|
اترپردیش حکومت کی عرضی پر
سماعت کرتے ہوئے سیمی کے عہدےداروں کے خلاف بہرائچ میں 2001میں دائر
بغاوت کے معاملے کو واپس کینے کی اجازت دے دی
عدالت نے اپنا فیصلہ اس کیس کو واپس
لینے کے سلسلے میں اترپردیش حکومت کی طرف سے اس سال کے اوائل میں
جاری کردہ سرکاری حکم نامہ (GO) کی بنیاد پر دیا
سرکاری وکیل انوار احمد خان نے اپنی
دلیل میں کہا کہ مقدمے کے دستاویزات کا تتفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد
ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر سیمی کے کارکنوں کے خلاف
مقدمہ چل سکے
بحث کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی
کہ پولیس نے واقعہ کی رپورٹ خود مبینہ اشتعال اانگیز تقریر کے60گھنٹے
بعد درج کی اور گواہ نہیں ملنے کی وجہ سے چارج شیٹ90دنوں کے بجائے
ایک سال بعد داخل کی
واضح رہے کہ کوتوالی پولیس نے17
ستمبر2001کو ڈاکٹر فلاحی اور گیارہ دیگر اراکین کے خلاف معاملہ درج
کیا
تھا پولیس کا کہنا تھا کہ ان لوگوں
نے سرسید گرلس کالج بہرائچ میں ایک اجتماع کے دوران اشتعال
انگےز تقریریں کی تھیں ۔اس وقت ڈاکٹر فلاحی سمیت تمام12ملزمین
ضمانت پر رہا ہیں ۔جس وقت مذکورہ پروگرام چل رہا تھا اس وقت امن و
قانون برقرار رکھنے کے لئے وہاں مجسٹریٹ کے علاوہ مناسب تعداد میں
پولیس فورس بھی موجود تھی
لیکن سیمینار ختم ہونے کے60گھنٹے
بعد کوتوالی پولیس نے اپنی طرف سے بغاوت کے ایک معاملہ درج
کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی سمیت 12لوگوں کو نامزد کیا
قبل ازیں سیمی کے کارکنوں کو اس وقت تھوڑی راحت ملی تھی جب
وزیراعلی ملائم سنگھ یادیو نے تنظیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا
کہ اس کے کسی دہشت گرد تنظیم سے روابط نہیں ہیں
واضح رہے کہ مرکز کی متحدہ ترقی
پسند اتحاد حکومت سیمی کے خلاف عائد پابندی گزشتہ اپریل میں
مزید چھ ماہ کے لئے بڑھا چکی ہے۔ دوسری طرف ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے
بعد سیمی کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ |