|
ٹھیکیداروں کے منہ پرنوبل امن انعام
2006ایک زناّٹے دار طمانچے کی حیثیت رکھتاہے
نوبل امن انعام کے لیے بنگلہ دیش کے
مردمجاہدمحمدیونس اوران کے قائم کردہ ادارہ بنگلہ دیش گرامین بینک کو
نوبل امن انعام سے سرفراز کیا جانا یقینا قابل تحسین قدم قرار دیا
جاسکتاہے جس نے غربت زدہ طبقے کی بہبودی کے لیے کارہائے نمایاں انجام
دیتے ہوئے اپنی عملی کوششوں کے ذریعہ سنگ میل کی حیثیت اختیار کی اور
نوبل انعام کی کمیٹی نے خلاف توقع محمدیونس اوران کے ادارے کو دنیا
کے سب سے بڑے اکرام سے نوازا
بنگلہ دیش کانوبل امن انعام
پرقبضہ جمانا بلاشبہ متروک ومقہورمفلوک الحال آبادی کی معاشی بہتری
کے لیے کوشاں فردواحد کوان کی گراں قدر کاوشوں کے لیے خراج تحسین پیش
کرنے کا محرک بنا ہے۔نوبل امن انعام سے محمد یونس او ر ان کے ادارے
کی سرفرازی کو مسلم امہ کے لیے رول ماڈل قرار دیاجاسکتا ہے جس نے
اپنی انتھک کوششوں کے ذریعہ ایک غربت زدہ ملک کی بدحال آبادی کو طرز
معاشرت میں بہتری لانے کے لیے نہ صرف یہ کہ اکسایا بلکہ عملی پیش رفت
کے تحت لاکھوںبے روزگاروں کو روزگارکے مواقع بھی فراہم کرائے
بنگلہ دیش گرامین بینک کے بانی اور
ملک کے ماہر اقتصادیات محمد یونس کی اس کوشش کو پانچ رکنی سلیکشن
کمیٹی کی جانب سے سراہا جانا قابل قدر تو ہی ہے ساتھ ہی ساتھ کمیٹی
نے جن نکتوں کو امن انعام کے لیے قابل قدر گردانا وہ اس سے کہیں
زیادہ قابل عظمت ہے۔ناروے کی امن سلیکشن کمیٹی نے 191 امیدواروں کے
درمیان غریبوں کے اس’ مہاجن‘ کونامزد کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ
دنیا میں قیام امن کی کوششیں اس وقت تک ثمر بارثابت نہیں ہوسکتیں جب
تک کہ پائیدار امن کے لیے غربت کے خاتمے کو یقینی نہ بنادیا جائے
نوبل امن انعام کمیٹی کا غربت کے
خاتمے کی کوشش کو خراج تحسین پیش کرنا اورعالمی امن کے لیے اسے
ناگزیر گرداننا ایک بارپھریہ کہنے کے لیے کافی ہے کہ عالمی امن کے
ٹھیکیدار دنیا بھر میں قیام امن کے حوالے سے جس طرح کی بیہودگی کو
مسلسل ہوا دینے میں لگے ہیں اوراسلحہ جاتی قوتوںکی بنیاد پرجس طرح
دہشت گردی کا شوروغوغا بلند کیا جارہا ہے اس پر اوسلو کی انتخابی
کمیٹی نے زوردارطمانچہ رسید کیا ہے
نوبل امن انعام کی انتخابی کمیٹی کا یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ غربت کے
خاتمے کے بغیر پائیدا رامن کی راہیں مسدودہیں،یقینا زمینی حقائق
کوقبول کرنے کے مترادف ہے،جس سے اب تک ترقی یافتہ ممالک مسلسل رو
گردانی کرتے رہے تھے
حالانکہ نوبل امن انعام کی دوڑمیں
دنیا بھر کے 191امیدوار مضبوط ترین دعوئوں کے ساتھ میدان میں ڈٹے تھے
تاہم انتخابی کمیٹی نے دنیابھر کی مضبوط ترین دعویداری کولائق
اعتناتصورکرنے کے بجائے اپنی توجہ ایک انتہائی غریب اور ستم رسیدہ
ملک پرمرکوز کی،جسے نہ صرف یہ کہ سال کے چھ ماہ قدرتی آفات کا شکار
رہنا پڑتا ہے بلکہ باقی ماندہ دنوں میں بھی انفراسٹرکچرکی عدم فراہمی
اور ترقی کے اعلیٰ مواقع کے لیے سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے
ترقی کی دوڑ میں مسلسل پیچھے رہنا پڑرہا ہے
بنگلہ دیش کی مفلوک الحال آبادی کے درمیان ’مائیکروکریڈٹ‘ کے ذریعہ
چراغ امید روشن کرنا محمدیونس کے لیے اس قدرثمرافزا ثابت ہوگا اس کی
امید خود انہیں بھی نہیں تھی جیسا کہ انہوں نے ایوارڈ کے اعلان کے
فوراً بعد اپنے پہلے ردعمل میں اظہارکیا۔’نیکی کر اور دریا میں ڈال‘
کے مصداق محمدیونس نے 1976میں بنگلہ دیش سے غربت کے خاتمے کی عملی
کوشش کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں انہوںنے بے کسوں اور مجبوروں
کے لیے بڑے پیمانے پر قرض کی دستیابی کے لیے ’گرامین بینک‘ قائم کیا
تھا۔اقتصادیات کے شعبے سے خاطر خواہ آگہی رکھنے والے محمدیونس بہت
جلد بنگلہ دیش کے غریبوں کے’ مہاجن‘ قرار دے دیے گئے تواس کے پس پردہ
ان کی صدق دلی کے ساتھ کی جانے والی عملی کوشش دخیل تھی۔موصوف نے
دیکھتے ہی دیکھتے ندیوں کے اس دیش میں چراغ زندگانی روشن کرنے کے لیے
اپنے ادارے کے ہاتھ پائوں بڑھانے شروع کردیے
آج عالم یہ ہے کہ گرامین بینک سے
استفادہ کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد61لاکھ سے بھی تجاوز کرچکی
ہے۔فرد واحد کی جانب سے معیشت کومضبوط کرنے کی یہ لاثانی مثال ہے جسے
نوبل امن انعام کے ذریعہ خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش سے
غربت کے خاتمے لیے بڑے پیمانے پرمحمدیونس کے’جہاد‘ سے تحریک پاکر
دنیا بھرمیں ان کے52معاونین نے دست فیاضی دراز کی اور ان کے مدد گار
بنے۔22ترقی پذیر ممالک میںمحمدیونس کے ادارے کی شاخ کا قیام اسی
فیاضی کی رہین منت ہے
دنیا بھر میں معیشت کو استحکام بخشنے کے حوالے سے چھوٹے قرضے کا
مروجہ نظام دراصل محمدیونس کی فکری بصیرت و بصارت کا ہی نتیجہ ہے جسے
مختلف ممالک میںان دنوںمہمیز دیا جارہا ہے۔ہرچندکہ افلاس زدہ طبقے کو
مالی اعانت کی فراہمی کے حوالے سے محمدیونس کی یہ کوششیں کسی نہ کسی
سطح پر دنیابھرمیں پھیل چکی ہیںاور اس سے خاطرخواہ فائدے بھی ہورہے
ہیںلیکن محرک اعلیٰ یعنی محمدیونس آج بھی اپنی کاوشوںکو زندگی کااصل
مقصد قرار دینا نہیں بھولتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہبودی کے لیے معاشرے
کوغربت سے نجات دلانا ناگزیر ہے اور اس کے بغیرچراغ امن روشن نہیں
ہوسکتا
کہا جاسکتاہے کہ محمدیونس دنیا بھرکی ان تنظیموں کے لیے مشعل راہ کی
حیثیت رکھتے ہیں جو کسی نہ کسی سطح پربہبود ی کے فریضے انجام دے رہی
