Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 02 October 2006 22:02 (PST)اشاعت

پاکستان میں سربجیت، بھارت میں محمد افضل، مماثلت ؟

محمد شرافت علی

نئی دہلی

بھارت میں محمد افضل کی سزائے موت کا تعلق سربجیت کی رہائی سے جوڑا جارہا ہے

دہشت گردی بجائے خود ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے جو تباہی وبربادی ہوتی رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے لیکن یہ حقیقت بھی اظہرمن الشمس ہے کہ انسداد دہشت گردی کے نام پرلڑی جانے والی جنگوں کے دوران بڑی تعداد میں بے قصور افراد نشانہ

بنتے رہے ہیں اوران حالات سے ہمارا ملک بھی اچھوتا نہیں ہے

دہشت گردی کے انسداد کے نام پر بے قصوروں کو نشانہ بنانا جس قدر باعث تشویش امر ہے اس سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ یہ ہے کہ دہشت پسندوںکو سیاسی مصلحت پسندی کے پیش نظر کلین چٹ دے دی جائے اورکسی بے گناہ کو ا س کی قربان گاہ پربھینٹ چڑھا دیا جائے

پارلیمنٹ پردہشت گردانہ حملہ کا واقعہ بادی النظرمیںاسی کیفیت کو ظاہر کررہاہے جس میںاصل قصوروار تک رسائی شایدابھی تک ممکن نہیں ہوسکی اورجسے کیفر کردارتک پہنچانے کے لیے تختہ دار پر چڑھانے کی تیاری کی جارہی ہے وہ غالباً اس واقعہ کا ماسٹرمائنڈ بھی نہیں ۔ٹاڈا کی خصوصی عدالت کی جانب سے محمدافضل کو قصوروارٹھہرانا اور پھراس عدالت کے فیصلے پر عدالت عالیہ و عدالت عظمیٰ کی مہریں لگ جانا اس بات کو جائز و درست ٹھہرانے کے لیے کافی نہیںکہ واقعتاً محمد افضل پارلیمنٹ پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے کاکلیدی کردارتھا

یہ اس لیے کہ پارلیمنٹ پر کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائی بذات خود اس بات کو ظاہرکررہی ہے کہ یہ واقعہ اصلاً دہشت گردانہ کارروائی نہیں تھی بلکہ اسے سرانجام دینے کا مقصد ہی کچھ اور تھاجسے شاید سیاسی مصلحت پسندی کے پیش نظر ابھی تک پردہ خفا میں رکھا گیا ہے اور غالباً حقیقت حال کا انکشاف اس وقت تک ممکن بھی نہیں جب تک کہ آزادانہ اور شفاف طریقے سے اس واقعے کی از سرنوغیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کرالی جائے اور سابقہ حکومت کے جملہ مکر و فریب کو سامنے نہ لایا جائے

 واقعہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے سیاق وسباق سے شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں اوریہ معاملہ ایک اعلیٰ سطحی تفتیش کا متقاضی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھرمیں اب تک تخریب کاری کے جتنے بھی وقوعے رونما ہوئے ہیں اور جن نمونوںکوبطورمثال پیش کیا جاتارہا ہے ان میں سے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں دہشت گرددھماکہ خیز مادے اپنے جسموںپرباندھ کر بندوقوں کی نالیں دکھاتاپھرے اور خود کو دھماکے سے نہ اڑائے

جب کہ ہندوستانی ایوان نمائندگان پر ہونے والی تخریب کاری کے دوران ایساکچھ بھی نہیں نظر آیاکہ دہشت گرددھماکہ خیز مادے کو اڑانے کی سعی کرتابلکہ  یہ دیکھا گیاکہ بڑی مقدار میں پائے جانے والے دھماکہ خیز مادے ایمبسڈر کار میں یوں ہی پڑے رہے اوروہ فدائین دستہ جس نے تخریب کاری کا بیڑا اٹھارکھا تھاوہ خود کو اڑانے اور دہشت کا سامان کرنے کے بجائے اپنی بندوقوںاور رائفلوں سے صرف اور صرف دہشت کاماحول بناتارہا اور اس درمیان جوابی کارروائی کے دوران ایک کے بعد ایک نصف درجن لاشیں ڈھیر ہوتی رہیں

اس واقعے سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ’ تخریب کاری ‘کے ارادے سے یہاں وارد ہونے والے فدائین دستے نے عمداً کسی بڑے سانحے کو انجام دینے سے گریز کیاتھا کیوںکہ انہیں اتنی مہلت ملی ہوئی تھی کہ وہ اگر چاہتے تو خود کو اڑاسکتے تھے اس کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ کہنا قرین صداقت ہوگا کہ شاید فدائین دستہ کو کسی فرد خاص کی تلاش رہی ہوگی جسے وہ نشانہ بنانا چاہتے تھے نہ کہ ان کا مقصد کل ایوان کو ملیا میٹ کرنا تھا۔ ورنہ تقریباًآدھے گھنٹے کی دھینگا مشتی کے درمیان فدائین دستوں کی جانب سے خود کو اڑانے کی کوشش یقینا کی جاتی جب کہ ایسا کچھ بھی سرزد نہیں ہوا

