|
ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے
یہاں ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب
کرتے ہوئے ممبئی کے پولیس کمشنر اے این رائے نے کہا کہ یہ مسلسل
دھماکہ پاکستان کو مرکز بناکر سرگرم لشکر طیبہ اور ممنوعہ تنظیم
سٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا(سیمی) کا کارنامہ ہیں۔اس حملہ میں
11 پاکستانی شہریوں اور 12 ہندوستانیوں نے حصہ لیا
مسٹر رائے نے بتایا کہ
تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ان دھماکوں کے لئے پیسہ بھی پاکستان سے
آیاتھا۔ براہ سعودی عرب یہ پیسہ پاکستان سے ممبئی میں ایک انتہاپسند
کو پہنچایا گیا۔پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس حملہ میں حصہ لینے والے
بیشتر پاکستانی اور ہندوستانی انتہاپسندوں کو بہاولپور کے ایک کیمپ
میں تربیت دی گئی تھی
لشکر طیبہ کے ہندوستان میں
سرگرمیوں کے کمانڈر اعظم چیمہ نے ان لوگوں کو ٹرےننگ دی۔ اعظم
چیمہ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہندوستان کے خلاف کارروائیاں کرتا
ہے۔مسٹر رائے نے اور دہشت پسندی مخالف دستہ کے سربراہ کے پی رگھوونشی
نے کہا کہ سراغرسانوں کو ابھی تک 11 جولائی کے ممبئی ٹرین دھماکوں
اور 11 ستمبر کے نیو یارک حملہ کے درمیان کسی رابطہ کی کڑی نہیں ملی
ہے
ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس سے
ممبئی کے ٹرین دھماکوں میں القاعدہ کا ہاتھ ظاہر ہو۔سازش کے
زاویہ پر رائے زنی سے انکار کرتے ہوئے سراغرسانوں نے 11 جولائی کے
دھماکوں اور 1993 میں ممبئی کے مسلسل بم دھماکوں کے درمیان بھی کوئی
تعلق امکان سے نعید قرار دے دیا۔ البتہ مسٹر رائے نے یہ ضرور کہا کہ
ابھی اس زاوئیے سے چھان بین جاری ہے
مسٹر رائے کے مطابق دہشت پسندی
مخالف دستے کو 11 جولائی کے ممبئی ٹرین دھماکوں اور 8 ستمبر کو
مالےگاووں میں ہونے والے دھماکوں اور اورنگ آباد میں بڑی
مقدار میں آر ڈی ایکس کی ضبطی کے درمیان کوئی تعلق نہیں نظر
آرہا۔لیکن ان پولیس افسروں نے اس کی توثیق کردی کہ ترینوں میں
دھماکے کرنے کے لئے جو غیر روائتی بم رکھے گئے تھے ان میں آر ڈی ایکس
اور ایمونیم نائٹریٹ ملا ہوا تھا۔ یہ تمام آئی ای ڈی پریشرکوکر کے
اندر رکھے گئے تھے
پولس کمشنر نے بتایا کہ ٹرینوں میں
دھماکہ لشکر طیبہ کے ہندوستان میں موجود تین انتہا پسند گروپوں نے
کئے۔ لیکن بموں میں استعمال کے لئے آر ڈی ایکس پاکستان سے
احسان اللہ نامی ایک شخص لایا تھا۔ 15 سے 20 کلو آر ڈی
ایکستھا۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ کیا سارا آر ڈی ایکس ان
دھماکوں میں استعمال کردیا گیا۔لشکر کے ہندوستانی گروپ کے
سربراہوں کے نام میرا روڈ ممبئی کے فضل شیخ، مدھوبنی (بہار) کے کلیم
الدین انصاری اور سیمی کی مہاراشٹر یونٹ کے جنرل سیکرٹری
احتشام صدیق ہیں
صدیق بھی میرا روڈ پر رہتا تھا۔ان
لوگوں نے الگ الگ راستوں سے 11 پاکستانیوں کے ہندوستان پہنچنے میں
مدد دی۔ دو پاکستانی نیپال سے آئے۔ عبدالمجیدکی قیادت میں 5 بنگلہ
دیش کے راستے ہندوستان پہنچے اور چار براہ گجرات ممبئی تک پہنچے۔ کل
عبدالمجید کو کلکتہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔یہ لوگ 25 مئی سے ہی آنے
لگے تھے
فضل شیخ نے ان لوگوں کی رہائش کے
انتظامات ملاڈ، بوری ولی (ایسٹ)، ممبرا اور باندرہ میں کئے تھے۔بم
رکھنے والوں کے سات گروپ بنائے تھے۔ ہر گروپ میں دو افراد تھے۔ ایک
ہندوستانی ایک پاکستانی، ان لوگوں نے پریشرکوکروں میں بم بنائے
اور ایک بیگ کے اندر رکھ کر لوکل ٹرینوں کے فرسٹ کلاس کوچ میں
چھوڑ گئے
کل ملا کر 8 پریشر کوکر خریدے گئے
تھے۔ آٹھواں کوکر ابھی تک نہیں ملا ہے
سات ہندوستانی ملزموں میں سے چار فضل شیخ، کمال الدین انصاری، احتشام
صدیقی اور نوید کو گرفتار کیاجاچکا ہے
بم رکھنے والے سات پاکستانیوں میں
سے ایک لاہور کا باشندہ سلیم دھماکے میں مارا گیا۔ اس کی لاش ٹھنڈا
گھر میں رکھی ہے۔ایک پاکستانی دہشت پسند انٹوپ بل تصادم میں
مارا گیا وہ بھی 11 دراندازوں میں ایک تھا تھا لیکن یہ نہیں
معلوم ہوسکا کہ وہ بم رکھنے والوں میں تھا بھی یا نہیں ۔ اس ہلاک شدہ
شخص کا نام محمد علی عرف ابواسامہ عرف ابوعمر ہے۔ بقیہ 9
پاکستانی بھاگ گئے۔ بہت ممکن ہے کہ پاکستان واپس چلے گئے ہوں مگر
تحقیقات ابھی بھی جاری ہے
جن تین ہندوستانی بم رکھنے والوں کی
تلاش جاری کئے ان کے نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے مسٹر رائے نے
کہا کہ ان میں سے ایک ’جلد‘ پکڑا جائے گا۔یوں تو اس کیس میں
ابھی تک کل ملا کر 15 افراد گرفتار کئے گئے ہیں لیکن ان میں
صرف تین وہ ہیں جنہوں نے بم رکھے تھے۔گرفتار شدگان کے نام کمال احمد
انصاری، خالد عزیز شیخ ، ممتاز چودھری، ڈاکٹر تنویرانصاری، ضمیر شیخ
، سہیل عبدالغنی شیخ ، فیصل رحمان شیخ، مزمل شیخ، احتشام صدیقی، محمد
ساجد انصاری، محمد شفیع، عبدالواحد الدین محمد ماجد، اکمل ہاشمی،
محمد نوید ہیں
۔پولس کمشنر نے کہا کہ ان میں سے
تین ایسے ہیں جن کے خلاف اگر توثیقی ثبوت نہیں ملے تو انہیں
چھوڑ دیا جائے گا |