|
بلیو پرنٹ کہیں سے ملے ہیں
جن کے بارے میں کہا ہے کہ یہ پاکستانی تھے ، تو انہوں نے کہا کہ
اگر صدر مشرف نے یہ کہا ہے کہ بھارت کو ایسے بلیو پرنٹ ملے ہیں اور
وہ پاکستانی ہو سکتے ہیں تو ایسا ہونا یقینا ممکن ہے
’اردو سروس ڈاٹ نیٹ ‘ جرمنی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ
ڈاکٹر قدیر خان کی ملائیشیا میں اپنی ایک ذاتی فرم تھی جس کے
ڈائریکٹر ابو طاہر نام کے ایک شخص تھے جن کی بیوی ملائیشین تھی، ان
کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیرنے یہ کمپنی اپنی بیگم کی معارفت قائم کی
تھی اور اس کمپنی کا نام ’’ اسقومی پرشن انجینئرنگ ’’ تھا
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمپنی میں کچھ ایسے پرزے تیار کیئے گئے
تھے جو سینٹری فیوجز میں کام آتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پرزوں کے
بارے میں بتایا نہیں گیا تھا کہ ان کی اصلیت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک
اور کمپنی دبئی میں رجسٹرڈ کروائی گئی تھی جس کا نام غالباَ’’ ای ایم بی
کمپیوٹر تھا جبکہ دونوں مذکورہ کمپنیوں نے ایک بزنس شروع کیا تھا جو سینٹری
فیوجز میں استعمال ہونے والے پرزوں کے متعلق تھا، فیصل محمد کے مطابق اس
سلسلے میں پہلا معاہدہ قذافی حکومت کے ساتھ ہوا تھا جو دس کروڑ ڈالر مالیت
کا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس پہلی ڈیل کے بعد دبئی اس کاروبار کا مرکز بنا
تھا
فیصل محمد نے کہا کہ صدر مشرف نے جو نقشوں کی بات کی ہے کہ وہ بھارت کے
ہاتھ لگے ہیں تو میرا خیال ہے کہ دبئی ہی سے لگے ہونگے فیصل محمد کا کہنا
تھا کہ میں ذاتی طور پر یہ نہیں سمجھتا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے ایسا ذاتی
طور پر کیا تھا کیا ہوگا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نقلیں بھارت کو ابو
طاہر سے ملی ہونگیں کیونکہ ابو طاہر کے حلقہ احباب میں بھارتی لوگوں کی
اکثریت بھی تھی
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک
اور شخص ’’ جوائن بائیر ’’ تھے جو ابو طاہر کے بہت قریب تھے ان کا کہنا تھا
کہ ممکن ہے ان لوگوں کے ہاتھ یہ چیزیں لگ گئی ہوں تاہم میرا ذاتی خیال یہ
ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خود ایسا کام نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی ایسی
کوئی چیز فروخت کی ہوگی
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ اس سے قبل میں یہ باتیں بین القوامی فورموں پر
کہہ چکا ہوں کہ ڈاکٹر قدیر خان پر یہ الزام ڈالنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ
جنرل ضیا، کے زمانے میں بھی یہ پالیسی رہی تھی کہ پاکستان ، ایران اور
افغانستان پر ایک مضبوط بلاک تشکیل دیا جائے اور ان کی رائے تھی اس علاقے
میں دو ایسی طاقتیں ، پاکستان اور ایران ، ہونی چاہئیں جو نیو کلیئر ہوں،
انہوں نے کہا کہ اب جنرل ضیال، اور ان کے رفقا، کار اس دنیا میں نہیں رہے
اب صرف غلام اسحاق خان ہی ہیں جو ڈاکٹر قدیر اور ان کے رابطوں کے بارے میں
بہتر جانتے تھے، تاہم انہوں نے آخری وقت تک اس بارے میں اپنی زبان بند
رکھی
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ اب جو بات صدر مشرف نے کہی ہے وہ سابقی حقائق کی
روشنی میں غلط تو نہیں ہے
اس سوال پر کہ اگر ایسا ہوا ہے تو فوج کے ہاےھوں میں پہرہ تھا تو یہ سامان
کیسے کہیں باہر چلا گیا ؟ فیصل محمد کا کہنا تھا کہ بلیو پرنٹ یا ایسی کوئی
معلومات تو یقینا چھپائی جاتی ہیں اگرچہ بھاری کم سامان چھپایا نہیں جا
سکتا لیکن میں اس بارے میں بات کر رہا ہوں کہ بھارت کے پاس جن نقشوں کے
پہنچنے کی باتیں سامنے آئی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا کہ ڈاکٹر قدیر
اس میں شامل ہیں بلکہ ان کے ڈائریکٹر ابو طاہر ایسا کر سکتے تھے
نواز شریف کے بارے میں کیئے گئے سوال کہ کتاب میں صدر مشرف نے بہت ساری
باتیں لکھیں لیکن نواز شریف کے ساتھ ہونے والی کسی ڈیل کا نہیں لکھا ؟
انہوں نے کہا کہ ایسا ہوا ، مجھے جہاں تک اطلاعات ملی ہیں وہ یہی ہیں کہ
ڈیل ہوئی ہے تاہم ممکن ہے سعودی عرب کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے انہوں نے
اس بارے کچھ نہیں لکھا
اسامہ بن لادن کے بارے میں کہ صدر مشرف ایسا کیوں کہتے ہیں کہ اسامہ بن
لادن افغانستان میں ہیں حالانکہ ایسے بیانات سے پاکستان کو مسائل کا سامنا
ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی متعدد بار پاکستان پر الزام عائد
کر چکا ہے کہ اسامہ پاکستان میں ہیں تو صدر مشرف نے اسی بات کو واضع کر کے
دہرایا ہے کہ اسامہ پاکستان میں نہیں ہیں
فیصل محمد نے پوپ بینیڈیکٹ کے بارے کیئے گئے سوال کہ انہوں نے اپنے بیان پر
کیا معافی مانگ لی ؟ انہوں نے کہا کہ پوپ بینیڈیکٹ کو میں نے بھی ایک
احتجاجی خط لکھا تھا اور اس کا جواب دیتے ہوئے ویٹی کن نے بیان پر معذرت کی
تھی تو ہمیں اسلام سکھاتا ہے کہ اگر کوئی اپنے ایسے بیان پر نادم ہوتا ہے
تو اس کو معاف کردینا چاہیئے
فیصل محمد نے نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلم سفیروں کو پوپ کے بلانے
کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے بیان کو واضع کریں اور اس پر معذرت کریں
مغرب اور اسلام کے بارے میں دائیلاگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ
ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ہم آہمگی بڑھے گی
ڈائیلاگ کے بارے میں دہرائے گئے سوال کہ آپ ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں اور
دونوں فریق ڈائیلاگ سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ پیغمبر اسلام کے
کارٹون اور پوپ کے حالیہ بیان پر مسلم ممالک کے شدید ردعمل کے باوجود جرمن
چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہے کہ برلن میں مسلمانوں سے خوف سے تھیٹر بند
کرنا غلط ہے ہم خوف کی وجہ سے آرٹ اور آزادی رائے کا خاتمہ نہیں کر سکتے
؟ انہوں نے کہا کہ کچھ افراد ایسے ہیں جو دونوں فرقوں میں اختلافات پیدا
کرنا چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ انجیلا میرکل کا ذاتی خیال ہے اور
اس کی کوئی اہمیت نہیں
پاکستان میں سیاست میں حصہ لینے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست کرنا
بہت مشکل ہے کیونکہ اس بارے کوئی قائدہ قانون نہیں ہیں تاہم مستقبل کے بارے
میں کچھ کہا نہیں جا سکتا اوآئی سی کے مبصر اور ممتاز سفارتکار فیصل
محمد نے کہا ہے کہ صدر مشرف نے اپنی کتاب ، ان دی لائن آف فائر ،
میں کوئی ملکی راز افشاں نہیں کیا ، فیصل محمد کا کہنا تھا کہ ہم
حقیقت سے آنکھیں چرانے والے لوگ ہیں ، انہوں نے اس بارے میں قاضی
حسین احمد کے ایک بیان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ
دنوں قبل قاضی حسین احمد نے ایک اہم بیان دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ
اسامہ بن لادن نے نواز شریف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہا
تھا اور وہ نواز شریف کی حکومت بنانا چاہتے تھے جس کے لیئے اسامہ بن لادن
رقم بھی دینا چاہتے تھے
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ اس وقت کسی بھی سیاستدان نے قاضی حسین احمد کے
بیان کی مذمت نہیں کی تھی حالانکہ ان کا مذکورہ بیان پاکستان کے لیئے ایک
چارج شیٹ کی حثیت رکھتا تھا
’’ اردو سروس ڈاٹ نیٹ ’’ جرمنی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے فیصل محمد
نے کہا کہ صدر مشرف نے کتاب میں جو لکھا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ، سٹون
ایج ، یعنی پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکی دی تھی وہ حقیقت تھی ، انہوں
نے کہا کہ اگر اب امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج اپنے بیان سے مکر رہے
ہیں تو یہ ایک نارمل بات ہے کیونکہ یہ امریکہ کی پالیسی رہی ہے
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بیرونی مداخلت
جاری ہے اور تاحال اس کا خاتمہ نہیں ہوا، فیصل محمد کا کہنا تھا کہ صدر
مشرف نے اپنی کتاب میں ان باتوں کو صاف اور واضع کردیا ہے جو کسی نہ کسی
طور امریکہ ، افغانستان یا خود پاکستان میں دہرائی جاتی ہیں
فیصل محمد کے مطابق پاکستان میں صدر ایوب کے بعد صدر مشرف دوسرے شخص ہیں
جنہوں نے اپنی کتاب میں ان باتوں کو دہرایا ہے جو ہم عموماَ اخبارات میں
سنتے ہیں لیکن اخبارات کی خبروں میں ہم ایسی باتوں کو انشکاف کہتے ہیں
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہر صدر ، وزیر اعظم اور ہر حکومت بیرونی دباو میں
رہی ہے اور صدر مشرف بھی ایسے ہی دباو میں تھے اور ہیں ، انہوں نے کہا کہ
لیکن صدر مشرف نے اپنے دور اقتدار میں ہی ان باتوں سے پردہ اٹھا دیا جو
دوسروں کے مرنے کے بعد اٹھایا جاتا ہے یا پھر اس وقت جب کتاب کے تمام کردار
اس دنیا میں نہیں رہتے تاکہ کوئی اچھی یا بری بات کی گواہی نہ دے سکیں
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ آرمٹیچ نے پاکستان کو یقناَ دھمکی دی ہوگی کیونکہ
جب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈپلومیسی میں ایک اہم کردار ادا کررہا
تھا تو اس وقت آرمٹیچ ہی تھے جو ہمار بیچ میں آ دھمکے تھے اور وہ کام وہیں
رک گیا کیونکہ ہماری ڈپلومیسی کے مطابق اس وقت کے وزیر اعظم بھارت واجپائی
صدر مشرف کی تجویز کہ پاک بھارت دونوں مل کر مشترکہ گشت کا نظام ترتیب دیں
اور بھارت اس پر راضی ہوگیا تھا لیکن یہی مٹیچ ہی تھے جو بیچ می آ گئے تھے
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر مشرف جو یہ کہا ہے کہ آرمٹیچ نے یہ
الفاظ کہے تھے یہ بالکل درست ہے، فیصل محمد کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کی
کتاب میں جو بات واضع طور پر سامنے آئی ہے وہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت
پر دباو تھا اور ہے اور اپوزیشن کا یہ کام تھا کہ وہ اس کتاب کے حوالوں کو
سامنے رکھتے ہوئے اتحاد پیدا کرتی اور حکومت اور اپوزیشن مل کر کوئی ایسا
سمجھوتا کرتے جس سے بیرونی دباو کے راستے آئیندہ کے لیئے بند ہو جاتے
|