Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 18 October 2006 13:43 (PST)اشاعت

بنانا ریپبلک کی اصطلاح اوہنری کی تخیلق ہے

شفقت محمود
کوئٹہ ، پاکستان

صدر مشرف کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ساتھ دینا ملکی مفاد میں دیا

Banana Republic انگریزی کی یہ اصطلاح کسی ایسے ملک کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو، محدود زرعی پیدوار پر انحصار کرتا ہو اور جس پر کوئی چھوٹا سا مالدار اور کرپٹ ٹولہ ، فوجی جرنیل یا آمر حکمران ہو، یہ اصطلاح امریکی

مزاح نگار او ہنری کی تخلیق ہے جو پہلی بار لاطینی امریکہ کی ریاست ہندورس کے لئے استعمال کی گئی

ایک جرنیل فوجی کارروائی کے ذریعے ملک پر قبضہ کر لیتا ہے اور طاقت کے بل پر حکمرانی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم "بنانا ری پبلک " نہیں ۔ یہ اصطلاح لاطینی امریکہ کے ملکوں کے لئے استعمال ہوتی تھی جو کیلے اگاتے تھے اور جہاں جرنیلوں کی حکمرانی تھی۔ ہم کیلے تو کچھ زیادہ نہیں اگاتے لیکن جرنیل تقریباً ہر دور میں ہمارے حکمران رہے ہیں پھر سوال یہ ہے کہ ہم کس کیٹیگری میں آتے ہیں؟

میں کچھ حقائق پیش کردیتا ہوں ملک کے ایک بڑے حصے میں بجلی کا بحران پیدا ہوتا جاتاہےفوجی انقلاب کی افواہیں سامنے آتی ہیں او رکسی سونامی کی طرح پھیل جاتی ہیں کسی کو آئین یا عدالتوں کا خیال تک نہیں آتا، کسی کو یہ پریشانی نہیں کہ اس کی قانونی حیثیت کیا ہے یا قانون کی حکمرانی کیا ہوتی ہے لوگ اس خبر پر اس قدر اعتبار کرلیتے ہیں کہ وفاقی وزرا صحافیوں کو بلالیتے ہیں اور صحافی ٹی وی اسٹیشن کے گرد ٹینکوں کی آمد کا انتظار شروع کردیتے ہیں ۔ ہمارے حکمران جرنیل کہتے ہیں کہ یہ خبریں کسی بیمارذہن کی پیداوار تھیں پھر تو اس ملک میں بیمار ذہنوں کی پوری ایک فوج موجود ہوگی

باب وڈورڈ کہتے ہیں کہ کولن پاؤل نے کہا کہ میں نےپاکستان سے سات مطالبات کئے اور اسی پر مطمن ہوجاتا کہ تین یا چار مطالبات تسلیم کرلئے جاتے ہمارے جنرل صاحب نے پانچ مطالبات مان لئے سادہ سا سوال یہ ہے کہ گیارہ ستمبر تک طالبان کی حمایت کی پالیسی یا تو غلط تھی اور ہمارے قومی مفاد میں نہ تھی یاپھر یہ درست تھی اور ملک کے بہترین مفاد میں تھی اگر یہ درست تھی تو ہمیں اس پرصحیح معنوں میں ڈٹ جاناچاہئے تھا نتائج خواہ کچھ بھی ہوتے جنرل صاحب نے اپنی کتاب میں جو حالات بیان کئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ یہ پالیسی درست تھی لیکن انہیں دھمکایا گیا تھا امریکہ نے یلغار کی صورت میں ان کے خلاف " جنگی کھیل " کھیلا تھااور وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ وہ اس کا بار نہیں اٹھا سکتے

 ہم بنانا ری پبلک نہیں لیکن افغانستان پر امریکہ حملے کی معاونت کا فیصلہ ایک شخص نے کرلیا اس فیصلے میں عوام کا نہ کوئی کردار تھا اور نہ نمائندہ اداروں کا کوئی عمل دخل ، اور نہ ہی ان نمائندہ اداروں کا کوئی وجود تھا فیصلے میں شامل باتیں جتنی اہم تھیں اتنا ہی فیصلے کا عمل اہمیت رکھتا تھا ہمارے ہاں جو کچھ عمل ہوا وہ فرد کے ذاتی اندازے تھے جو اس نیتجے پر پہنچ گیا کہ اگر آپ ان سے لڑنہیں سکتے تو پھر ان کے ساتھ مل جائیں

ہم بنانا ری پبلک نہیں لیکن ہم انعام کے پیچھے بھاگنے والے شکاری تو ہیں جنرل صاحب اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ القاعدہ کے ملزمان امریکہ کے حوالے کرنے پر پاکستان کو ان کے سر کے قیمت ملی بعد میں وہ اپنے خیالات سے مکر گئے اس پر کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ پاکستانی حکومت دہشت گردوں کے پیچھے اس لئے بھاگ رہی تھی کہ یہ کام قانونی تھا اورایسا کرناہمارا اخلاقی فرض تھا یا یہ سب کچھ پیسوں کی خاطر کیا جارہا ہے؟اگر یہ پیسوں کے لئے نہیں تھا تو پھر سر کی قیمت کیوں وصول کی گئی؟ کچھ عجیب نہیں کہ ایک امریکی افسر نے کچھ عرصےپہلے یہ تک کہہ دیا تھا کہ کہ چند کرنسی نوٹوں کی خاطر ہم تو اپنی ماؤں کو بیچ سکتے ہیں ،یہ ہماری ملی غیرت پر ایک سخت تازیانہ تھا اور یہ نواز شریف کا دور تھا

انعام کی خاطر شکار کی اس ڈیل پر اور بھی کچھ سوال سر اٹھاتے ہیں کیا وصول ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی یاافراد کو دی گئی جن میں جنرل صاحب بھی شامل تھے؟ اگر یہ قومی خزانے میں آئی تو پھر اس کا ریکارڈ  ہونا چاہیئے اور بجٹ میں بھی کہیں نہ کہیں اس ذکر آنا چاہیئے کیا ایسا کیا گیا؟ اس مسئلے کو یونہی نہیں چھوڑا جا سکتاہے ہم القاعدہ کے تقریباً سو کے لگ بھگ ملزم امریکیوں کے حوالے کرچکے ہیں اس کے بدلے کتنی رقم وصول کی گئی اور کہاں گئی یہ معلومات منظر عام پر آنی چاہئیں اورکون لوگ اس سےفیضیاب ہوئے اس کا بھی پتہ چلنا چاہئیے

ہم بنانا ری پبلک نہیں پھر بھی ہمارا چوٹی کا ایٹمی سائنس دان اٹھارہ ٹن ایٹمی مواد ملک سے باہر سمگل کرلیتا ہے اور کسی ریاستی ادارے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی جنرل مشرف صاحب کہتے ہیں کہ فوج بھی نہ جانتی تھی کہ کیا ہورہا ہے اس پر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے کیونکہ فوج نہ صرف ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کررہی تھی بلکہ ائیرفورس کا ایک سی ون تھرٹی طیارہ اس مواد کی ترسیل کے لئے استعمال کیاگیا اگر جنرل صاحب کی بات کا یقین کرلیا جائے تو ایک ایٹمی سائنس دان نہ صرف پوری سویلین حکومت سے بڑا بن گیا جو کچھ ایسی مشکل بات نہیں ، بلکہ ہماری مسلح افواج سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا

ہم بنانا ری پبلک نہیں لیکن سپریم کورٹ نے چند روز پہلے فیصلہ دیا کہ اعلی عدالتوں کو فوجی ملازمین کے خلاف فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر حرف گیری کا کوئی اختیار حاصل نہیں جمہوریتوں میں آئین تمام شہریوں کے لئے انصاف کی چادر کا کام دیتا ہے خواہ وہ سویلین ہوں یا فوجی اور ہر شخص کو اعلی ٰ عدالتون میں جانے کا حق حاصل ہوتا ہے فوجی مجرموں پر الزام عائد کرنے اور ان کے خلاف سماعت کا حق حاصل ہے اور سول اداروں کا سزا دینے کا اپنا ایک نظام ہے لیکن کسی بھی متاثرہ شخص کو اعلیٰ سویلین عدالت میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے پچھلے دنوں امریکی سپریم کورٹ اس حد تک چلی گئی کہ اس نے فیصلہ دے دیا کہ غیر شہریوں کوبھی اور اس معاملے میں وہ لوگ جنہیں القاعدہ کے دہشت گرد کہا جاتا ہے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سماعت عام سول قانونی عدالت میں کراسکتے ہیں یہاں ایسا نہیں

ہم بنانا ری پبلک نہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے حکمران  کہہ چکے ہیں کہ اس ملک میں خواتین اس لئے ریپ کرواتی ہیں کہ کینیڈا کی امیگریشن مل جائے یہ بات نہ صرف خواتین کے لئے انتہائی توہین آمیزاوربدنامی کے مترادف ہے بلکہ یہ دبے لفظوں میں اس بات کا اعتراف ہےکہ ریپ کاشکار ہونے والی خاتون کو یہاں انصاف نہیں ملتا تحفظ نسواں بل کی صورت میں جنرل صاحب کو اوران کی  حکومت کو ایک موقع ملا تھا جسےانہوں نے ترامیم کے لئے بٹھایا ہوا ہے لیکن انہوں نے اور ان کے حواریوں نے سیاست کھیلنے کا فیصلہ کرلیا اور مٹھی بھر ملاؤں کو کھیل کھیلنے کا موقع دے دیا جمہوریتوں میں اکثر یتیں فیصلہ کرتی ہیں لیکن یہاں چونکہ جعلی اسمبلیاں کچھ معنی نہیں رکھتیں اس لئے انہیں بڑی آسانی سے نظر انداز یا بائی پاس کرلیا جاتا ہے

اب تک میں نے حالات حاضرہ کے سوالات پر بات کی ہے لیکن ہمیں اپنی تاریخ میں بھی بہت سی ایسی باتیں مل جاتی ہیں جو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ آیا ہم بنانا ری پبلک ہیں یا نہیں ، آزادی سے لیکر اب تک کوئی ایک بھی حکومت معمول کے طریق کار سے تبدیل نہیں ہوئی محمد علی جناح کے انتقال اور لیاقت علی خان کے قتل کے بعد سے جو بھی حکومت ہمارے ہاں آئی ہے اسے یا تو دھکے دے کر نکال باہر کیاگیا ہے یا ضیاالحق کے معاملے میں صاحب اقتدار موت کا شکار ہوگیا عام طریقے سے اقتدار کی منتقلی کبھی بھی نہیں ہوئی ہمارے سویلین اور منتخب وزرائےاعظم میں سے ایک کو گولی مار دی گئی دوسرے کو پانسی دے دی گئی اور دو جلاوطنی کی زندگی گزاررہے ہیں

ہماری تاریخ کے انتخابات میں سوائے 1970کے دھاندلی کی گئی یا پھر نتائج تسلیم نہیں کئے گئے ۔ جنرل پرویز مشرف سمیت ہمارے تین حکمران جرنیلوں نے اپنے اقتدار کو قانونی حیثیت کا سترپوش دینے کے لئے دھاندلی زدہ ریفرنڈم کرائے۔ ہمارے وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جو اپنے طور پر ایک لوکل کونسلر بھی منتخب نہیں ہوسکتا تھا پھر بھی اس نے قومی اسمبلی میں دو نشتیں جیت لیں۔ یہ فہرست لامحدود ہے اور مثالیں ختم ہونے میں نہیں آتیں

ہم اپنی قومی زندگی کا کوئی ایک شعبہ لے لیں اور طے کرلیں کہ آیا قانوں کی حکمرانی فیصلہ کن اصول ہے یا کوئی اور چیز ۔ قارئین آپ ہی فیصلہ کر لیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات