|
اجازت کے بغیر نکالی
ریلی کے دوران اشتعال انگیزی کا
مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسجد پھر پتھرائو کردیا گیا اوربازار میں افطار
کا سامان فروخت کرنے والی دکانوں کو شدید نقصان پہنچایاگیا
اس درمیان کم ازکم 60افراد زخمی
ہوگئے جس میں 10پولس اہلکار بھی شامل ہیں
پولس کا کہنا ہے کہ اس نے
بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کرنے سے قبل آنسوگیس کے
تقریباً 7گولے داغے
پولس سپرنٹنڈنٹ فتح سنگھ نے بتایا
کہ فساد برپاکرنے کی کوشش کے الزام میں 37افراد گرفتار کئے گئے
ہیں۔واضح رہے کہ ’چھاوا‘نامی طلباء تنظیم ریاست میں مذہبی خطوط پر
ریزرویشن کے مطالبے کے خلاف زبردست مخالفت کررہی ہے اور جلسے جلوس کا
اہتمام کیاجارہا ہے
خیال رہے کہ اسی سلسلے میں آج
متنازعہ این سی پی ممبراسمبلی شالنی تائی پاٹل کا ایک جلسہ یہاں
منعقد ہونا تھاجس کی پیشگی کوئی اجازت انتظامیہ سے نہیں لی گئی تھی
اس پر مستزاد یہ کہ جلوس میں شامل لوگوں نے مہلک ہتھیار ، تلواریں
اورلوہے کی سلاخیں لہراتے دیکھے جارہے تھے
جلوس نے شرپسندی کا مظاہرہ اس وقت
کیا جب وہ لوگ عابدین مسجد کے پاس پہنچے۔پہلے سے ہی مسلمانوں کے خلاف
کھلے عام نعرے بازی کررہا یہ جلوس مسجد کے قریب پہنچ کر طوفان
بدتمیزی پرآمادہ ہوگیا اورمسجد پر سنگ باری شروع کردی گئی
مقامی لوگوں کے بقول ممبراسمبلی کی
گاڑیوں میں پہلے سے ہی بڑی تعداد میں پتھررکھے ہوئے تھے اورانہوں نے
ہاتھاپائی کے درمیان سنگ باری شروع کردی
|