Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 10 October 2006 19:52 (PST)اشاعت

بچہ مزودری عوامی توجہ کی متقاضی

شاھدالاسلام
اردوسروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

گھروں میں کام نہ کرنے کی وجہ سے کئی کروڑ بچے افلاس کا شکار ہونگے

کوئی یہ کہتا ہے کہ قانون بنایا ہی جاتا ہے توڑنے کیلئے تو یقیناً کہنے والے کے دعوے میں صداقت کا کوئی نہ کوئی عنصر ضرور شامل ہے۔خصوصاً ہندوستانی نظام حکمرانی اور عدالتی مو شگافیوں کی ناقابل حد تک طوالت کو ذہن میں رکھ کر کہنے والاشاید

اپنے دعوے میں کچھ حد تک حق بجانب بھی ہے کیونکہ عملی طور پر یہی کیفیت ان دنوں دیکھی جارہی ہے ۔ آئے دن قانونی ضوابط میں کی جانے والی تبدیلیوں اور اصلاحات کے باوجود بڑے پیمانے پر قانون کا مذاق اڑانااور مسلسل اڑاتے ہی رہناہم ہندوستانیوں کی ستم گری معلوم ہوتی ہے

خصوصاً جب سخت ترین قوانین کے اطلاق کا معاملہ سامنے آتا ہے تو بالعموم یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ قانون کی خلاف ورزیوںکے معاملے میں اہل ثروت بندشوں سے آزاد ہوا کرتے ہیں اور بیچاری مفلوک الحال آبادی پر تمام تر قانونی ضوابط کا اطلاق عمل میں لا دیا جاتا ہے

گویا عملی طور پر ’قانون ‘صاحب ثروت کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے اور کمزوروں، مقہوروں،بے کسوں، مظلوموںاور بے یار ومددگارلوگوںکو ان قوانین کی خلاف ورزیوں کے نام پر جانکاہ غیر انسانی سلوک سے بھی دوچار ہونا پڑتاہے۔اطفال کی بہبودی کے تعلق سے قانونی ضابطوں میں کی جانے والی تبدیلیاں بھی شاید ایسی ہی صورت حال کو پیش کرنے جارہی ہیں،جن کاآج سے نفاذ ہو گیا ہے۔یعنی آج سے نئے قانون کی روشنی میں بچوں کو گھر میں کسی بھی کام کے لئے ملازم رکھنے والوں کو جرمانے کے علاوہ دو سال قید کی سزا دی جا سکے گی

سمجھا جاتا ہے کہ اس قانون سے ہندوستان بھر کے 13کروڑ بچے متاثر ہوں گے۔ بچوں کی فلاح کے لئے کام کرنے والی بعض تنظیمیں اس تعداد کو کہیں زیادہ بتاتی ہیں۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں گھرانوں میں پانچ سے چھ سال کی عمر کے بچوں سے گھر میں صفائی اور کھانا پکانے کے علاوہ دیگر کام لئے جاتے ہیں

گھروں میںب چوں اور بچیوں کو ملازم یا نوکر رکھنے والا طبقہ طبقہ اشرافیہ ہونے کا دعویدار تو ہے لیکن سچ یہ ہے کہ وہ ان معصوموں کی مسکراہٹ کو چند ٹکوں میں خریدتا رہا ہے۔ورنہ ان بچوںسے کام لینے کے بدلے اگران کی تعلیم و کفالت کے تئیںصاحب حیثیت احباب مخلص ہوتے تو شاید ملک کے لاکھوں نو نہالوں کی زندگیاں سنور سکتی تھیں اور ایسے قوانین کی ضرورت شاید کبھی محسوس بھی نہیں کی جاتی مگر افسوس یہ ہے کہ انسان اس وقت تمام ترصفات سے متصف تو ہے لیکن وہ ’انسانیت‘ سے ہی عاری ہوچکاہے


سوال یہ ہے کہ کیااس قانون سے بچوں کی بہبود ی ممکن ہوسکے گی؟ ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے مفلوک الحال طبقے کو مزید استحصال کا شکاربننا پڑے گا اور غربت زدہ ان بچوں پرجب بھوک کے لالے پڑیں گے تو فطری تقاضوں کے تحت جرائم کی جانب ان کا رجحان بڑھے گا

اطفال کی بہبودی کے لئے قبل بھی حکومت ہندنے سخت ترین ضابطے وضع کئے تھے اور حالیہ اقدام کو اسی سلسلے کی اگلی کڑی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر ایمانداری کے ساتھ اس امرکا تجزیہ کیا جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ ملک کے لاکھوں بچے سخت قوانین کے باوجود پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر مزدوری کرنے پرمجبورہیں اورعملاً انہیں اس سے ابھی تک بازنہیں رکھاجاسکا ہے۔ قانون وضع کرنا مسئلے کا ہرگز حل نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی اخوت کے جذبے کو بیدار کیا جائے تاکہ قدروں کا تحفظ کیا جاسکے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات