|
سے جس طرح کے اعتراضات بے جا کئے جا
تے رہے ہیں اور جس نہج پر مختلف معاملوں کے نمٹارے کے دوران عدالتیں
اپنی ’جارحیت‘ کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں ان سے بطور خاص یہ تاثر عام
ہورہا ہے کہ ملک میں عدلیہ اپنی برتری کو ثابت کرنے کی خواہاں ہے
سپریم کورٹ کے تازہ ترین ریمارک نے
اضطراب کی ان چنگاریوں کو مزید شعلہ اس وقت بنا دیا جب اس نے یہ کہہ
کر اپنے قد کو اونچا کرنے کی دانستہ کوشش کی کہ رحم کے معاملے میں
صدر اور گورنر کو معافی کی بنیادصحیح طریقے سے تلاش کرنی چاہئے اور
یہ کہ اس حوالے سے مناسب طریقہ اختیار کیا گیا ہے آیا نہیں ،یہ
دیکھنے کے لیے عدالتیں نظر ثانی کر سکتی ہیں
بظاہر اس عدالتی تبصرے سے یہی نتیجہ
اخذ ہوتا ہے کہ اس ملک کے صدر جمہوریہ پر بھی عدالت کو اعتبار نہیں
رہ گیا ہے۔ بالفاظ دیگر سپریم کورٹ بادی النظرمیں ایوان صدر کو بھی
عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کے ارادے پرگامزن ہے۔ورنہ اس قسم کا
بے جا تبصرہ شاید سامنے نہیں آتا
حالانکہ آئین سازی کے دوران ماہرین کی جمعیت نے برتری کے قضیے کو بڑے
ہی قرینے اور سلیقے سے حل کیا تھا اور عدلیہ،مقننہ اور منتظمہ کے
فرائض منصبی کے دائرہ کار کا تعین خوش اسلوبی کے ساتھ کیا گیا تھا
تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ حال کے دنوں میں حکمرانی کی کلید تصور کئے
جانے والے ان تینوں اہم شعبوں نے اپنے اپنے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے
بے یقینی کی صورتحال کو جنم دے دیا ہے جسے کسی بھی طور جمہوریہ ہند
کے لئے شگون نیک قرار نہیں دیا جاسکتا
ہمیں یہ کہتے ہوئے کہ عدلیہ اس بات
کے تئیں مسلسل کوشاں ہے کہ ملک میں اس کی برتری ثابت ہو، کوئی تامل
نہیں۔کیونکہ ابھی ماضی قریب کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس
بات کو بخوبی ظاہر کر رہی ہیں کہ مختلف عدالتوں نے اپنی حیثیت اور
وقعت سے آگے بڑھ کر’ بے تکے‘ فیصلے بھی کئے ہیں اور بے جاریمارکس بھی
دئے ہیں جن کا مقصد نظام عدل کو مہمیز دینا قطعی نہیں ظاہر ہوتابلکہ
ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان عدالتوں کے پیش نظر اپنی اجارہ داری اور
برتری کو ثابت کرنا ہی مقصودکُل تھا
چھوٹی عدالتوں کی لا یعنی باتوں کو
نظر انداز تو کیا جا سکتا ہے تاہم جب بڑی اور سب سے بڑی عدالتوں کے
ذریعہ بھی ایسے غیر سنجیدہ اور غیر منطقی تبصرے کئے جائیں تو ظاہر ہے
اس سے بے چینیوں میں اضافہ ہوگاہی
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے
جانے والے حالیہ تبصرے کویوںہی نظر انداز نہیں کیا جاسکتاکیونکہ
عدالت عظمیٰ کے ہر ایک ریمارک پر ہر کس و ناکس کی توجہ ہوا کرتی ہے
اور اس سے باوقار اور کلیدی مناصب کی عظمت پر بھی حرف آتا ہے
ہرچندکہ حالیہ تبصرہ براہ راست صدر
جمہوریہ کے اختیارات پر سوالیہ نشان تو نہیں لگاتا، تاہم سنجیدگی کے
ساتھ سیاق و سباق کا جائزہ لینے کے بعد بلا واسطہ طور پر یہی پیغام
عام ہوتا ظاہرہورہاہے کہ عدالت عظمیٰ نے صدر کے ذاتی اختیارات کو بھی
عدالتی دائرے میں قید کرنے کی کوشش کی ہے، جسے ہم صاف لفظوں میں صدر
جمہوریہ کی ہتک سے تعبیر ایک عدالتی کوشش قرار دے سکتے ہیں
سوال یہ ہے کہ جب قانون دانوں کی
جماعت عدالتوں کا انتظام و انصرام چلاتی ہے اور عدلیہ کا ہر ایک
ریمارک بھی ماہر قانون کے ذریعہ ہی سامنے آتا ہے تو آخر کیا سبب ہے
کہ اس طرح عوام الناس کے درمیان غلط پیغام عام ہو رہا ہے؟کیا عدالتیں
اس بات سے مکمل طور پر بے پروا ہو چکی ہیں کہ ملک میں ان کے ریمارک
سے کیا پیغام جارہا ہے ،اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں؟یہ اور اس طرح
کے نہ جانے ہزاروں سوالات سامنے آرہے ہیں جو ماہرین قانون سے اس بات
کا تقاضا کر رہے ہیں کہ وہ عدلیہ کی اس جارحیت کے تعلق سے سنجیدگی کے
ساتھ غور وفکر کریں کہ آخر یہ صورت حال کیوں کر سامنے آرہی ہے اور اس
سے بچنے کی سبیل کیا ہو سکتی ہے؟
ملک کے نظام عدل پر گہری نگاہ رکھنے
والوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے دنوں میں جب جب عدلیہ - مقننہ اور
عدلیہ-منتظمہ تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی ہے ،کہیں نہ کہیں اسی قسم کی
جارحیت پسندی ہی دخیل رہی ۔کہا جاسکتا ہے یہ صورت حال اس وقت تک
تبدیل نہیں ہوسکتی جب تک کہ نظام عدل کی اصلاح کے حوالے سے فراخ دلی
کا جذبہ پیدا نہیں کر لیا جاتا
بہر حال اس امر سے انکار نہیں کیا
جاسکتا کہ عدلیہ حال کے دنوں میں اپنے دائرہ کار سے متجاوز ہوتی رہی
ہے اور اس روش میں آئے دن اضافہ ہی ہو رہا ہے۔آج اگر دانستہ طور پر
صدر جمہوریہ کے ذاتی اختیارات پر سوال کھڑا کرتے ہوئے اس منصب جلیلہ
کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اختیار کیا گیا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ کل کے
دنوں میں مزید جارحیت کا ثبوت دیتے ہوئے مفاد عامہ کے کسی عرضی کو
بنیاد بنا کر براہ راست ایوان صدرکے نام نوٹس بھی جاری کردیا جائے
حالانکہ اس سلسلے میںپختہ قانونی
ضوابط موجود ہیں لیکن آئے دن جس طریقے سے ان ضوابط کوبالائے طاق
رکھتے ہوئے حدود سے تجاوز کرنے کی روش اختیارکی گئی ہے اسے دیکھتے
ہوئے یہ پیش قیاسی بے معنی نہیں ہوگی۔گجرات کی ایک ذیلی عدالت کی وہ
حرکت قارئین کو اچھی طرح یاد ہوگی جس میں صدر جمہوریہ کے نام وارنٹ
تک جاری کردینے کی حماقت سرزد ہوئی تھی
چنانچہ حکومت ہند کا یہ پہلا فریضہ
بنتاہے کہ وہ اس حوالے سے بلا تاخیر سنجیدہ رویہ اختیارکرے اور
عدالتوں کو اس بات کے تئیں پابند بنانے کی کوشش کی جائے کہ وہ اپنے
دائرے کو سمجھے اور’ پاجامے ‘ سے باہرنکلنے والی کیفیت پیدا نہ ہو
