی کا بند دروازہ کھل سکے

اقلیتی امورپر گہری نگاہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کانگریس نے خلوص نیت کے ساتھ مسلمانوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا بلکہ سیاسی مصلحت پسندی یہاں بھی دخیل تھی اور صرف دوبارہ اقتدارمیں واپسی ہی ان کا مقصد کُل تھا۔اسی منہاج پر کانگریس نے دوبارہ اقتدارمیں واپسی کی کوشش شروع کی اور یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ ابتدائی دنوں میں اقلیتوں کی اشک شوئی کے لیے جو آنسو بہائے گئے تھے دراصل وہ بعد کومکمل طورپر’ گھڑیالی‘ آنسو ثابت ہوئے اور اب جب کہ مختلف ’سیکولرنواز‘ سیاسی پارٹیوںکے اشتراک سے کانگریس نے زمام اقتدارپر قبضہ جمالیا ہے یہ بات صد فی صد درست ثابت ہورہی ہے


اگر واقعی ایسا نہیں ہے تو پھر یہ سوال جواب کا طالب ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کونفرت کی انتہا تک بڑھانے میں کلیدی کردار نبھانے والی ہندو احیا پسند تنظیموں کے خلاف کانگریسی حکومت کی جانب سے کیوں نہیں کوئی قدم اٹھایا جارہا ہے؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کشمیر سے کنیا کماری تک بلاناغہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی فرقہ وارانہ فساد ہورہا ہے اوران فسادات میں ہندو احیا پرستوں کی بیہودگی ثابت ہورہی ہے

باوجود اس کے انہیں طوفان بدتمیزی کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اورتادیبی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ یہ صورت حال یہی ثابت کرتی ہے کہ حکومت میں جرآت کی کمی ہی نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ حکومت وقت صرف اور صرف سیکولرزم کا مکھوٹا لگائے ہوئے ہے اوروقتاً فوقتاً مسلمانوں کا اعتماد برقرارر کھنے کے لیے ظاہری آنسو بہالیے جاتے ہیں جب کہ سچائی یہ ہے کہ طریق حکمرانی اور طرز حکمرانی پوری طرح ہندو احیا پرستوں کو کلین چٹ دینے جیسا ہے

دہشت گردی کے مسئلہ پرانگلےنڈسے فن لینڈ تک، ہوانا سے لے کرا قوام متحدہ تک اور جنیوا سے لے کر واشنگٹن تک خارجی عوامل کوزیر موضوع بناتے ہوئے عالمی برادری کواعتماد میں لینے کاکوئی ایک موقع ضائع نہ کرنے والی حکومت ہند کے اس دوہرے معیارکو سمجھنے میں اب عام لوگوںکو اس وجہ سے دیر نہیں ہورہی ہے کیونکہ پانی اب سر سے اونچا ہونے کو ہے۔اقتدار پر دوبارہ جلوہ باری کے بعداقلیتوں کے تعلق سے حکومت ہند نے کوئی ایک کام بھی ایسانہیں کیا ہے جس کی بنےاد پر یہ بات کہی جاسکے کہ واقعی موجودہ حکومت اقلیتوںبالخصوص مسلمانوں کے امور کو سنجیدگی کے ساتھ لے رہی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہر محاذ پردوہرا معیار اپنانے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے

ظاہر ہے کہ یہ صورت حال کچھ دنوں تک کانگریس کی قیادت والی حکومت کے لیے اقتدار میں بنے رہنے کا موقع فراہم کراسکتی ہے لیکن بعد از انتخاب ایک مرتبہ پھراقتدار پرمتمکن ہونے کا خواب موجودہ صورت حال میں شاید خواب ہی رہ جائے گا یہ اس وجہ سے کیونکہ ملک گیر سطح پر اضطراب کی لہریں مرکزی حکومت کے خلاف مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور یہ کہنا بے معنی نہیں ہوگا کہ چاٹو خوروں کی جماعت نے کانگریس اعلیٰ کمان کو گمراہی کے دلدل میں پہنچانے کی جو شاطرانہ کوشش کی ہے اس کا پارٹی کو سنگین خمیازہ بھگتنا پڑے گا

اگرواقعی ان حالات سے حکومت جان چھڑانا چاہتی ہے تو اس کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ موجودہ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے بلا تاخیر موثر اقدام اٹھائے۔ دنیا کے سامنے گڑگڑانے اور دم ہلانے کی روش کو تر ک کرتے ہوئے دہشت گردی کے معاملے میں داخلی اور خارجی عوامل کو ایک نگاہ سے دیکھنے کی جب تک کوشش نہیں کی جائے گی ہندوستان کی سلامتی پرخطرہ بن کر لٹکنے والی دہشت گردی کی تلوار ملک کی وحدت کو نقصان پہنچاتی رہے گی اور ارباب اقتدار کی مجرمانہ خاموشی انتشار وخلفشار کو بڑھاوا دینے کے لیے یقینا ذمہ دار گردانی جائے گی

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لیتی ہے اور ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے دائرہ کو روکنے کے لیے مربوط اقدام اٹھاتی ہے یا پھرہندو احیا پرستوںکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جاری رکھی جانے والی روش ہی برقرار رہتی ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات