|
میمن شامل ہیں جبکہ سلیمان میمن،
حنیفہ میمن اور راحین میمن کو بری کر دیا گیا ہے
یعقوب میمن گزشتہ دس برس سے
جیل میں ہیں۔ عدالت جب یہ فیصلہ سنا رہی تھی اس وقت یعقوب عدالت میں
موجود تھے۔ فیصلہ سنتے ہی وہ عدالت پر بر ہم ہوگئے۔ انکا کہنا تھا کہ
’یہاں بے قصوروں کو دہشت گرد بنایا جا رہا ہے، یہاں سب ڈرامہ چل رہا
ہے
ممبئی کے1993کے سلسلہ وار بم
دھماکوں کے اصل ملزم ےعقوب مےمن کو یہاں ٹاڈا کی نامزد عدالت کے جج
پی ڈی کوڈے نے جب قصوروار ٹھہرایا تو یعقوب میمن نے عدالت میں
چیخ چیخ کرکہا کہ آپ لوگ بے قصور لوگوں کو قصوروار ٹھہرا کر انہیں
دہشت گرد بننے پر مجبور کررہے ہیں
مسٹر میمن نے آج عدالت سے یہ اپیل
بھی کی کہ قصوروار ٹھہرائی گئی ان کی بیوی روبینہ میمن کو جیل
حکام کے سامنے حوالگی کے لئے وقت دیا جائے کیونکہ اس پر چھوٹے بچوں
کی دیکھ بھال اور بیمار ساس کی تیمارداری کی ذمہ داری ہے
لیکن عدالت نے یہ درخواست یہ
کہتے ہوئے مسترد کردی کہ قانون کے تحت ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ
قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد کسی ملزم کو خود کو حوالے کرنے کے لئے
وقت دیا جائے
۔12مارچ1993کو سلسلہ وار بم دھماکوں
سے ممبئی دہل گیا تھا جس میں 252افراد ہلاک اور سات سو سے زیادہ زخمی
ہوئے تھے۔خیال رہے کہ یعقوب اور ان کی فیملی کے ارکان دھماکوں کے بعد
ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ لیکن اعلیٰ سیاسی رہنماوں کی یقین دہانی کے
بعد انہوں نے خودسپردگی کردی تھی اور انہیں امید تھی کہ شاید عدالت
ان کے ساتھ نرمی برتے
ٹائگر میمن نے یعقوب کو ہندوستان
واپس آنے سے منع کیا تھا۔ یعقوب میمن کا شمار ممبئی کے بہترین چارٹرڈ
اکاونٹنٹس میں ہوتا تھا اور انہیں ایک ذہین شخص سمجھا جاتا تھا
عدالت کے باہر سرکاری وکیل اجول نگم
نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جو لوگ
اس واقعہ میں براہ راست ملوث تھے ان کی سزاوں کا تعین جلد سے جلد کیا
جائے
انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سزائیں
دینے کا عمل بھی کل سے شروع ہو جائے گا۔مافیا ڈان داود ابراہیم، ان
کے بھائی انیس ابراہیم، ٹائگر میمن اور ان کے کئی ساتھی اس واقعہ کے
اصل ملزم بتائے جاتے ہیں۔ یہ سبھی ملک سے فرار ہیں۔
|