بلاتردید عدلیہ ملک کا واحد ادارہ ہے جس پر آج کے گئے گذرے دور میں
بھی ہر کسی کو مکمل بھروسہ ہے۔ چنانچہ یہ لازم ہے کہ بھروسے کی ڈور
نہ ٹوٹے، اس ذیل میںخاطر خواہ پیش رفت کا مظاہرہ کیا جائے
جہاں تک عدلیہ کے انتظام و انصرام
اور شفافیت کا تعلق ہے تو یہ کہتے ہوئے ہمیں کوئی عارنہیں کہ ملک کے
وزیرا عظم بھی عوامی تقریب میں اس بات کا کھل کراعتراف کرچکے ہیں کہ
عدلیہ میں بدعنوانی جڑ پکڑتی جارہی ہے۔وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ
نے ابھی پچھلے ماہ ہی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عدالتوںکی
بدعنوانی کو دورکرنے کے لیے مربوط کوششیں کی جارہی ہیں، مگر ستم
ظریفی یہ ہے کہ وزیراعظم کی یہ ’مربوط کوشش‘ انتہائی سست روی کی شکار
ہے، جس کی بنا پرہنوز کسی سنجیدہ پیش رفت کا احساس نہیں ہورہا ہے
عدالتی نظام میں اصلاحات کی بات
ہرچند کہ ایک طویل مدت سے کی جاتی رہی ہے لیکن پتہ نہیں کیوں عملی
طور پر اس سلسلے میں خلوص کا عنصرغائب دکھائی دے رہا ہے۔نہ صرف یہ کہ
متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد ’اصلاحات‘
کی باز گشت سنی گئی بلکہ اس سے قبل این ڈی اے نے بھی اپنے دور
اقتدارمیں عدلیہ کی تطہیر کاعزم ظاہر کیا تھا۔لیکن یہ حقیقت ناقابل
فراموش ہے کہ نہ توماضی میں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے اس سلسلے
میں صدق دلی کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی موجودہ حکومت اب تک سنجیدہ
دکھائی دے رہی ہے
عدالتی نظام کوچست اور درست بنانے
کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدلیہ کے انتظام و انصرا م میں
بہتری لاتے ہوئے حَکم کو اپنے ریمارک اور فیصلوں کے تئیںپابند و جواب
دہ بنایا جائے تاکہ کسی فیصلے یا تبصرے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے
چینی کی صورت میں فاضل جج سے کیفیت طلب کی جاسکے ۔اگر ایسا نہیں کیا
گیا توظاہرہے کہ اس سے ملک کی عظمت بھی اثر انداز ہوگی اور باوقار
مناصب کی ہتک بھی ہوتی رہے گی
سپریم کورٹ کے حالیہ تبصرہ کا بین
السطور یہ کہہ رہا ہے کہ اسے مکمل طور پر صدرجمہوریہ ہند کے ذاتی
اختیارات کے استعمال پربھی بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔بھروسے کی اس ڈور
کا ٹوٹنا کیا عدالتوں کے بے لگام ہوجانے کا اعلان تو نہیں
ہے؟یاپھرملک کے اولین شہری کا اقلیتی فرقہ سے تعلق اس عدم اعتماد کی
بنیاد ہے؟ان دونوں مذکورہ اسباب میں سے جو بھی عدالت کے پیش نظر ہو
،بہر حال اسے ناقابل برداشت ہی کہا جائے گا
چنانچہ اس پرماہرین قانون کوکوئی
موقع گنوائے بغیر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے اور
بلاتاخیرعدالتوں کواس کے اپنے دائرے میں ’قید ‘کرنے کی سبیل بھی تلاش
کی جانی چاہئے ورنہ آنے والے دنوں میں اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے
|