پارلیمنٹ پر حملہ یقیناًایک ناپاک،بیہودہ اور ناقابل رحم واقعہ ہے اور اس کا مخرب اعلیٰ قرار واقعی سزا کامستحق بھی ہے،لیکن انصاف کے تقاضوں اور عدل کے پیمانوں کا بہر طور خیال رکھنا اور بے قصور وں کو گناہ گار قرار دینے سے گریز کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے

ہندوستانی نظام عدل میںاصلاحات کی باتیں کرنا اور طول طویل تقاریریں فرمانا اہل سیاست اور دانشوروں کامحبوب مشغلہ بن چکا ہے، اس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں ہے ،لیکن اس ستم گری پر قربان جائیے کہ اصلاحات کی باتیں ہنوز عمل کا روپ اختیار نہیں کر سکی ہیں ،نتیجتاًبے قصورو ں کیلئے سزائیںتجویز کیا جانا اور قصور واروںکابری ہوتے رہنا ہمارے نظام عدل کا جزو لاینفک بن چکا ہے

بعض مقدمات میں حصول انصاف کیلئے جانکاہ انتظار کے مراحل سے گزاراجانا اور بعضوں میں حد درجہ عجلت سے کام لینا عام ذہن کی فہم و ادراک سے پرے تو ہے ہی،اب صاحبان ذی شعور بھی اپنے شعورپر ماتم کناں ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ایوان نمائندگان پر حملہ کےمعاملے کو ہی لے لیجیے۔اس معاملے میں جس عجلت پسندی سے کام لیا گیا وہکہاں کا عادلانہ طریق ہے؟اس معاملے میں ایک با عزت لیکچرار کے چہرے پر دہشت گردی کا لیبل لگادیا جانااور بعد کو اسے کسی طور قصوروار ثابت کرنے کی کوششوں میں ناکامی پر رہا کرنا،کیایہ سب عدالتی چارہ جوئی کے نام پر کسی شریف طینت فرد کے کردار کے ساتھ بھدا مذاق نہیں ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ افضل گرو چونکہ ہند مخالف سرگرمیوں میںپہلے سے شریک رہا ،اس لیے اس کے ماضی کے اس کردار کو بنیاد بناتے ہوئے قصوروار قرار دینا تفتیش کاروں کیلئے آسان ہو گیا ،اس پر غور کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ یہ مقدمہ انتہائی حساس نوعیت کا تھا اور’ ملزم‘ کے’ مجرم‘ بن جانے کی صورت میں اس کی’ زندگی‘ ’موت‘ میں تبدیل ہونے والی تھی

لیکن ستم گری کہئے کہ اس جانب ہنوز توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور خصوصی عدالت کے فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں سے بھی موت کے فرمان پر مہر توثیق ثبت کرالی گئی۔کہا جاسکتا ہے کہ دوران تفتیش توجہ کا محور دہشت گردی کا واقعہ رہا اوراسی کوبنیاد بناتے ہوئے تفتیش کاروں نے اپنے فرائض انجام دیے۔ نتیجتاًپارلیمنٹ پرحملہ کا واقعہ’ دہشت گردی کا ایک بڑا سانحہ‘ قرار پایا اوراس دوران محمد افضل گرو کے علاوہ لیکچرر عبدالرحمن گیلانی کو گرفتارکرلیاگیا

عدالتی چارہ جوئی کے دوران بھی اس واقعہ کو اسی تناظر میں دیکھا گیا، جس نظریے سے عام لوگ دیکھتے ہوئے اس واقعہ کو’دہشت گردی ‘ قرار دیتے رہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ پرحملہ کے جملہ احوال وکوائف کو سنجیدگی کے ساتھ لیاجاتا اوراس کے اسباب ومحرکات اورتخریب پسندی کے محور کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اورخصوصی عدالت نے تمام تر بحث وتمحیص کے بعدلکچرر عبدالرحمن گےلانی کوتو بری کردیا جب کہ دوسری جانب افضل گروکوسازش کار قرار دیتے ہوئے سزا ئے موت تجویز کردی گئی

ستم ظریفی یہ بھی رہی کہ افضل کی جانب سے جب اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تب بھی واقعہ کی گہرائی وگیرائی میں جانے کے بجائے سابقہ فیصلوں کو ہی درست ٹھہراتے ہوئے اسی پر مہر توثیق ثبت کردی گئی۔ نتیجتاً پارلیمنٹ حملہ کا مخرب اعلیٰ افضل گرو کو قرار دے دیا گیا اور اب اسے تختہ دار پرچڑھانے کے لیے تاریخ کا تعین بھی کردیاگیا ہے۔افضل واقعی تخریب کاری کا منبع ہے یا نہیںاس سے قطع نظرپارلیمنٹ پر حملہ کے واقعے کوذہن میں رکھتے ہوئے ہر ایک ذمہ دار شہری کو یہ سوچنے کا بہرحال حق حاصل ہے کہ وہ عدالتوں کے فیصلے کے لیے پیش کی جانے والی ان دلائل کودیکھے، پرکھے جن کی بنیاد پرافضل کو سزائے موت دی جارہی ہے

اس کے ساتھ ہی ساتھ جنم لینے والے کئی ایسے سوالات بھی ہیںجن پربحث و تمحیص کیا جانا قومی مفادات کے تحت نا گزیر ہوگیا ہے۔ےہاں انہیں نکتوں پر بحث مقصود ہے نہ کہ افضل کوکلین چٹ دینا۔ آئیے دیکھیںکہ افضل کے لیے سزائے موت کی تجویز کے بعد ملک میں کیا صورت حال پیدا ہوئی ہے اور خود افضل کے گھر’کشمیر‘ میں لوگ کیا سوچتے ہیں

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی بھی مروت درست نہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ارباب وقت کی جانب سے ہمیشہ ہی اس معاملے کوسیاسی آلہ کارکا درجہ دیا جاتارہا ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ماضی میں حکمرانوں نے دہشت گردوں کے ساتھ ’دامادی خاطرمدارات ‘کاجو رویہ اختیار کیاوہ کتنا خطرناک تھا۔خصوصاً قندھارطیارہ اغوا معاملے کے بعد ملک کے وزیر خارجہ نے جس طرح خود سے دہشت گردوں کی حوالگی کی اسے ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہی کہا جائے گا

اس کے ساتھ ہی ساتھ کانگریس کی حکمرانی والی حکومتوں کا رویہ بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں ایماندارانہ ہرگزدکھائی نہیں دیتا۔ ایسی صورت میں پارلیمنٹ پرحملہ کے واقعہ کے بعدجو حالات کشمیرمیں پیدا ہورہے ہیںاور جس طرح وہاں علیٰحدگی پسندوں کو بیٹھے بیٹھائے ایک ’موضوع‘ ہاتھ آگیا ہے اسے بھی یقینا مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ افضل کے معاملہ پرسیاسی دکان چمکانے کی کوشش بھی ہورہی ہے اور دوسری جانب کشمیر میں اس کے تئیں حمایت کا جو جذبہ دیکھنے کو مل رہا ہے

 اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ پر اسے سزائے موت دے دی جاتی ہے تویقینا اس کے بعدکشمیر کے حالات نئی کروٹ لیں گے اور اس سے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچنے کا بھی شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ افضل کے لواحقین کی جانب سے مستقل میڈیا میں آنے والی خبروں نے اس موضوع کوبین الاقوامی حیثیت دے دی ہے، خصوصی طور پرسربجیت سنگھ کے واقعہ سے اس واقعہ کو جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ مشرف سربجیت کی سزائے موت کو واپس لے لیں اور دوسری جانب حکومت ہند افضل کے ساتھ رحم کی راہ اختیار کرے

بالفاظ دیگریہ پیغام دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ افضل کا معاملہ بین الاقوامی موضوع بن چکا ہے۔ایسی صورت میںاگر افضل کوتختہ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے بعدعالمی سطح پران عناصر کو ہندوستان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کا ایک سنہری موقع ہاتھ آجائے گا جواب تک کسی ایسے موضوع کی تلاش میں بھٹکتے رہے ہیں ۔اس درمیان حقوق انسانی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے بھی اس موضوع کواپنا لیا ہے جس کے بعد ملک میںبھی اور ملک سے باہر بھی افضل کا تنازعہ گرما گرم بحث کا موضوع بن گیا ہے

ہرچند کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے پارلیمنٹ حملہ واقعہ میں افضل گروکی سزائے موت کی توثیق کردی ہے لیکن اس کے باوجود یہ معاملہ اس وجہ سے ایک نئی تفتیش کا متقاضی ہے خود پارلیمنٹ پر حملہ کے واقعہ نے حقیقت حال کی جو چغلی کھائی ہے اسے ذہن میں رکھ کر ہندوستان کا کوئی بھی ذمہ دار شہری ہرگز یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ حملہ آوروں کا مقصد پارلیمنٹ کو دھماکہ سے اڑانا تھا بلکہ ایک بڑا طبقہ صورت حال کے تجزیہ کے بعد یہی نتیجہ اخذ کررہاہے کہ فدائین کی یہاں آمداورتقریباً نصف گھنٹے تک جاری رہنے والے تصادم کا واقعہ کسی دوسری بڑی تخریب کاری کا محور تھا لیکن اسے حالات وواقعات کی نزاکت نے سرانجام ہونے نہیں دیا

چنانچہ ایسے حالات میں حکومت ہند کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس پورے واقعہ کی ازسر نوتفتیش کرائے کہ آخر اس معاملے میں کلیدی حیثیت کے حامل کون لوگ تھے اور ان کا مقصدپارلیمنٹ کو اڑانے کا نہیں تھا تو کیا تھا؟

یوں بھی افضل کو سولی پر چڑھا دینے سے دہشت گردی ہرگز ہرگزمٹ نہیں سکتی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگر افضل بے قصور ہے اور اسے سزائے موت دے دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو جیت پانا اوربھی مشکل ہوجائے گا کیونکہ بے قصوروں کی مزاحمت کوروکنا کسی کے بس میں نہیں

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات