|
میرکMerck کمپنی
سن سولہ سو اڑسٹھ میں قائم ہوئی تھی جبکہ میرک کمپنی دنیا کے پچپن ممالک
میں کام کر رہی ہے
میرک کمپنی میں انتیس اعشاریہ نو پانچ آٹھ
لوگ کام کرتے ہیں جبکہ سن دو ہزار پانچ میں ایک ریکارڈ برنس کیا ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں
میرک کمپنی کی طرف سے جاری امدادی پروجیکٹز پر جان کاری کے حوالے ڈاکٹر جان
سومبروئیک سے بات چیت ہوئی
مسٹر جان سومبروئیک اسی برس
مئی میں پاکستان گئے تھے جہاں سے واپسی پر انہوں نے پاکستان کے ایک درجن
بھر مصوروں کی ہاتھ کی بنی ہوئی تصویروں کی جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں
نمائش کی
ڈاکٹر جان سے ہم نے اسی
بارے میں پوچھا کہ آپ نے جرمنی میں نمائش کےلیئے پاکستانی مصوروں کی
تصویروں کی ہی نمائش کیوں اور ایسا کرنے کا خیال آپ کو کیونکر آیا
ڈاکٹر جان سومبروئیک نے
بتایا کہ پاکستان میں ہماری کمپنی ’ میرک ‘ کی بہت اچھی مارکیٹ پوزیشن ہے
اور ہمارے ساتھی ہر سال پاکستانی زرعی اور دیگر مقامات و پاکستانی ثقافت کے
بارے بنی ہوئی تصویروں کا کیلنڈر بناتے ہیں
تاہم اس بار ہمارے ساتھی
مسٹر ’ کوئینک ‘ کو خیال آیا کہ کیوں نہ ہم نئے سال کا کیلینڈر جرمنی میں
چھاپیں اور تصویریں پاکستان سے وہاں لے جائیں
ڈاکٹر جان کا کہنا تھا کہ
اس کے بعد ہم نے فرینکفرٹ میں مذکورہ تصویروں کی نمائش کی اور مجھے بے حد
خوشی ہوئی جب ہمیں پاکستانیوں کے علاوہ یہاں کے لوگوں کی طرف سے بہت اچھی
پذیرائی ملی
ڈاکٹر جان کا کہنا تھا
پاکستان کے بارے میں ہمیں یہاں یکطرفہ معلومات ملتی ہیں جبکہ پاکستان اس کے
برعکس ہے
اس سوال پر کہ آپ پاکستان
گئے تو آپ نے پاکستان اور پاکستانیوں کو کیسا پایا ؟
انہوں نے جواب دیا کہ
پاکستان اس ماڈرن وقت میں ترقی کی جانب جا رہا ہے اور ہماری میرک کمپنی نے
کراچی کے قریب ایک ہسپتال بنایا ہے
ڈاکٹر جان کا کہنا تھا کہ
مجھے اس مقام کا نام یاد نہیں پڑتا لیکن وہ مقام کراچی کے قریب ایک جزیرے
پر ہے اور وہاں کے لوگ مچھلیوں کا کام کرتے ہیں
’ غالباَ ڈاکٹر جان کی مراد
سندھ کے ساحلی علاقوں کے مچھیروں سے تھی‘
ڈاکٹر جان کا کہنا ہے کہ
ہماری کمپنی کے ساتھی وہاں کئی امدادی پروجیکٹز پر کام کر رہے ہیں
انہوں نے بتایا کہ مچھیرے
ہیں تو غریب لیکن ان میں محبت بہت ہے اور وہ بے حد مخلص لوگ ہیں
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے
اپنے ہاتھوں سے مجھے لکڑیوں کی دو مچھلیاں بنا کر تحفہ میں دی ہیں جو اب
بھی میری میز پر میرے سامنے پڑی ہیں
ڈاکٹر جان سے پاکستان میں
زلزلے کے بعد ان کی کمپنی کی طرف سے کی گئی امداد کے بارے میں سوال پوچجھنے
پر انہوں نے کہا کہ’ ہمیں پاکستان میں زلزلے کے بارے میں خبر سن کر بے حد
افسوس ہوا اور ہمیں ہمارے ساتھیوں ان کی فیملی اور دیگر پاکستانیوں کی فکر
ہوئی
انہوں نے کہا کہ ہماری
دوسری سوچ یہ تھی اب فوری طور پر ان لوگوں کی مدد کرنا چاہیئے اور ہم نے
فوری طور کئی سو خیموں کا بندوبست کیا
ڈاکٹر جان کا کہنا تھا کہ
اس وقت جاڑے کا موسم سر پر کھڑا تھا اور ایسی حالت میں لوگوں کو ٹھنڈک سے
بچنے اور خشک جگہ کےلیئے خیموں کی ضرورت ہوتی ہے
انہوں نے کہا کہ ہماری
کمپنی نے خیموں کے علاوہ دیگر امدادی سہولیات بھی پہنچائیں جبکہ مالی امداد
بھی کی
ان کا کہنا تھا ہم نے
سونامی طوفان میں تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں بھی امدادی کاموں میں
بھرپور حصہ لیا اور وہاں متاثرہ لوگوں کےلیئے ایمبولینسیں دیں اور اسکول و
اسپتال بنائے جبکہ جرمنی کی طرف سے شروع کیئے گئے تعمیراتی کاموں مین بھی
حصہ لیا
انہوں نے کہا کہ میں
پاکستان کو مزید قریب سے جاننا چاہتا تھا لیکن میں پاکستان ایک سیاح کے طور
پر نہیں گیا تھا جس کی وجہ سے میں بھرپور طریقے سے پاکستان کے بارے میں
زیادہ نہ جان سکا تاہم جس قدر بھی قریب سے میں پاکستان اور پاکستانیوں کو
دیکھ سکا میں وہاں بے حد متاثر ہوا ہوں
|