|
بھارت کی ضرورت پیش آئی تو
بھارت نے اپنا ووٹ ایران کیخلاف اور قرداد کی حمایت میں دے دیا
بھارت حکومت کے اس اقدام کو
خود بھارت میں سیاسی جماعتیں سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
حکومت کی حامی جماعتوں کا کہنا ہے منموہن سنگھ نے اپنے سابقہ موقف
سے انحراف کرتے ہوئے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں
بھارتی کئی سیاسی جماعتوں
کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ایران کیخلاف اپنا ووٹ امریکی دباؤ میں دیا ہے
جبکہ حکومت نے اس کی تردید کی ہے
اس سے پہلے بھارت کے وزیر
اعظم منموہن سنگھ نیو یارک میں امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس
سے اپنی ملاقات میں یہ کہہ چکے تھے کہ بھارت یہ نہیں چاہے گا کہ اس
کے ہمسائے میں کوئی ایٹمی طابق بن کر ابھرے
منموہن سنگھ کے اس بیان پر
امریکی قیادت نے خوشی کا اظہار کیا تھا
بھارتی حکومت کے ایران
کیخلاف ووٹ دیئے جانے کی مذمت خود اس کی حمایتی جماعتوں نے بھی کی
ہے
بھارت کے اس اقدام سے
ینقیناََ غیر وابستہ ممالک میں خوف پیدا ہوگا اور آئندہ بھارت پر
یقین کرنے میں بھی غیر وابستہ ممالک کو مشکل پیش آئے گی
بھارت کے ایران مخالف رویہ
کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھارت کی مجبوری بھی ہو سکتی
ہے
کیونکہ بھارت اور امریکہ نے حال ہی میں ایک دفاعی معاہدہ کیا ہے جس
کا تقاضا ہے کہ بھارت ایران کے مخالف ووٹ دے تاہم بھارتی حکومت اس
سے انکار کر رہی ہے کہ یہ امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے |