|
کی گئی ہے
اوآئی سی کے مبصر فیصل محمد نے ان
خیالات کا اظہار ’ اردو سروس ڈاٹ نیٹ ‘ کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو
میں کیا
انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین اور
حزب اللہ کے ہزاروں افراد کو اپنی جیلوں میں ڈال چکا ہے اور متعدد
افراد کو تفتیش کے نام پر ہلاک کرچکا ہے تو اس بارے میں ایسا شور
نہیں ڈالا نہیں جاتا اور نہ ہی اسرائیل کی مذمت کی جاتی ہے
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ اسرائیل
ان علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جو اس سے قبل اس سے آزاد کروائے گئے
تھے
اوآئی سی کے کردار کے بارے میں
انہوں نے کہا اوآئی سی کوئی جنگ کرنے والی تنظیم نہیں ہے بلکہ اوآئی
سی ایک مسلم تنظیم ہے جس کا کام سیاسی معاملات کو سلجھانا ہے
انہوں نے کہا کہ ، ہاں یہ بات درست
ہے کہ اوآئی سی نے اسرائیلی حملوں پر وہ ردعمل ظاہر نہیں کیا جو
اوآئی سی کو کرنا چاہیئے تھا ،
انہوں نے کہا کہ اوآئی سی کا ردعمل
اس صورتحال میں سست ضرور تھا
اس سوال پر کہ اوآئی سی کے گزشتہ
اجلاس کے بعد جو ’مکہ اعلامیہ‘ جاری کیا گیا تھا اس میں کہا گیا تھا
کہ ایک مسلم ملک پر حملہ تمام پر حملہ تصور کیا جائیگا؟
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ ہم اسی
سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں اور لبنان پر اسرائیلی حملوں پر اوآئی سی
نے یورپی یونین اور امریکہ پر سخت دباؤ ڈالا ہے جس کی وجہ سے اقوام
متحدہ میں قرارداد پیش کی گئی ہے
لبنان پر اسرائیلی حملہ یہ ثابت
کرتا ہے کہ وہ جب چاہے دیگر عرب ممالک پر حملہ کر سکتا ہے ؟
فیصل محمد کا کہنا تھا کہ یہ درست
ہے اور ایسا ہی بلکہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہونگا کہ اقوام
متحدہ نے مسلمانوں کےلیئے کیا کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اقوام
متحدہ کے کوفی عنان سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی لیکن
امریکہ نے اسے ویٹو کردیا
ان کا کہنا تھا کہ میں یہ کہونگا کہ
مسلمان ممالک مستقبل کےلیئے اقوام متحدہ کے بارے میں اپنے نظریات پر
نظر ثانی کریں
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مستقل
نشت حاصل کرنی چاہیئے
|