ہیں۔خصوصی طورپرہندوستان بھرمیں حشرات الارض کی طرح پھیلی فلاحی
انجمنوں کومحمدیونس اور ان کے گرامین بینک سے سبق لینے کی سخت ضرورت
ہے جوخودکوقوم وملت کے لیے ’نجات دہندہ ‘قرار دینا نہیں بھولتیں۔ ستم
ظریفی یہ ہے کہ قحط الرجال کے اس دور میں دوسروں سے تحریک پاتے ہوئے
اپنی شبیہ سدھارنا بھی لوگوںکو گوارا نہیں
یہ صحیح ہے کہ محمدیونس اور ان کی
کوششیںملی انجمنوں اور تنظیموں کے لیے سبق کا درجہ رکھتی ہیںلیکن سبق
تو وہی لے سکتا ہے جس کا ضمیر اور خمیر دونوں زندہ ہو۔
نہ صرف یہ کہ نوبل امن انعام2006 رفاہی کا م کرنے والے دیگر اداروں
کے لیے ہی مشعل راہ ہے بلکہ خود حکومت ہند کے لیے بھی اسے سبق آموز
قرار دیا جاسکتا ہے۔خصوصاً ہندوستانی ارباب وقت کو محمدیونس کی خدمات
سے تحریک پاتے ہوئے ملک کے طول وعرض میںپھل پھول رہی انتہا پسندی کے
سد باب کے لیے غربت کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے کی سخت ضرورت ہے
کیونکہ نوبل امن انعام کا یہ اعلان دراصل اس بات کا بھی اعلان ہے کہ
غربت کے خاتمے کے بغیر دنیا کوگہوارۂ امن نہیں بنایا جاسکتا۔یعنی
نوبل امن کمیٹی نے بالفاظ دیگر دنیا کو ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دے
دیا ہے کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے حربی قوتوں کا
استعمال یقینا بے معنی ہوگا اور غربت کا خاتمہ ہی اصل معنوں میں اس
مرض کا اصل علاج ہے
جہاں ایک طرف محمد یونس کی خدمات عالیہ امت مسلمہ کے لیے نئے رول
ماڈل کی تخلیق میں معاون ومددگارہوسکتی ہے وہیں یہ کہنا بھی یقینا
مناسب ہوگاکہ دنیا بھرمیں افلاس کے خاتمے کے حوالے سے کی جانے والی
کوششوں کوایک نئی تحریک اور نئی روشنی مل سکے گی اور یاس و نا امیدی
و محرومی کو دور کرنے میں ان کی عظمت کا یہ اعتراف گنج ہائے گرانمایہ
کی حیثیت کا حامل قرار پائے گا
تہذیبوں اور ثقافتوںکی سرحدوں کو توڑتے ہوئے بقائے باہم کی بنیاد پر
افلاس سے نجات کی کوششوں کومہمیز دینے والوں کے لیے نوبل امن کمیٹی
نے محمدیونس اور ان کے ادارے کونوازتے ہوئے جو تاثرچھوڑاہے اس سے
دنیا کوایک بار پھریہی پیغام ملتا ہے کہ وہ تہذیبوں اور ثقافتوںکے
حدود وقیود سے باہر نکلیں اور بہبودی کے امور کووسعت دیتے ہوئے سسکتی
انسانیت کی اشک شوئی کریں، ان کے غم کا مداوا کریںاوران کے مابین
چراغ زندگانی روشن کریں
امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے
دنوںمیں ایک بارپھر دنیامادیت کے نرغے سے آزادی کے لیے پورے جوش
وجذبے کے ساتھ میدان عمل میںکود پڑے گی اورخونریزی کے خاتمے کے لیے
تدبر وتفکر کے ساتھ عالم گیر تحریک کی شروعات ہوگی، جس سے یقینانفرت
کے سوداگروںکومنہ کی کھانی پڑے جائے گی اور امن کا حقیقی پرچم دنیا
بھر میں اپنی عظمت کو سربلندی بخشے گا |