Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 24 September 2006 23:01 (PST)اشاعت

اب ہو گی پاکستان کے خلوص کی آزمائش:منموہن

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

نائب وزیر اعظم کی تقرری خارج از امکان: ۔ سونیا

دہشت پسندی کی روک تھام کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ میکانزم پر تنقید کو ’قطعی بے بنیاد‘ بتاکر مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ یہ ادارہ جاتی اس لئے بنایاگیا ہے کہ اس لعنت کی روک تھام کی کوششوں میں پاکستان کے خلوص کی بھی آزمائش کی جاسکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے ذریعہ جموں و کشمیر سمیت تمام دیرینہ حل طلب مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے

کنکلیوکے خاتمے پر یہاں  صدر کانگریس سونیاگاندھی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ابھی حال ہی میں  انہوں نے ناوابستہ چوٹی کانفرنس کے دوران الگ سے ہوانا میں  پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے ساتھ ثمر آور میٹنگ کی

امریکہ میں  جنرل پرویز مشرف کے اس حالیہ بیان پر کہ ہندوستان اور پاکستان مسئلہ کو حل کرنے کے قریب ہیں  رائے زنی کرتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ’مجھے اس بات کا علم نہیں  ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے کیا کہا لیکن ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر سمیت تمام دیرینہ حل طلب مسائل پر پاکستان کے ساتھ جامع مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری رکھیں گے

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں  اپنے موقف کو قابل قبول بنانے کی صورتیں وضع کرنی ہوں گی۔‘دہشت پسندی مخالف میکانزم پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی بہت سخت تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے مگر اس کے باوجود ’ ہمیں ایک  دوسرے سے بات کرنی ہوگی۔‘اس سلسلے میں وزیر اعظم نے اس کی یاددلائی کہ جنگ کرگل کے باوجود مسٹر واجپئی نے2001 میں پرویزمشرف کو آگرہ بلایا تھا اور پارلےمنٹ پر دہشت پسندانہ حملہ کے فوراََ بعد کٹھمنڈو میں سارک سربراہ کانفرنس کے دوران جنوری2002 میں  پاکستانی لیڈر سے مصافحہ کیاتھا

مسٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ جنوری2004میں  مسٹر واجپئی اسلام آباد بھی گئے جہاں انہوں نے پھر ایک بار پرویز مشرف سے ملاقات اور ایک مشترکہ بیان جاری کرکے اعلان کیا  کہ ہمارے دونوں ملکوں کو دہشت پسندی سمیت تمام مسائل پر قابو حاصل کرنا ہوگا

وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد میں شریک پارٹیوں اور بائیں  بازو کی پارٹیوں کے درمیان کسی اتفاق رائے پر پہنچنے کے بعد سرکاری زمرے کے اداروں سے سرمایہ کشی کے عمل کا احیاء کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

یہاں ایک پریس  کانفرنس میں وزیر اعظم نے کہا ’ہم لوگ اس سوال پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘انہوں نے کہا کہ نالکو اور نیوویلی لگنائٹ کارپوریشن سے سرمایہ نکالنے کی تجویز ترقی پسند اتحاد میں شامل پارٹیوں کے درمیان  اتفاق کی وجہ سے روک رکھی گئی ہے لیکن  بات چیت جاری رکھی جائے گی

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دہشت پسندی کی لعنت سے نپٹنے کے لئے انسداد دہشت پسندی قانون (پوٹا) کے احیاء کو امکان سے بعید قرار دیا ہے
اس دوران صدر کانگریس سونیا گاندھی نے ترقی پسند اتحاد حکومت میں  نائب وزیراعظم کی تقرری کو امکان سے بعید قرار دیا جبکہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہاکہ ان کی کابینہ میں وزیرخارجہ کی خالی جگہ جلد ہی پر کی جائے گی

دونوں لیڈر کانگریسی وزرائے اعلی کے دو روزہ کنکلیو کے خاتمے پر یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے

جب ایک صحافی نے وزیراعظم سے اس طرح کی قیاس آرائیوں پر جواب مانگا کہ جلد ہی ایک نائب وزیراعظم کی تقرری عمل میں آسکتی ہے تو مسز گاندھی نے اس سوال کا جواب دیا اور کہا ’بالکل نہیں ۔ نائب وزیراعظم نہیں بنایا جائے گا ، میں یہ بات پوری شدت سے کہہ رہی ہوں‘۔ اس کے بعد ڈاکٹر سنگھ نے کہاکہ مناسب وقت آنے پر وزیرخارجہ کی تقرری کی جائے گی

ذرائع ابلاغ میں ادھر بہت دنوں سے ایسی قیاس آرائیوں کا زور ہے کہ وزیردفاع پرنب مکھرجی کو نائب وزیراعظم بنایا جائے گا مگر آج مسز گاندھی نے ان قیاس آرائیوں کا سلسلہ ہی ختم کرڈالا۔مسٹر منموہن سنگھ نے برازیل اور کیوباکے دورے پر اپنے ساتھ جانے والے صحافیوں  سے کہا تھا کہ 18 ستمبر کو لوٹ کر آنے کے بعد ہی نیا وزیرخارجہ مقرر کریں گے

حکمراں ترقی پسند اتحاد کی تائید سے تلنگانہ راشٹریہ  سمیتی کے دستکش ہونے کے ایک  دن بعد صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہا کہ آندھرا پردیش میں  تلنگانہ نامی الگ ریاست کے سوال پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش میں کانگریس سرگرم رہے گی۔

پریس  کانفرنس میں  مسز گاندھی نے کہا ’ہم لوگوں نے تلنگانہ کا معاملہ بالائے طاقت نہےں رکھا۔ ہم نے ان لوگوں کو دھوکا نہیں دیا۔‘مسز گاندھی نے کہا کہ کانگریس اور ترقی پسند اتحاد نے تلنگانہ کے سوال پر اتفاق رائے کے حصول کے لئے سخت کوششیں کیں ۔وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیردفاع پرنب مکھرجی نے اس سلسلہ میں پیشقدمی کیں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ راشٹریہ  سمتی کے لئے دروازے اب بھی کھلے ہیں ۔ ٹی آر ایس جب چاہے ترقی پسند اتحاد میں لوٹ سکتا ہے

اس بیچ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے کہاکہ انہوں نے اس کا فیصلہ نہیں  کیا ہے کہ کیاوہ پھر ایک بار قومی مشاورتی کونسل کی سربراہ بنیں گی۔کانگریس وزرائے اعلی کے کنکلےو کے بعد یہاں ایک پریس کانفرنس میں  مسز گاندھی نے کہا کہ ’میں اس کا فیصلہ نہیں کیا ہے کہ پھر قومی مشاورتی کونسل کی صدارت سنبھالوں گی یا نہیں جس وقت کوئی فیصلہ کروں گی، آپ کو بتادوں گی

‘ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا آپ کونسل کی صدر بنیں گی۔‘ واضح رہے کہ منافع بخش عہدے کا تنازع ابھرنے کے بعد مارچ میں انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا۔اس سوال پر مسز گاندھی نے اپنا لوک سبھا سمیت سے بھی استعفی دے دیا تھا۔ اب وہ رائے بریلی سے پھر منتخب ہوئی ہیں

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات