|
انڈسٹری میں گزارے ہیں، مجھے یہاں سے
بہت پیار اور عزت ملی ہے جس کا جتنا شکر کروں کم ہے
پی ٹی وی پر لائیو پروگرام ”رات گئے“ کا ذکر
کرتے ہوئے مہناز نے کہا کہ خواجہ نجم الحسن نے ہمیشہ سے ہی اچھے
پروگرام کئے ہیں۔ اس پروگرام کو شروع کرنے سے گلوکاروں کو لائیو گانے
کے مواقع اور لوگوں کو اچھا میوزک سننے کو مل رہا ہے
اس طرح کے پروگرام ہونے چاہئیں۔ ملک میں پاپ
سنگرز اچھا گا رہے ہیں۔ جن میں سجاد علی، شفقت امانت علی خان، احمد
جہانزیب شامل ہیں۔ ابرار الحق کا اپنا فوک سٹائل ہے۔ جواد احمد بھی
اچھا گا رہا ہے سب اچھے ہیں۔ مہناز نے کہا کہ ہر کام سے انصاف کرنا
چاہئے اسی طرح گانے سے بھی انصاف کرنا چاہئے
آرٹسٹ
کمپرومائز نہیں کر سکتا دنیا آپ کو سن کر آپ کو فنکار بناتی ہے،
استاد نذر حسین، ماسٹر عنایت، ماسٹر عبداللہ، خواجہ خورشید انور جیسے
بڑے اساتذہ نے بہت سوں کو فنکار بنا دیا میں آج بھی اپنے گانے سے
مطمئن نہیں ہوں
اس کو سیکھنے کے لئے تو کئی کئی سال لگ جاتے
ہیں۔ لتا جی، مہدی حسن، میڈم نور جہاں جیسا ہم کہاں گا سکتے ہیں ۔
شادی نہ کرنے کے سوال پر مہناز نے کہا کہ شادی اس لئے نہیں کی کہ گھر
والوں کی ذمہ داری مجھ پر تھی اس طرف دھیان نہیں دیا ویسے شادی کی
نہیں جاتی ہو جاتی ہے۔ اپنے کام پر ہی توجہ دی ، میں اپنی والدہ کے
ساتھ مرثیہ گوئی کرتی تھی۔ ہمارا سید گھرانہ ہے۔ صادقین سے عزیز داری
ہے، آجکل کے فلمی میوزک پر تنقید کرتے ہوئے مہناز نے کہا کہ فلموں
میں جس پائے کا میوزک اور گانے ہو رہے ہیں یہ مجھے پسند نہی ایک اچھا
میوزک فلم ”مجاجن“ کی صورت میں بڑی دیر کے بعد سننے کو ملا ہے
ذوالفقار علی کی موسیقی اور عذرا جہاں کی آواز
نے سننے والوں کو اچھی چیز دی ہے۔ صائمہ جہاں کی آواز عذرا جہاں سے
بھی اچھی ہے۔ عذرا جہاں پیدائشی آرٹسٹ ہے۔ اس کی ٹون کلچرڈ ہے،
بازاری نہیں۔ جو پکا آرٹسٹ ہو گا وہ کسی سے نہیں ڈرے گا اور اسے ڈرنا
بھی نہیں چاہئے جو اندر سے کمزور ہو گا اور جس میں کمی ہو گی وہ ڈرے
گا
مہناز نے کہا کہ مجھے ڈائیلاگ بازی نہیں آتی
25 سال فلموں میں کام کیا ہے۔میڈم نور جہاں، ناہید اختر، نیرہ نور،
ترنم ناز جیسی آوازوں میں اپنا مقام بنایا۔ ڈسٹری بیوٹر جس فلم میں
میرے اور ناہید اختر کے گانے ہوتے تھے اس فلم کو اٹھاتا تھا۔ یہ سب
اس کی کرم نوازی ہے کہ بات اب تک بنی ہوئی ہےترنم ناز بڑی محبت کرنے
والی خاتون ہے
مہناز نے انٹرویو کے دوران کہا ابھی تک
راگ سیکھ رہی ہوں اپنا مقام ہمیں خود بنانا ہے۔ انڈیا والے آپ سے راگ
سیکھنے آئیں گے۔ میری طبیعت بڑی فقیرانہ اور درویشانہ ہے نماز اور
قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھتی ہوں
آج تک کسی کادل نہیں دکھایا کسی سے بدتمیزی
نہیں کی۔ فلم انڈسٹری نے مجھے عزت دی۔ پاکستان کے تمام موسیقاروں خاص
کر طافو برادران نے عزت دی ہے۔ آپ عزت کریں گے تو آپ کو عزت ملے
گی۔میڈم نور جہاں نے بڑا پیار کیا۔ میری بڑی رہنمائی کی۔ میں واحد
سنگر ہوں جس کے ساتھ وہ گانا ریکارڈ کراتے وقت خوش ہوا کرتی تھیں۔
ناہید اختر کے ساتھ میرے سب سے زیادہ گانے ہیں اپنی زندگی کی خواہش
بارے بتاتے ہوئے مہناز نے کہا کہ خواہش ہے کہ حج پر جاﺅں۔ زیارتیں
کروں، یہ بھی میری خواہش ہے اپنی آخری زندگی اپنے بھائی بہنوں کے
ساتھ گزاروں۔ ہر شاعر کا کلام گایا ہے
احمد فراز کی غزل ”سنا ہے کہ لوگ اسے آنکھ بھر
کے دیکھتے ہیں“ کی کمپوزیشن خود کی ہے
انٹرویو کے بعد مہناز سٹیج پر آئیں تو لوگوں
سے کھچا کھچ بھرا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس موقع پر مہناز نے کہا
کہ مجھے پاکستانی آرٹسٹ ہونے پر فخر ہے۔ اس مٹی سے ہوں اور اسی مٹی
میں جانا پسند کروں گی۔ مہناز نے اپنے اس فلمی گانے سے شام کا آغاز
کیا۔ ”میرا پیار تیرے جیون کے سنگ رہے گا“ اس کے بعد ”میرا پیار بھی
تو، زندگی بھی ہے تو“ گایا جس پر خوب تالیاں بجائی گئیں۔ مہناز نے
غزل ”دیار غیر میں کیسے بسر ہو“ اور ”سنا ہے کہ لوگ اسے آنکھ بھر کے
دیکھتے ہیں“ سنائی تو ایک بار پھر لوگوں نے تالیوں سے مہناز کا حوصلہ
بڑھایا
مہناز نے کہا اچھے میوزک کی حوصلہ افزائی کرنی
چاہئے۔ آج بھی اچھے سننے والے ہیں۔ فلم غازی علم دین شہید میں 6 گانے
میرے اور ایک منیر حسین کا میرے ساتھ تھا۔ اس کی موسیقی ماسٹر
عبداللہ نے دی تھی کیا خوب میوزک تھا، ماسٹر عبداللہ جیسے میوزک
ڈائریکٹر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ اس فلم کے سارے گانے ہٹ ہوئے
مہناز نے اس فلم کا گیت ”سوہنیا کہنیاں“
گایا ”وے بے ایماناں بھل تے نئیں گئیاں یاداں میریاں“ احمد فراز کی
غزل ”اب کے تجدید وفا“ اور ”سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے“۔ امیر
خسرو کا کلام ”چھاپ تلک سب چھین لی“ گائیں اس کے بعد حاضرین کی
فرمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا جن میں پنجابی کے گیتوں کی فرمائشیں سب
سے زیادہ تھیں
مہناز نے ”نمی نمی چٹی چٹی چاندنی وے“ گایا تو
حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ مہناز نے پشتو گیت بھی گایا۔ جسے بہت
پسند کیا گیا۔ اس موقع پر مہناز کا کہنا تھا کہ مجھے پشتو بلوچی
سندھی ردھم بہت پسند ہے۔ اس کے بعد ”دل کے افسانے نگاہوں کی زباں“
فلم ”مشکل“ کا ”مشکل ہے بڑا مشکل“، ”میں جس دن بھلا دوں“ گایا تو
لوگوں کی خوشی قابل دید تھی۔ ”لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا
ہے“ گایا تو سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید قریشی ریڈیو پاکستان کے
سابق اسٹیشن ڈائریکٹر اعظم خاں نے مہناز کو دل کھول کر داد دی کیونکہ
اعظم خاں نے ہی اس غزل کو سب سے پہلے ریڈیو پر ریکارڈ کیا تھا
اس موقع پر مہناز نے کہا کہ نور جہاں بڑی
گلوکارہ تھیں ان جیسا کوئی نہیں۔ مہدی حسن بڑے فنکار ہیں اللہ ان کو
صحت دے ہم پر ان کو سلامت رکھے جس کے بعد مہناز نے میڈم کا گایا فلمی
گانا”چلو اچھا ہوا تم بھول گئے“ بغیر ساز کے گایا۔ مہناز کا اس موقع
پر پھر کہنا تھا کہ کہاں گئے وہ لوگ جنہوں نے ان گانوں کی دھنیں
بنائی ہیں اس پر مہناز نے یہ شعر پڑھا .
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں
نایاب ہیں ہم مہناز نے پنجابی گیت
”کیندے نیں نیناں، تیرے کولرہنا“ اور اپنی والدہ کجن بیگم کی ٹھمری
اور آخر میں دھمال ”لال میری پت رکھیو بھلا جھولے لعلن“ گائی ۔ |